مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ عسکری دستاویز ہی نہیں خطے میں ابھرتے ہوئے نئے تزویراتی توازن کا اظہار ہے۔ مشرقِ وسطی، جنوبی ایشیا اور عالمی سیاست میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں نے روایتی سکیورٹی تصورات کو چیلنج کیا ہے، اور اسی پس منظر میں اس معاہدے کی اہمیت کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔معاہدے کی بنیادی روح اجتماعی سلامتی کا تصور ہے۔ تینوں ممالک نے اس اصول پر اتفاق کیا ہے کہ کسی ایک رکن کو لاحق سنگین سلامتی کا خطرہ سب کے لیے تشویش کا باعث ہوگا۔ اگرچہ ترک قیادت نے اس کی بعض شقوں کو نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مشابہ قرار دیا ہے، تاہم اس کا مطلب ہر صورت مشترکہ فوجی کارروائی نہیں بلکہ حالات کے مطابق سیاسی، سفارتی، انٹیلی جنس یا عسکری تعاون کی مختلف صورتیں اختیار کی جا سکتی ہیں۔ معاہدے کے نفاذ کے لیے وزارتی سطح کے مستقل نظام اور سعودی عرب میں سیکریٹریٹ کے قیام کی تجویز اس امر کا اشارہ ہے کہ اسے علامتی اعلان تک محدود رکھنے کے بجائے مثر ادارہ جاتی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ معاہدہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، لیکن اگر مستقبل میں مصر سمیت دیگر اہم مسلم ممالک اس میں شامل ہوتے ہیں اور مشترکہ کمان، فضائی دفاع، بحری سلامتی، انٹیلی جنس تعاون اور باقاعدہ مشترکہ فوجی مشقوں کا نظام قائم ہو جاتا ہے تو یہ ایک وسیع علاقائی سکیورٹی فریم ورک کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ اسی تناظر میں بعض حلقے اسے مستقبل کے ممکنہ “اسلامک نیٹو” کا ابتدائی خاکہ بھی قرار دے رہے ہیں۔پاکستان کیلئے اس معاہدے کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ وہ اب صرف کسی بڑی طاقت کا سکیورٹی شراکت دار نہیں بلکہ تین اہم مسلم ممالک کے درمیان ابھرنے والے نئے دفاعی توازن کا مرکزی کردار بن رہا ہے۔ ستمبر 2025 میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے اسٹریٹجک دفاعی معاہدے نے اس بنیاد کو استوار کیا تھا، جبکہ مکہ معاہدہ اسی تعاون کو ترکیہ تک وسعت دیتا ہے۔پاکستان کی اہمیت اس لیے بھی نمایاں ہے کہ وہ ایٹمی صلاحیت رکھنے والی ریاست ہونے کے ساتھ تجربہ کار اور پیشہ ور فوج رکھتا ہے۔ دوسری جانب ترکیہ نے دفاعی صنعت، ڈرون ٹیکنالوجی اور جدید عسکری سازوسامان میں غیر معمولی پیش رفت کی ہے، جبکہ سعودی عرب کے پاس مالی وسائل، توانائی کی طاقت اور غیر معمولی جغرافیائی اہمیت موجود ہے۔ ان تینوں ممالک کی صلاحیتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں، اور یہی اس معاہدے کا سب سے بڑا تزویراتی سرمایہ ہے ۔ اگرچہ اس معاہدے پر مذاکرات کئی برس سے جاری تھے، لیکن ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے اس عمل کو نئی رفتار دی۔ حالیہ علاقائی بحرانوں میں سعودی عرب نے براہِ راست تصادم سے گریز کرتے ہوئے اپنی سلامتی کے لیے زیادہ متوازن حکمت عملی اختیار کی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ریاض مستقبل میں اپنی سلامتی کو کسی ایک عالمی طاقت پر انحصار کرنے کے بجائے متعدد علاقائی شراکت داروں کے ذریعے مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان اور ترکیہ اسی نئی حکمت عملی کے اہم ستون بن کر سامنے آئے ہیں۔معاہدے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اسے کسی مخصوص ملک کے خلاف اتحاد کے بجائے علاقائی استحکام کے پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا جائے۔ ترکیہ واضح کر چکا ہے کہ یہ معاہدہ ایران یا کسی دوسرے ملک کے خلاف نہیں۔ پاکستان کے لیے بھی یہ مقف ہی زیادہ سودمند ہے، کیونکہ تہران کے ساتھ متوازن تعلقات اسلام آباد کی خارجہ پالیسی کا اہم تقاضا ہیں۔ اگر پاکستان ایک طرف سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون کو فروغ دیتا رہے اور دوسری طرف ایران کے ساتھ سفارتی رابطے برقرار رکھے تو وہ خطے میں مفاہمت کا موثر کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔جنوبی ایشیا میں بھی اس معاہدے کے اثرات نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان بڑھتا ہوا دفاعی تعاون خطے کے تذویراتی ماحول کو یقینا متاثر کرے گا۔ اس سے پاکستان کی سفارتی پوزیشن مضبوط ہوگی اور اس کے دفاعی مفادات کو نئی تقویت ملے گی۔ تاہم اس کا مقصد طاقت کا توازن برقرار رکھنا ہونا چاہیے، نہ کہ محاذ آرائی کو فروغ دینا۔ مضبوط دفاع کا حقیقی مقصد جنگ کے امکانات کم کرنا اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہوتا ہے۔پاکستان کے لیے اس معاہدے کے فوائد صرف عسکری شعبے تک محدود نہیں۔ دفاعی صنعت، مشترکہ تحقیق، ڈرون ٹیکنالوجی، فضائی دفاع، انٹیلی جنس تعاون، بحری سلامتی، عسکری تربیت اور مشترکہ پیداوار جیسے شعبوں میں وسیع امکانات موجود ہیں۔ سعودی سرمایہ، ترک دفاعی مہارت اور پاکستان کی انسانی صلاحیت اور عسکری تجربہ ایسا اشتراک پیدا کر سکتے ہیں جو نہ صرف قومی دفاع ،معیشت اور ٹیکنالوجی کے لیے بھی نئے دروازے کھولے۔البتہ خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر اس معاہدے کو کسی خاص ملک کے خلاف فوجی اتحاد کے طور پر پیش کیا گیا تو ایران کے ساتھ تعلقات پیچیدہ ہو سکتے ہیں، جبکہ جنوبی ایشیا میں اسلحے کی دوڑ بھی تیز ہو سکتی ہے۔ اسی طرح اگر یہ تعاون صرف سیاسی بیانات تک محدود رہا اور مشترکہ ادارے، عملی منصوبے اور مستقل تعاون وجود میں نہ آ سکے تو اس کی افادیت محدود رہ جائے گی۔اصل امتحان اب دستخطوں کا نہیں اب عمل درآمد کا ہے۔ پاکستان کو اس تاریخی موقع کو ا جامع ریاستی حکمت عملی میں تبدیل کرنا ہوگا، جس میں سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی شراکت داری، ایران کے ساتھ متوازن سفارت کاری، چین کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون اور امریکہ کے ساتھ ضروری روابط، سب متوازن خارجہ پالیسی کا حصہ ہوں۔ مکہ معاہدہ آنیوالے برسوں میں اعتماد ، مشترکہ دفاع اور علاقائی استحکام کے ایک مضبوط ادارے کی شکل اختیار کر لیتا ہے تو یہ پاکستان کی خارجہ اور دفاعی تاریخ کا اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ یہ وہ موقع ہے جس نے پاکستان کو مسلم دنیا کے ذمہ دار، بااعتماد اور مثر تذویراتی شراکت دار کے طور پر نئی شناخت عطا کرنے کی صلاحیت پیدا کی ہے۔ اس موقع سے دانش مندی، توازن اور دوراندیشی کے ساتھ فائدہ اٹھانا ہی پاکستان کی اصل کامیابی ہوگی۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں