بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 24.1°C
Monday, 17 August 2026 | پاکستان: 5 ر بیع الاول 1448

اتفاق اتحاد اور یکجہتی کاپیغام

Monday, 17 August, 2026

14اگست کا دن جہاں خوشی اور شکر گزاری کا پیغام لاتا ہے وہی بطور قوم ہمیں یہ یہ سوچنے کی ترغیب بھی دیتا ہے کہ خالق کائنات کی نعمت یعنی پاکستان کی تعمیر وترقی کے لیے ہم میں سے ہر ایک نے انفرادی اور اجتماعی سطح پر کیا کردار کیا ۔ یہ دن ہمیں خود احتسابی کا درس دیتے ہوئے یاد دلاتا ہے کہ آخر قیام پاکستان کے وہ کون سے مقاصد تھے جن کے لیے ہمارے اسلاف نے لاکھوں جانوں کی قربانیاں دیں۔ گھر بار ، مال مویشی ، زمین اور کاروبار چھوڈا دیا۔ ہمیں خود سے سوال کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کی حفاظت ، تعمیر وترقی کے لیے ہم کیا کردار ادا کرپائے۔ دو قومی نظریہ کی بنیاد پر وجود میں آنے والی ریاست نے نہ صرف برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں کے مذہبی ، سیاسی ، مالی اور معاشرتی مفادات کا تحفظ کرنا تھا بلکہ عالم اسلام کی مشکلات ومصائب ختم کرنے کے لیے بھی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دینا تھا ۔ بلاشبہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک بطور قوم ہم نے بہت کچھ حاصل کیا ، مگر یہ اعتراف کرنیکے ساتھ اس سچائی کو بھی نہیں جھٹلایا جاسکتا کہ اگر مملکت خداداد کی ترقی وخوشحالی کے لیے ہم زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے تو آج نتائج مختلف ہوتے ۔ درحقیقت پاکستان سے محبت زیادہ زمہ داری کی متقاضی ہے ۔ اس سچائی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ قیام پاکستان کے بعد پیدا ہونے والی نسل ان احساسات وجذبات کا مکمل طور پر ادارک نہ کرسکی جس کا تجربہ قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں مسلمان ِ برصغیر نے کیا ۔ جب ہم تحریک آزادی کے اغراض ومقاصد کا مکمل طور پر ادارک نہیں کرلیتے اس وقت تک پاکستان کی اہمیت اور ضرورت کا احساس جاگزیں نہیں ہوسکتا۔ ایک رائے یہ ہے کہ پڑوس میں بی جی پی کا سیاسی طور پر عروج اور پھر تسلسل کے ساتھ مودی کا تیسری مرتبہ وزیر اعظم بن جانا بھی قیام پاکستان کے اغراض ومقاصد سمجھنے میں معاون بن سکتا ہے ۔ آج مقبوضہ کشمیر میں بالخصوص اور بھارت میں بالعموم مسلمانوں کی حالت زار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی۔ اکھنڈ بھارت کے فلسفہ پر کاربند بھارتیہ جنتا پارٹی مسلمانوں کو برابر کا شہری تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کی دعویدار بھارتی ریاست میں کھلے عام انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری وساری ہیں مگر اقوام عالم خواب خرگوش کے مزلے لے رہی۔ افسوس بھارتی اور کشمیری مسلمانوں پر ظلم وستم کی خبریں آئے روز سامنے آتی ہیں مگر دنیا ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں۔ ہم پرلازم ہیکہ پاکستانی نوجوانوں کو بھارتی مسلمانوں کے ساتھ رکھے جانے والی ظلم وستم سے آگاہ کرتے ہوئے وطن عزیز جیسی نعمت عظمی کی قدر کرنے کی ترغیب دیں۔ جان لینا چاہے کہ آج جنگ کے طور طریقہ بدل چکے ہیں ۔ آج دشمن قوتیں براہ راست تصادم کی بجائے ہمارے اندرونی اختلافات کو ہوا دے کر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے کوشاں ہیں۔ مقام شکر ہے کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے ۔ ہمارے قومی سلامتی کے ادارے دشمن کے ناپاک عزائم سے نہ صرف مکمل طور پر آگاہ ہیں بلکہ انھیں کامیابی سے ناکام بھی بنا رہے ہیں۔ اب یہ کوئی راز نہیں رہا کہ پاکستان کو سیاسی ، لسانی اور مذہبی بنیادوں پر جن دہشت گروپوں کا سامنا ہے ان کے تانے بانے سرحد پار جاکر ملتے ہیں ۔ یوں یہ کہنا کسی طور پر غیر مناسب نہ ہوگا کہ دوقومی نظریہ کی بنیاد پر جنگ آج بھی جاری وساری ہے ۔ ہمارا روایتی دشمن ہر اس فرد اور گرو ہ کی سرپرستی کررہا ہے جو پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کرنے کے درپے ہے ۔نادان پاکستانیوں کو یہ باور کروانے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی مہذب ریاست میں مسلح جدوجہد کی اجازت نہیں ہوتی ۔ نہتے اور مصوم شہریوں کو شہید کرکے نہ تو اسلام کی خدمت کی جاسکتی ہے اور نہ ہی نام نہاد قوم پرستی کا بھلا ہوسکتا ہے۔ خوش آئند ہے کہ وزیر اعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان تیزی سے ایسے تمام گروہوں اور جتھوں کی سرکوبی کررہا ہے جو پاکستان میں مختلف ناموں اور نعروں سے کشت وخون کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں۔ لازم ہے کہ بطور پاکستانی ہم اپنی صفوں میں اتفاق واتحاد کو فروغ دیں ۔ زبانی کلامی نہیں بلکہ اپنے عمل سے ثابت کریں کہ پاکستان کی تعمیر وترقی اور حفاظت ہمیں اپنے انفرادی اور گروہی مفادات سے زیادہ عزیز ہے۔ قومی سطح پر اتفاق واتحاد ہی خوشحال ، پرامن اور فلاحی پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر کرسکتا ہے ۔ دور اور نزدیک کا دشمن ہمیں حقوق کے نام پر باہم دست وگربیان کرنے کی پالیسی پر کاربند ہے ۔ بلوچستان، خبیر پختوانخواہ اور اب آزاد کشمیر میں احتجاج اور فساد کے نام پر افراتفری پھیلانے کی منعظم کوشش جاری وساری ہے ۔ ریاست اور حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرنے والے نام نہاد رہنماوں سے پوچھنے کی ضرورت ہے کہ وہ لانگ مارچ اور پرتشدد احتجاج کرکے آخر کس کی خدمت کررہے ہیں، یقینا مسائل کی موجودگی سے انکار نہیں ، جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہ کہ ایسے حالات نہ پیداکیے جائیں جس کے نتیجے میں معمولات زندگی درہم برہم ہوکر رہ جائیں۔ بشیر بدر کا خوبصورت شعر یاد آگیا
دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہوجائیں تو شرمندہ نہ ہوں

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *