بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 24.1°C
Monday, 17 August 2026 | پاکستان: 5 ر بیع الاول 1448

سیلابی بحران اور موثر قومی حکمتِ عملی کی ضرورت

Monday, 17 August, 2026

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہاہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں عوام کو ہر ممکن امداد اور ریلیف فراہم کرنے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ وزیر اعظم نے یہ ہدایت چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک سے ملاقات کے دوران دی ۔ وزیراعظم نے این ڈی ایم اے کو متعلقہ صوبائی اداروں اور پی ڈی ایم ایز کے ساتھ موثر رابطہ رکھنے کی ہدایت کی۔وزیراعظم نے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سنٹر میں اے آئی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی پذیرائی کی۔ملک میں سیلاب کی صورتِ حال ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی کرا رہی ہے کہ پاکستان قدرتی آفات کے خطرے سے دوچار ملکوں میں شامل ہے، جہاں موسمیاتی تبدیلی، غیر معمولی بارشیں، دریائوں میں طغیانی اور شہری و دیہی علاقوں میں ناقص نکاسی آب ہر سال انسانی زندگی، املاک اور معیشت کیلئے بڑے خطرات پیدا کرتے ہیں۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں عوام کو ہر ممکن امداد اور ریلیف فراہم کرنے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت بلاشبہ بروقت اور ضروری اقدام ہے، تاہم موجودہ حالات کا تقاضا محض امدادی سرگرمیوں تک محدود رہنے کے بجائے ایک جامع اور مستقل قومی حکمتِ عملی اختیار کرنا ہے۔سیلاب کسی بھی ملک کیلئے ایک قدرتی آزمائش ضرور ہوتا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی شدت بڑی حد تک انسانی منصوبہ بندی اور انتظامی صلاحیت سے وابستہ ہوتی ہے۔ اگر پیشگی اطلاع کا مثر نظام موجود ہو، خطرناک علاقوں کی بروقت نشاندہی کی جائے، آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے انتظامات مکمل ہوں، ریسکیو اداروں کے پاس مناسب وسائل ہوں اور صوبائی و وفاقی اداروں کے درمیان رابطہ مضبوط ہو تو جانی و مالی نقصان کو نمایاں حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے وزیراعظم کی جانب سے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، متعلقہ صوبائی اداروں اور پی ڈی ایم ایز کے درمیان موثر رابطے کی ہدایت انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔قدرتی آفت کے دوران سب سے بڑی ترجیح انسانی جانوں کا تحفظ ہونا چاہیے۔ متاثرہ علاقوں میں خوراک، صاف پانی، ادویات، خیمے، کمبل اور دیگر بنیادی ضروریات کی بروقت فراہمی ناگزیر ہے۔ سیلابی پانی میں گھرے افراد کو محفوظ مقامات تک پہنچانا، خواتین، بچوں، بزرگوں اور معذور افراد کیلئے خصوصی انتظامات کرنا بھی ریاستی ذمہ داری ہے۔ محض امدادی سامان پہنچا دینا کافی نہیں، بلکہ یہ بھی یقینی بنانا ضروری ہے کہ امداد مستحق افراد تک شفاف اور بلاامتیاز پہنچ رہی ہے۔ ماضی میں قدرتی آفات کے دوران بعض علاقوں میں امدادی سامان کی غیر مساوی تقسیم اور انتظامی کمزوریوں کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ اس بار ایسے تمام مسائل سے بچنے کیلئے نگرانی اور شفافیت کے مثر نظام کو یقینی بنانا ہوگا۔سیلاب کے بعد دوسرا بڑا چیلنج وبائی امراض کا ہوتا ہے۔ آلودہ پانی، نکاسی آب کی تباہی، رہائشی سہولتوں کی کمی اور صحت کے مراکز کو پہنچنے والے نقصان کے باعث مختلف بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ لہذا امدادی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ محکمہ صحت کو بھی ہنگامی بنیادوں پر متحرک کیا جانا چاہیے۔ متاثرہ علاقوں میں موبائل میڈیکل یونٹس، صاف پانی، جراثیم کش ادویات اور ضروری ویکسین کی دستیابی یقینی بنانا ضروری ہے۔ اگر ابتدائی مرحلے میں صحت کے خطرات پر قابو نہ پایا گیا تو قدرتی آفت ایک بڑے انسانی بحران میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر میں مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو سراہنا بھی مستقبل کے حوالے سے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ آج کی دنیا میں قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے ٹیکنالوجی فیصلہ کن کردار ادا کر رہی ہے۔ سیٹلائٹ ڈیٹا، موسم کی پیش گوئی، مصنوعی ذہانت، جغرافیائی معلوماتی نظام اور جدید مواصلاتی ذرائع کی مدد سے بارش، سیلاب اور ممکنہ خطرات کے بارے میں پہلے سے بہتر اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ لیکن ٹیکنالوجی کی افادیت اسی وقت سامنے آتی ہے جب اس سے حاصل ہونے والی معلومات کو فوری طور پر عملی فیصلوں میں تبدیل کیا جائے۔پاکستان کو اب روایتی طرزِ عمل سے آگے بڑھتے ہوئے ایک ایسا مربوط قومی نظام تشکیل دینا ہوگا جس میں وفاقی، صوبائی اور ضلعی سطح کے ادارے ایک دوسرے سے مسلسل مربوط رہیں۔اصل ضرورت یہ ہے کہ ہر بڑے سیلاب کے بعد صرف نقصانات کا تخمینہ لگانے اور امدادی پیکیج کا اعلان کرنے کے بجائے یہ سوال بھی اٹھایا جائے کہ اگلی بار نقصان کم کیسے کیا جاسکتا ہے۔ دریائوں کے قدرتی راستوں، ندی نالوں اور برساتی گزرگاہوں پر تجاوزات، ناقص شہری منصوبہ بندی، جنگلات میں کمی اور کمزور نکاسی آب کے نظام جیسے عوامل پر سنجیدگی سے توجہ دینا ہوگی۔ جہاں تعمیرات انسانی آبادیوں کو مستقل خطرے میں ڈال رہی ہوں، وہاں سیاسی مصلحت کے بجائے عوامی تحفظ کو ترجیح دینا ضروری ہے۔موسمیاتی تبدیلی نے پاکستان کیلئے خطرات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ غیر معمولی بارشیں، اچانک سیلاب، شدید گرمی اور دیگر موسمی شدتیں اب مستقبل کا نہیں بلکہ موجودہ دور کا مسئلہ ہیں۔ اس لیے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کو قومی ترقیاتی منصوبہ بندی کا مستقل حصہ بنانا ہوگا۔ بجٹ میں آفات سے بچا، انفراسٹرکچر کی مضبوطی، پیشگی وارننگ سسٹم اور ریسکیو صلاحیتوں کیلئے مناسب وسائل مختص کیے جانے چاہئیں۔وزیراعظم کی ہدایت اس وقت مثر ثابت ہوگی جب اسے محض ایک انتظامی حکم کے بجائے ایک عملی قومی مہم میں تبدیل کیا جائے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں، این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم ایز، ضلعی انتظامیہ، فوج، ریسکیو اداروں، فلاحی تنظیموں اور مقامی آبادی کو ایک مربوط نظام کے تحت کام کرنا ہوگا۔ مقامی لوگوں کو بھی ہنگامی منصوبہ بندی کا حصہ بنانا چاہیے، کیونکہ کسی بھی آفت کے ابتدائی لمحات میں سب سے پہلے مقامی آبادی ہی ایک دوسرے کی مدد کرتی ہے ۔ سیلاب قدرتی عمل ہے لیکن وسیع پیمانے پر انسانی المیہ بن جانا لازمی نہیں۔ ریاست کی اصل کامیابی صرف یہ نہیں کہ وہ آفت کے بعد کتنی امداد پہنچاتی ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ آفت سے پہلے کتنی تیاری کرتی ہے، دورانِ آفت کتنی تیزی سے ردعمل دیتی ہے اور بعد از آفت کتنی موثر انداز میں بحالی یقینی بناتی ہے۔ موجودہ سیلابی صورتِ حال کو بھی اسی وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ عوام کو فوری ریلیف، متاثرین کو باعزت بحالی اور مستقبل کیلئے مضبوط حفاظتی نظامیہ تینوں اقدامات بیک وقت ضروری ہیں۔ اگر جدید ٹیکنالوجی، مثر انتظامی رابطے اور سیاسی عزم کو یکجا کرلیا جائے تو پاکستان قدرتی آفات کے نقصانات کو کم کرنے کی سمت ایک اہم قدم اٹھا سکتا ہے۔
خضدار میں دہشت گردوں کیخلاف کامیاب کارروائی
بلوچستان کے علاقے خضدار میں دہشت گردوں کیخلاف کامیاب کارروائی میں دس بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کی ہلاکت اہم پیش رفت ہے۔ یہ کارروائی اس عزم کا اظہار ہے کہ ریاست ملک میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پوری قوت کے ساتھ سرگرمِ عمل ہے۔ دہشت گردی کا مقصد ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا، عوام میں خوف پھیلانا اور ملکی ترقی کے عمل کو سبوتاژ کرنا ہے، جس کا موثر جواب ناگزیر ہے۔بلوچستان جغرافیائی اور معاشی اعتبار سے پاکستان کیلئے انتہائی اہم صوبہ ہے۔ یہاں امن و استحکام نہ صرف عوام کے تحفظ بلکہ تجارت، سرمایہ کاری اور ترقی کے لیے بھی ضروری ہے۔ اس لیے دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائی کو صرف سکیورٹی کا معاملہ نہیں بلکہ بلوچستان کی ترقی اور ملکی معیشت کے تحفظ کے طور پر بھی دیکھنا چاہیے۔خضدار آپریشن سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھنا ہوگا۔ دہشت گردوں کے ساتھ ان کے سہولت کاروں، مالی معاونت کرنے والوں اور رابطہ کاروں کیخلاف بھی موثر اقدامات ضروری ہیں تاکہ دہشت گردی کے نیٹ ورک کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع نہ ملے۔پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پہلے ہی بڑی قربانیاں دے چکا ہے۔ سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کی قربانیوں کے نتیجے میں ملک میں امن کی بحالی ممکن ہوئی۔خضدار میں کامیاب کارروائی ایک مثبت پیشرفت ہے لیکن اسے منزل نہیں بلکہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کی جانب ایک قدم سمجھنا چاہیے۔ مسلسل انٹیلی جنس کارروائیاں، سرحدی نگرانی، دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام اور بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے ذریعے ہی پائیدار امن قائم کیا جاسکتا ہے۔ ریاست کا واضح پیغام یہی ہونا چاہیے کہ پاکستان کی سرزمین کو دہشت گردی کیلئے استعمال کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *