بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Monday, 17 August 2026 | پاکستان: 6 ر بیع الاول 1448

آبنائے ہرمز: دعوے اور خطرے !

Monday, 17 August, 2026

دنیا کی سیاست میں بعض جملے محض سیاسی بیانات نہیں ہوتے، وہ آنے والے بحرانوں کی سمت کا پتہ دیتے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی میں حالیہ دنوں سامنے آنے والے بیانات بھی اسی نوعیت کے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ”بہت جلد” آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دے دیں گے، جبکہ ایرانی حکام کا جواب ہے کہ ہرمز ایران کی تھی، ایران کی ہے اور ایران کی رہے گی۔ دوسری طرف ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی واضح کر چکے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور ثالثوں کے ذریعے آنے والے پیغامات کو مذاکرات قرار نہیں دیا جا سکتا۔یہ تینوں بیانات ایک ہی بحران کے مختلف پہلو سامنے لاتے ہیں۔ ایک طرف عسکری طاقت اور کنٹرول کا دعویٰ ہے، دوسری طرف خودمختاری اور مزاحمت کا مؤقف، جبکہ تیسری طرف سفارت کاری کا وہ دروازہ ہے جو مکمل طور پر بند تو نہیں ہوا مگر اس کے کھلنے کی ضمانت بھی موجود نہیں۔آبنائے ہرمز جغرافیے پر ایک مختصر بحری گزرگاہ ہے، لیکن عالمی معیشت میں اس کی حیثیت غیر معمولی ہے۔ ایران اور عمان کے درمیان واقع یہ آبنائے خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے اور دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ 2025 کی پہلی ششماہی میں یہاں سے اوسطاً تقریباً 20.9 ملین بیرل یومیہ تیل گزرا، جو عالمی پٹرولیم مائعات کی کھپت کا تقریباً پانچواں حصہ تھا۔ 2024 میں دنیا کی تقریباً پانچویں ایل این جی تجارت بھی اسی راستے سے گزری۔اسی لیے ہرمز کا مسئلہ صرف ایران، امریکہ یا خلیجی ممالک کا مسئلہ نہیں۔ یہ چین، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا، یورپ اور بالآخر دنیا کے ہر اس ملک کا مسئلہ ہے جو توانائی درآمد کرتا ہے۔ کسی بحری راستے پر رکاوٹ کا مطلب صرف جہازوں کا رک جانا نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ تیل کی قیمت، بجلی کی پیداوار، صنعتی سرگرمی، خوراک کی ترسیل اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔حالیہ صورتحال اس خطرے کی عملی تصویر بھی پیش کر رہی ہے۔ رائٹرز کے مطابق اگست کے وسط میں ہرمز سے گزرنے والی بحری ٹریفک میں نمایاں کمی آئی اور معمول کے مقابلے میں بہت کم جہاز اس راستے سے گزر رہے تھے۔ اس صورت حال نے عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔یہاں امریکی صدر کا ”مکمل کنٹرول” یا ہرمز کو امریکی علاقہ بنانے کا دعویٰ ایک بنیادی سوال پیدا کرتا ہے: کیا کسی بین الاقوامی بحری گزرگاہ پر عسکری برتری کو قانونی یا سیاسی ملکیت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے؟اس کا جواب اتنا سادہ نہیں۔ آبنائے ہرمز کے ساحلی اطراف ایران اور عمان سے متعلق ہیں، لیکن بین الاقوامی بحری قانون میں بین الاقوامی جہاز رانی کی گزرگاہوں کے لیے مخصوص اصول موجود ہیں۔ اقوام متحدہ کے سمندری قانون کا کنونشن بین الاقوامی نیویگیشن کے حقوق کو تسلیم کرتا ہے۔ اس لیے ہرمز کو محض کسی ایک طاقت کے سیاسی اعلان سے ”اپنا علاقہ” قرار دینا بین الاقوامی قانون اور عالمی بحری نظام کے وسیع تر سوالات کو جنم دیتا ہے۔ایران کی جانب سے ”ہرمز ایران کی تھی، ہے اور رہے گی” کا بیان بھی ترکی بہ ترکی جواب الجواب کا پیغام ہے۔ تہران یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ وہ اپنے قریب واقع اس اہم گزرگاہ کو اپنے خلاف دباؤ کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ لیکن دوسری طرف اگر کسی بھی فریق کی جانب سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت محدود ہوتی ہے تو اس کا اثر صرف مخالف ملک پر نہیں پڑتا؛ دنیا بھر کے خریدار اور صارفین اس کی قیمت ادا کرتے ہیں۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا تازہ بیان امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا، جبکہ پیغامات کا تبادلہ مذاکرات کے مترادف نہیںیہ واضح کرتا ہے کہ سفارتی دنیا میں ”پیغام رسانی” اور ”مذاکرات” کے درمیان ایک واضح فاصلہ ہوتا ہے۔ پیغام رسانی کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ فریقین ابھی ایک دوسرے کے ارادے جانچ رہے ہیں، شرائط کا اندازہ لگا رہے ہیں یا ثالثوں کے ذریعے ممکنہ راستے تلاش کر رہے ہیں۔ مذاکرات اس وقت شروع ہوتے ہیں جب دونوں فریق باقاعدہ طور پر کسی حل کی طرف بڑھنے پر آمادہ ہوں۔تاریخ میں کئی بڑے تنازعات براہِ راست جنگ کے منصوبے سے نہیں بلکہ غلط اندازوں سے پیدا ہوئے۔ ایک فریق نے دوسرے کے محدود ردعمل کو کمزوری سمجھا، دوسرے نے پہلے فریق کے دباؤ کو حملے کی تیاری تصور کیا، اور پھر واقعات نے لمحوں نے خطاء کی صدیوں نے سزا پائی کے مصداق ایسی رفتار اختیار کی جس پر قابو پانا مشکل ہوگیا۔اگر ایک طرف واشنگٹن ہرمز پر اپنی عسکری صلاحیت کو فیصلہ کن طاقت سمجھتا ہے اور دوسری طرف تہران اسے اپنی خودمختاری کے خلاف کارروائی تصور کرتا ہے تو ایک ہی واقعہ دونوں فریقوں کو مختلف نتیجے تک پہنچا سکتا ہے۔ یہی غلط فہمی کسی محدود بحران کو وسیع جنگ میں بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔اس بحران کا معاشی پہلو بہت زیادہ اہم ہے۔ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں شدید رکاوٹ پہلے ہی عالمی منڈی کو متاثر کر رہی ہے۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق 2026 کی دوسری سہ ماہی میں ہرمز سے گزرنے والے خام تیل اور پٹرولیم مائعات کی مقدار اوسطاً صرف 4.9 ملین بیرل یومیہ رہی، جبکہ 2025 کی چوتھی سہ ماہی میں یہ 21.6 ملین بیرل یومیہ تھی۔ ادارے نے یہ بھی اندازہ ظاہر کیا ہے کہ اگر رکاوٹیں برقرار رہیں تو عالمی تیل کی قیمتیں بلند رہ سکتی ہیں اور معمول کی صورتحال بحال ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔ پاکستان بھی اپنی توانائی کی ضروریات کے ایک بڑے حصے کے لیے درآمدات پر انحصار بھی اس بی گزرگاہ پر ہے۔ اگر عالمی سطح پر تیل مہنگا ہوتا ہے تو پاکستان کا درآمدی بل بڑھتا ہے، زرمبادلہ پر دباؤ آتا ہے اور روپے کی قدر پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ مہنگا ایندھن ٹرانسپورٹ سے صنعت تک ہر شعبے کی لاگت بڑھاتا ہے، اور بالآخر اس کا اثر عام صارف تک پہنچتا ہے جس کیلئے ہمارے حکمران تیار بیٹھے ہیں۔ خلیجی ممالک میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد مقیم ہے خلیج میں طویل جنگ کا مطلب پاکستان کیلئے معاشی دباؤ امتحان بھی ہوگا۔ایران کی جانب سے عالمی بنیادی ڈھانچے کو خطرے میں ڈالنے والی دھمکی اس لیے اہم ہے کہ آج بجلی، مواصلات، بندرگاہیں، مالیاتی نظام، ڈیٹا مراکز، توانائی کی تنصیبات اور سرکاری نیٹ ورک ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں ۔ کسی ایک اہم نظام پر بڑا سائبر یا فزیکل حملہ دوسرے کئی نظاموں میں تعطل پیدا کر سکتا ہے اور یہ بھی اہم ہے کہ ایران محض دھمکی نہیں دیتا عمل بھی کرتا ہے۔اگر عراقچی کے مطابق ابھی مذاکرات کی بحالی کا فیصلہ نہیں ہوا تو بھی یہ حقیقت اہم ہے کہ پیغامات کا سلسلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ مزاکرات ہی وہ راستہ ہے جسے وسیع جنگ سے بچنے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے جس میں پاکستان کا کردار بہت اہم ہے!۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *