بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 24.1°C
Monday, 17 August 2026 | پاکستان: 5 ر بیع الاول 1448

افغانستان میں انسانی سمگلنگ

Monday, 17 August, 2026

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں انسانی بحران سنگین،شہری انسانی سمگلنگ، اعضا کی فروخت اور جبری مشقت کا شکار ہیں اورطالبان رجیم کی ناکام معاشی پالیسیوں نے افغانستان کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا، انسانی سمگلنگ اور شہریوں کا استحصال عروج پرپہنچ گئی ہے۔اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم اور بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں انسانی سمگلنگ، استحصال اور جبری مشقت کا خطرہ غیر معمولی حد تک بڑھ گیا ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق مہاجرین کی واپسی، معاشی زوال اور خواتین کے حقوق پر پابندیوں نے افغان شہریوں کو اسمگلروں کا آسان ہدف بنا دیا، حالیہ ریٹرنی ریزیلینس اوورویو سروے کے مطابق واپس آنیوالے افغان مہاجرین میں صرف 11 فیصد برسرروزگار، 56 فیصد بنیادی اخراجات پورے کرنے سے بھی قاصر ہیں ۔ شدید معاشی بحران نے افغان شہریوں کو قرض، جبری مشقت، جبری شادیوں اور اعضا کی اسمگلنگ جیسے سنگین استحصال کا شکار بنا دیا۔ جرائم پیشہ نیٹ ورکس دھوکے اور جبر کے ذریعے افغان شہریوں کو اسکیم آپریشنز اور آن لائن فراڈ میں بھی جھونک رہے ہیں، آئی او ایم کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ کا کہنا ہے کہ ایشیا ء میں جرائم پیشہ گروہ سوشل میڈیا پر ملازمت کا جھانسہ دیکر لوگوں کو انسانی اسمگلنگ اور جسمانی و ذہنی استحصال کا شکار بنا رہے ہیں۔افغانستان میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسدادِ منشیات و جرائم کے نمائندے پولک اوکسری کے مطابق افغانستان میں انسانی اسمگلنگ کی روک تھام اور متاثرین کی شناخت کیلئے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیرہیں۔ افغانستان میں بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت کی چیف آف مشن می ہیونگ پارک نے خبردار کیا ہے کہ افغان مہاجرین کی غیر معمولی واپسی نے مقامی آبادی پر شدید دباؤ ڈال دیا، روزگار اور بنیادی سہولیات کی کمی سے لوگ غیر قانونی راستے اختیار کرنے پر مجبورہیں۔ طالبان رجیم کی ناقص حکمرانی، عالمی تنہائی اور منشیات پر مبنی معیشت نے افغانستان کو نارکو ٹیررزم اور خطے میں بڑھتے جرائم کا مرکز بنا چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم اور عالمی ادارہ برائے مہاجرت ے خبردار کیا ہے کہ ایران اور پاکستان سے وطن واپس آنیوالے افغان مہاجرین کو انسانی سمگلنگ، جبری مشقت اور استحصال کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔انسانی سمگلنگ کیخلاف 30 جولائی کو منائے جانیوالے عالمی دن کے موقع پر دونوں اداروں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ایسے بہت سے لوگ واپسی کے بعد جن علاقوں میں پہنچ رہے ہیں وہ پہلے ہی غربت، بنیادی سہولتوں کی کمی اور شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں جس کے باعث ان کے استحصال کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ خواتین، بچے، اندرون ملک بے گھر افراد اور وطن واپس لوٹنے والے مہاجرین انسانی سمگلنگ اور بدسلوکی کے حوالے سے کہیں زیادہ خطرات کا سامنا کرتے ہیں ۔ دونوں اداروں نے مہاجرین اور سمگلنگ کے متاثرین کو تحفظ دینے کیلئے مربوط اور موثر اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطرات کا شکار افراد کی بروقت نشاندہی، انہیں بہتر حفاظت اور امداد کی فراہمی کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور نظام انصاف کے درمیان موثر تعاون کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے۔’یو این او ڈی سی’ اور ‘آئی او ایم’ نے حکومتوں اور امدادی شراکت داروں پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی سمگلنگ کے خطرات سے متعلق شہریوں میں آگاہی پیدا کریں۔ خصوصاً ان علاقوں میں ایسا کرنا ضروری ہے جہاں شدید معاشی اور سماجی مشکلات پائی جاتی ہیں۔یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب افغانستان میں ہمسایہ ممالک سے بڑی تعداد میں شہری واپس آ رہے ہیں۔ مہاجرین کی واپسی نے پہلے سے جاری انسانی اور معاشی بحران کا سامنا کرنے والی مقامی افغان آبادی پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے جس کے نتیجے میں بہت سے خاندان محدود آمدنی، رہائش کے مسائل اور بنیادی سہولتوں کی کمی سے دوچار ہیں۔ اس خطرے پر قابو پانے کیلئے انسانی سمگلنگ کی بنیادی وجوہات کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے روزگار کے مواقع میں اضافے، تعلیم تک بہتر رسائی اور بنیادی خدمات کی فراہمی کو مضبوط بنانے پر زور دیا ہے تاکہ لوگوں کو استحصالی حالات کا شکار ہونے سے بچایا جا سکے۔ واپس آنیوالے بہت سے مہاجر خاندان مستقل رہائش، آمدنی اور سماجی تعاون سے محروم ہوتے ہیں۔ اگر خاندان بکھر جائیں یا انہیں غیر رسمی روزگار اور امدادی ذرائع پر انحصار کرنا پڑے تو خواتین اور بچوں کو مزید سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں ۔ دونوں اداروں نے زور دیا ہے کہ اکیلے افغانستان کیلئے انسانی سمگلنگ کے مسئلے پر قابو پانا ممکن نہیں۔ اس مقصد کیلئے ملکی اداروں، ہمسایہ ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے درمیان قریبی تعاون ضروری ہے تاکہ سرحد پار نقل و حرکت کے دوران خطرے سے دوچار افراد کی بروقت نشاندہی کی جا سکے، استحصال کو روکا جا سکے اور متاثرین کو مناسب تحفظ اور مدد فراہم ہو سکے۔ وطن واپس آنے والے افغان شہریوں کو درست معلومات، بنیادی سہولتوں اور موثر حفاظتی نظام تک رسائی دی جائے تاکہ وہ اپنی زندگی دوبارہ باوقار انداز میں شروع کر سکیں۔یہ انتباہ افغانستان کو درپیش وسیع تر انسانی بحران کی بھی عکاسی کرتا ہے، جہاں غربت، نقل مکانی اور محدود معاشی مواقع بہت سے کمزور اور بے سہارا افراد کو جرائم پیشہ گروہوں کے خطرے سے دوچار کر دیتے ہیں۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *