بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 24.1°C
Monday, 17 August 2026 | پاکستان: 5 ر بیع الاول 1448

کیا آئی ایم ایف سے نجات ممکن ہے

Monday, 17 August, 2026

ممکن تو ہے مگر جو کرتوت ہمارے ہیں انہیں دیکھنے سے نہیں لگتا کہ نجات ممکن ہے۔ ججز کی تنخواہیں کیا پہلے کم تھیں کہ ایک بار پھر ان کی تنخواہوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ریڈ زون میں روڈ بند کر کے بگھی چلاء گئی۔ ناروے کا فارن منسٹر عام مسافروں کے ساتھ بیٹھ کر اتا ہے اپنا سامان خود اٹھاتا ہے کیا ہم ایسا کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ ہمارے یہ جانتے ہی نہیں کہ آئی ایم ایف کس بلا کا نام ہے۔یہاں جب مہنگای ہوتی ہے تو اس کا نام لیا جاتا ہے آج کے کالم میں کوشش کروں گا کہ بتا سکوں کہ آئی ایم ایف ہے کیا۔ اس سے بنتا کیا ہے آئی سے مراد انٹرنیشنل ایم سے مونیٹری اور ایف سے مراد فنڈ ہے۔ یہ بین الاقوامی مالیاتی ادارہ ہے، 190 ممالک اس کے رکن ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد ایسے ممالک کی مالی مدد کرنا ادائیگیوں کے توازن کے بحران، زرمبادلہ کی کمی یا مالی مشکلات کا شکار ہو جائے۔ آئی ایم ایف سے ترقی پذیر اور بعض اوقات ترقی یافتہ ممالک بھی قرض لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان، ارجنٹائن، مصر، سری لنکا، بنگلہ دیش یوکرین، گھانا لبنان، گریس ،یورپی ممالک قرض بحران کے دوران ملک کی مالی ضرورت کے مطابق قرض لیتے ہیں مگر ان کی نوعیت اور رقم مختلف ہوتی ہے ۔آئی ایم ایف صرف اپنے رکن ممالک کو ہی قرض دیتا ہے۔ یہ کسی نجی کمپنی، فرد یا غیر رکن ملک کو قرض نہیں دیتا ۔آئی ایم ایف قرض دیتے وقت اپنی شرائط رکھتا ہے۔ آئی ایم ایف قرض کے ساتھ اکثر معاشی اصلاحات کی شرائط بھی رکھتا ہے، مثلا بجٹ خسارہ کو کم کرنا۔ٹیکس وصولی بڑھانا بجلی، گیس اور ایندھن پر سبسڈی کم یا ختم کرنا۔ بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں کو حقیقی لاگت کے مطابق کرنا۔ اس کے علاوہ وہ سرکاری اداروں میں اصلاحات یا بعض صورتوں میں نجکاری کرنے کو کہتے ہیں۔مگر ججز کی تنخواہیں اور مراعات پر کچھ نہیں کہتا مرکزی بینک کو زیادہ خودمختار بنانا۔زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے اور روپے کی قدر کو مارکیٹ کے مطابق رکھنے کی کوشش کرنے میں مدد دینا ہے حکومتی اخراجات میں کفایت شعاری کراتا ہے ۔ کیا ہر ملک کے لیے اس کی شرائط کیا ایک جیسی ہوتی ہیں؟ ایسا بلکل نہیں ہے۔ ہر ملک کے معاشی حالات کے مطابق شرائط مختلف ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان کیلئے رکھی گئی شرائط ضروری نہیں کہ مصر یا ارجنٹائن کے لے بھی وہی ہوں۔ بھارت نے بھی ماضی میں آئی ایم ایف سے کئی مرتبہ قرض لیا تھا مگر اب نہیں ۔ یہ تاثر درست نہیں کہ بھارت نے کبھی آئی ایم ایف سے قرض نہیں لیا۔ 1957 میں بھارت نے پہلا آئی ایم ایف پروگرام لیا۔پھر 1962، 1963 اور 1965 میں بھی قرض حاصل کرتا رہا ۔1981 میں بھارت نے اس وقت کا ایک بڑا قرض کا پروگرام لیا تھا۔19911993 میں شدید زرمبادلہ کے بحران کے دوران دوبارہ آئی ایم ایف سے قرض لیا تھا۔ اس وقت بھارت کے پاس صرف چند ہفتوں کی درآمدات کے برابر زرمبادلہ بچا تھا اور اسے سونا بھی بیرون ملک رہن رکھنا پڑا تھا۔ لیکن بھارت نے 1993 کے بعد آئی ایم ایف سے کوئی نیا قرض نہیں لیا۔اس نے تمام واجبات 2000 تک مکمل طور پر ادا کر دیے تھے 2002 میں بھارت آئی ایم ایف کے فنانشل ٹرانس سکشن پلان میں شامل ہوا اور 2003 سے وہ عملی طور پر آئی ایم ایف کو وسائل فراہم کرنے والے ممالک میں شمار ہونے لگا یعنی اب وہ خود آئی ایم ایف کے ذریعے دوسرے ممالک کو قرض دینے کے نظام میں حصہ ڈالتا ہے۔ بھارت نے 1991 کے بحران کے بعد معاشی اصلاحات، برآمدات میں اضافے، غیر ملکی سرمایہ کاری کیفروغ اور زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط کرنے پر توجہ دی، جس کے نتیجے میں اسے دوبارہ آئی ایم ایف سے قرض لینے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔سوچنے والی بات یہ ہے ہم نے ابھی تک آئی ایم ایف سے نجات کیوں نہیں پائی اس کا جواب یہ ہے کہ کسی ایک وجہ میں نہیں بلکہ کئی عوامل کے مجموعے میں اس سوال کا جواب ہے۔ پاکستان آئی ایم ایف پر بار بار انحصار کرتا کیوں ہے؟ اس لئے کہ یہاں کم ٹیکس وصولی ہوتی ہے پاکستان میں ٹیکس دینے والوں کی تعداد آبادی کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ لہٰذا حکومت کیاخراجات پورے کرنے کیلئے قرض لینا پڑتا ہے۔برآمدات کم اور درآمدات زیادہ ہیں تیل، مشینری اور دیگر اشیا کی درآمدات زیادہ ہیں۔اس سے زرمبادلہ کی کمی پیدا ہوتی ہے۔ بار بار مالیاتی خسارہ ہوتا ہے حکومت کی آمدنی سے اخراجات زیادہ ہوتے ہیں، اس لیے قرض لینا پڑتا ہے۔توانائی کے شعبے کے مسائل گردشی قرضہ، بجلی کی چوری اور ناقص وصولیوں نے مالی بوجھ بڑھاتی ہیں سیاسی عدم استحکام بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہے حکومتوں کی تبدیلی اور پالیسیوں کے تسلسل میں کمی سے بھی طویل مدتی معاشی اصلاحات متاثر ہوتی ہیں۔آئی ایم ایف پروگرام مکمل نہ کرنا کئی مواقع پر اصلاحات ادھوری رہیں، جس سے دوبارہ مالی بحران پیدا ہوا۔ بھارت نسبتا ہم سے بہتر ہے کہ بھارت نے 1991 کے شدید معاشی بحران ک بعد وسیع معاشی اصلاحات کیں، جن میں معیشت کو زیادہ کھولا گیا غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ برآمدات اور صنعت پر توجہ دی گئی۔انفارمیشن ٹیکنالوجی، ادویات اور خدمات کے شعبوں کو فروغ ملا۔ زرمبادلہ کے بڑے ذخائر بنائے گئے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں بھارت کو 1993 کے بعد آئی ایم ایف سے نیا قرض لینے کی ضرورت نہیں پڑی۔صرف بھارت ہی کامیاب نہیں ہوا ۔ساتھ کوریا انڈونیشیا براز یل جیسے ممالک نے بھی مختلف اوقات میں آئی ایم ایف سے قرض لیا، پھر اصلاحات کیں، اور بعد میں اپنی معاشی پوزیشن بہتر بنائی۔کیا وجہ ہے پاکستان ابھی تک آئی ایم ایف سے نجات حاصل نہیں کر سکا۔ ہم نے اس کی نجات کے لیضروری اقدامات نہیں کئے ۔سب سے پہلے ہمیں برآمدات میں نمایاں اضافہ کرنا ہو گا۔ پھر ٹیکس نظام میں اصلاحات اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے غیر ضروری سرکاری اخراجات میں کمی لانا ہوگی۔ توانائی کے شعبے کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ پھر پالیسیوں کا تسلسل، خواہ حکومت کوئی بھی ہو۔سرمایہ کاری اور صنعت کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہو گا یہ بھی ہمیں ذہن میں رکھنا چاہیے کہ معاشی ماہرین میں اس بات پر اختلاف پایا جاتا ہے کہ کون سی اصلاحات سب سے زیادہ ضروری ہیں یا آئی ایم ایف کی بعض شرائط کس حد تک فائدہ مند یا نقصان دہ ثابت۔ہوتی ہیں۔ تاہم اس بات پر کافی اتفاق ہے کہ مضبوط برآمدات، بہتر ٹیکس نظام، مالی نظم و ضبط اور پالیسیوں کا تسلسل کسی بھی ملک کی قرضوں پر انحصار کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر اء ایم ایف سے جان چھڑانی ہے تو یہ اقدامات ہمیں بھی کرنا ہونگے جن کا زکر کر چکا ہوں۔ اس میں صرف حکومت ہی نہیں عوام میڈیا کو بھی شامل ہونا پڑے گا۔ غیر ضروری پروٹوکول پنشن والوں کو دوبارہ نوکریاں دینا بند کرنا ہونگی گاندھی نے اپنے وزیروں مشیروں کو سادہ زندگی گزارنے کا مشورہ دیا کہا میں رام چندر کرشن جی کا حوالہ نہیں دے سکتا۔ کیونکہ وہ تاریخی ہستیاں نہیں تھیں میں مجبور ہوں کہ سادگی کی مثال کے لے ابوبکر رضہ اور عمررضہ کے نام پیش کرتا ہوں۔ وہ بہت بڑی سلطنت کے حاکم تھے۔ مگر انہوں نے سادہ فقیروں والی زندگی گزاری۔شرم کی بات ہے ہم مسلمان ہو کر بھی ان ہستیوں کی پیروی نہیں کرتے۔ اگر کر رہے ہوتے تو نجات مل چکی ہوتی۔ فی الحال اپنے کرتوتوں کی وجہ سے نجات ممکن دکھائی نہیں دیتی۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *