بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 24.2°C
Sunday, 16 August 2026 | پاکستان: 4 ر بیع الاول 1448

امریکہ ایران تنازع۔پاکستان کی کامیاب سفارتکاری

Sunday, 16 August, 2026

یہ امر قابل توجہ ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی عالمی سیاست کے پیچیدہ ترین تنازعات میں شمار ہوتی ہے اوردونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان، خطے میں مختلف مفادات، جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی اور باہمی اسٹریٹجک اختلافات نے اس تنازع کو اس قدر پیچیدہ بنا دیا ہے کہ کسی بھی تیسرے ملک کیلئے دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانا ایک غیر معمولی سفارتی چیلنج ہے۔سنجیدہ مبصرین کے مطابق ایسے حالات میں پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کو محض ایک معمول کی سفارتی سرگرمی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔اسی تناظر میں جنوبی ایشیائی امور پر معروف تجزیاتی پلیٹ فارم ** جنوبی ایشیاکی آوازیں** میں شائع ہونیوالے ایک تجزیے نے پاکستان کے اس کردار کا ایک اہم اور نسبتاً غیر جانب دار جائزہ پیش کیا ہے۔ تجزیے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اگر مستقبل میں امریکہ اور ایران کے درمیان امن عمل کو مشکلات کا سامنا ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری پاکستان پر عائد نہیں کی جانی چاہیے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات اتنے گہرے اور اسٹریٹجک نوعیت کے ہیں کہ کسی تیسرے فریق کی ثالثی انہیں راتوں رات ختم نہیں کرسکتی۔یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ پاکستان کی سفارتی مداخلت ایسے وقت میں سامنے آئی جب امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع ایک انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہوچکا تھا۔ تنازعات کے حل کے ماہرین ایسے مرحلے کو ”باہمی طور پر تکلیف دہ تعطل” قرار دیتے ہیں، یعنی ایسی صورت حال جہاں فریقین کو یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ مسلسل محاذ آرائی کی قیمت مذاکرات کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ یہی وہ موقع ہوتا ہے جب ایک قابلِ قبول ثالث دونوں فریقوں کو بات چیت کی طرف لانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔پاکستان کیلئے اس معاملے میں سب سے اہم طاقت اس کی جغرافیائی اور سفارتی پوزیشن ہے۔یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ پاکستان ایران کا ہمسایہ ہے، امریکہ کے ساتھ اس کے کئی دہائیوں پر محیط سفارتی تعلقات ہیں اور مسلم دنیا میں بھی اسے ایک اہم ملک کی حیثیت حاصل ہے۔ چنانچہ اسلام آباد کے پاس وہ رسائی موجود ہے جو بہت سے دوسرے ممالک کے پاس نہیں۔ تجزیے میں پاکستان کی اس صلاحیت کو جغرافیائی پوزیشن سے حاصل ہونیوالا سفارتی سرمایہ قرار دیا گیا ہے۔سفارتی ماہرین کے بقول پاکستان نے اس معاملے میں طاقت یا معاشی دباؤ کے بجائے رابطے، اعتماد، رسائی اور وقت کی مناسبت کو اپنی طاقت بنایا۔ یہی حکمت عملی کسی بھی کامیاب ثالثی کی بنیادی ضرورت ہوتی ہے۔علاوہ ازیں پاکستان نے خود کو کسی ایک فریق کے کیمپ میں کھڑا کرنے کے بجائے ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کیا جو دونوں طرف سے بات کرسکتا ہے اور مذاکرات کیلئے قابل قبول ماحول فراہم کرسکتا ہے۔یہ کردار پاکستان کی سفارتی تاریخ سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔1971 میں بھی پاکستان نے امریکہ اور چین کے درمیان خفیہ سفارتی رابطے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس وقت اسلام آباد نے امریکی قومی سلامتی کے مشیر ہنری کسنجر کے چین کے خفیہ دورے کیلئے راستہ فراہم کیا تھا۔ بعد ازاں یہی رابطہ امریکہ اور چین کے تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی کا نقطہ آغاز بنا۔ آج امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے کے تناظر میں پاکستان کا کردار اسی تاریخی سفارتی روایت کی ایک نئی مثال کے طور پر سامنے آتا ہے۔یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان کا کردار کسی مستقل امن معاہدے کی ضمانت نہیں تھا۔ ثالث یا سہولت کار کا بنیادی کام فریقین کے درمیان رابطے کے دروازے کھولنا، مذاکرات کیلئے ماحول پیدا کرنا اور کشیدگی کم کرنے کے مواقع پیدا کرنا ہوتا ہے اور اصل فیصلے بہرحال متعلقہ فریقوں کو ہی کرنا ہوتے ہیں۔پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں جنگ بندی اور براہ راست رابطے کی راہ ہموار ہونا اسی تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔ سنجیدہ حلقوں کے مطابق اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی نمائندوں کے درمیان 20 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد اعلیٰ سطح کے براہ راست رابطے کی ایک غیر معمولی مثال تھے۔ اس پیش رفت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری بداعتمادی کے باوجود دونوں فریق ایک ہی میز پر بیٹھے۔اسی تناظر میں بعض حلقوں کی جانب سے یہ توقع رکھنا کہ پاکستان چند سفارتی ملاقاتوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے تمام بنیادی اختلافات ختم کرا دیگا، حقیقت پسندانہ نہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کی جڑیں کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔دونوں ممالک اپنے اپنے اسٹریٹجک مفادات، علاقائی ترجیحات اور سلامتی کے تصورات رکھتے ہیں۔ ان اختلافات کا حل بنیادی طور پر واشنگٹن اور تہران کے فیصلوں سے مشروط ہے۔مبصرین کے مطابق پاکستان کی کامیابی کو اسی پیمانے سے پرکھا جانا چاہیے۔ اگر اسلام آباد نے دو متحارب فریقوں کے درمیان رابطے کا ایک راستہ کھولا، کشیدگی میں کمی کیلئے ماحول فراہم کیا اور مذاکرات کی میز تک پہنچنے میں سہولت دی تو یہ بذات خود ایک اہم سفارتی کامیابی ہے ۔ جنوبی ایشیائی خطے میں اپنی جغرافیائی حیثیت، مسلم دنیا میں اہم مقام اور عالمی طاقتوں کے ساتھ سفارتی روابط کو بروئے کار لاکر اسلام آباد نے ثابت کیا ہے کہ درمیانے درجے کی طاقت بھی عالمی سفارت کاری میں موثر کردار ادا کرسکتی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بنیادی اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن ان اختلافات کے باوجود رابطے کا دروازہ کھولنا ایک معمولی کامیابی نہیں۔ مبصرین کے بقول پاکستان نے کم از کم یہ ثابت کیا ہے کہ وہ تنازع کا فریق بننے کے بجائے امن کیلئے ایک پل کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *