40 سے زائد تنظیموں نیحکومت سے آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کا ملک میں داخلہ روکنے کا مطالبہ کیاہے۔کنیڈین تنظیموں کے اتحاد نے الزام لگایا کہ بھاگوت کے دورے سے عوامی سلامتی اور قومی سلامتی کے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے آر ایس ایس کی مذہبی اکثریت پسندی، دھمکانے اور ماورائے سرحد جبر سے مبینہ تعلقات کے ریکارڈ کا حوالہ دیا ہے۔ انہوں نے آر ایس ایس سے منسلک نیٹ ورکس اور بیرونِ ہند مقیم حقوق کے کارکنوں، تعلیمی ماہرین اور اقلیتی برادری کے اراکین کو ہراساں کرنے کے درمیان مبینہ تعلقات کی طرف بھی اشارہ کیا۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ”وزیر آنندسانگاری کو ہماری برادریوں کو انتہا پسندی، نفرت انگیز تقریر اور غیر ملکی دھمکیوں سے بچانے کیلئے کنیڈین قانون کا نفاذ کرنا چاہئے۔ بھاگوت کو داخلے کی اجازت دینا مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں، یہودیوں اور دلتوں سمیت غیر محفوظ اقلیتی آبادیوں کو خطرے میں ڈالتا ہے اور منشور کے حقوق کو مجروح کرتا ہے۔”یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھاگوت کا کینیڈا کا پہلا ممکنہ دورہ قریب ہے۔ آر ایس ایس کی عالمی رسائی کو وسعت دینے کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر امریکہ کے دورے کے بعد ان کے وہاں جانے کا پروگرام ہے۔ واضح رہے کہ 75 سالہ بھاگوت کے۔ ایس۔ سدرشن کے بعد مارچ 2009ء سے آر ایس ایس کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اگرچہ آر ایس ایس خود کو ایک ثقافتی اور سماجی تنظیم کے طور پر بیان کرتی ہے، لیکن یہ وسیع تر سنگھ پریوار کے ساتھ قریبی نظریاتی تعلقات رکھتی ہے جس میں بی جے پی بھی شامل ہے۔کنیڈین گروپس کے خدشات ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی چھان بین کے بعد سامنے آئے ہیں۔ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے ہندوستان کے مذہبی آزادی کے ماحول میں ہندو قوم پرست تنظیموں کے کردار کے بارے میں بارہا خدشات کا اظہار کیا ہے۔ کمیشن نے 2023 میں بیرونِ ملک مذہبی اقلیتوں اور کارکنوں کو نشانہ بنانے والے مبینہ ماورائے سرحد جبر پر خدشات کا اظہار کیا تھا۔ مودی حکومت کی کھلی چھوٹ کے باعث بھارتی جرائم پیشہ گروہ دنیا بھر کیلئے خطرہ بنتے جا رہے ہیں اوربھارت کا مجرمانہ کردار بے نقاب ہوتا جارہا ہے۔ کینیڈا سمیت مختلف ممالک میں بھارتی جرائم پیشہ افراد کی گرفتاریوں سے بھارت کا مجرمانہ کردارآشکار ہوگیا ہے۔ کینیڈا میں سرحد پار سمگلنگ نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے دوران متعدد بھارتی نژاد ٹرک ڈرائیور گرفتار کر لیے گئے۔گرفتار ملزمان سے کینیڈین حکام نے 139 ملین ڈالر مالیت کی 1.7 ٹن منشیات ضبط کرلیں۔ کینیڈا نے منشیات کی ترسیل کے خلاف اہم کارروائی کی اورتحقیقات میں بھارتی نژاد افراد سے منسلک تجارتی ٹرانسپورٹ کا غیر قانونی نیٹ ورک بے نقاب ہوگیا۔۔واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت، پاکستان میں دہشتگردی کی کاروائیوں کے ذریعے ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہے، بھارتی ایجنسی’را’ نے اجرتی قاتلوں اور افغانی ہتھیاروں کے ذریعے پاکستان میں کم از کم 6 افراد کی ٹارگٹ کلنگ کی ۔ واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ میں مزید کہا کہ گزشتہ سال اپریل میں 2 نقاب پوشوں نے لاہور میں عامر سرفراز (تانبا) کو گولیوں کا نشانہ بنایا اور فرار ہو گئے، یہ واقعہ بھی دوسرے ممالک کی طرح بھارت کی ‘خفیہ قتل مہم’ کا تسلسل تھا۔امریکی اخبار کے مطابق 2021 کے بعد بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسی ‘را ‘ نے پاکستان میں متعدد افراد کو قتل کرنے کیلئے ایک خفیہ مہم چلائی جس میں میں کئی پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔واشنگٹن پوسٹ نے لکھا کہ بھارت نے امریکا، کینیڈا اور مغربی ممالک میں بھی ماورائے عدالت قتل کروائے، کینیڈا اور امریکا میں بھارتی ‘را’ نے سکھ رہنماؤں کو قتل کیا ۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق 2014ء میں بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول نے کہا تھا کہ پاکستان پر حملہ کرنا غیر حقیقی ہے، لیکن ہم اپنے مقاصد کیلئے خفیہ ذرائع استعمال کرسکتے ہیں۔امریکی جریدے کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا، کینیڈا اور مغربی ممالک میں ”را” کی ٹارگٹ کلنگ مہم کی وجہ سے بھارت بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کی زد میں ہے، بھارت نے امریکا، کینیڈا اور مغربی ممالک میں ماروائے عدالت قتل کیے۔ بھارت نے کینیڈا اور امریکا میں بھارتی خفیہ ایجنسی ”را” نے سکھ رہنماؤں کو قتل کیا، نئی دہلی میں را کے افسر وکاش یادیو نے نیویارک میں سکھ علیحدگی پسند راہنما پر قاتلانہ حملے کی ہدایت جاری کیں، را افسر نے اس قتل میں اپنے ایجنٹ کو ایک مقامی قاتل کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت کی۔ کینیڈین حکام نے بھی بھارتی سفارت کاروں اور ‘را’ کی دہشتگردی کو بے نقاب کیا۔سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس بھی پاکستانی شہریوں محمد ریاض اور مولانا شاہد لطیف کی ٹارگٹ کلنگ میں بھارت کے ملوث ہونے شواہد منظر عام پر آچکے ہیں، اس سے قبل بھی وزارت خارجہ شواہد کے ساتھ پاکستانی سرزمین پر بھارتی دہشتگردی کو بے نقاب کرچکی ہے۔ پاکستان کے وزیر داخلہ بھی ہلاکتوں میں بھارت کے براہ راست ملوث ہونے کا انکشاف کر چکے ہیں، بھارتی جارحیت، دہشت گردی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر اقوام عالم کو سخت نوٹس لینا چاہیے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں