بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Monday, 17 August 2026 | پاکستان: 6 ر بیع الاول 1448

بھارت غزہ نسل کشی میں برابر کا شریک

Monday, 17 August, 2026

تم اہل ایمان کی عداوت قرآن شریف ہمیں بتاتا ہے ‘ سب سے زیاد ہ سخت یہود اورمشرکین کو پائوگے'( المائدہ۔٨٢) اس حکم کو سامنے رکھ کر ہم غزہ کی جنگ میں بھارت کا اسرائیل کو اسلحہ سپلائی کرنے پر روشنی ڈالتے ہیں۔مئی ٢٠٢٤ء اسپین کی کاریجیینا بندر گاہ کے گودی مزدور اس وقت ششدر رہ گئے جب اُنہیں معلوم ہوا کہ بھارت کے شہر چنٹی سے روانہ ہونیوالاایک تجارتی مال بردارجہاز’ ‘بورکم” عسکری سامان لے جا رہا تھا۔اس کی منزل غزہ سے بمشکل ٣٠ کلومیٹر دور واقع اسرائیل کی ”اشدود” بندر گاہ تھی۔ یہ ایک ایسا وقت تھا جب غزہ پر اسرائیلی عسکری جارحیت اپنے عروج پر تھی، اپنے عوام کے شدید اور بڑھتے ہوئے دبائو کی وجہ سے بیش تر یورپی حکومتوں نے اسرائیل کو گولہ بارود کی ترسیل روک رکھی تھی۔ ہسپانوی مزدوروں کے احتجاج کے بعد حکومت نے بلا آخر اس جہاز کو لنگر انداز ہونے اور ایندھن کی فراہمی کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔کسٹم کی دستاویزات سے یہ سنسی خیز انکشاف ہوا کہ اس کھیپ میں ٢٠ ٹن راکٹ انجن،٥۔١٢ ٹن بارودی مواد سے لیس راکٹ، اور ١٥٠٠ کلوگرام مخصوص دھماکا خیز مواد شامل تھا، جسے بھارتی دفاعی کمپینیوں نے تیارکیا تھا،جس میں پریمینرایکسپورٹ لمیٹڈ، اور سرکاری ملکیت والی، مینوشزز انڈیا لمیٹڈ شامل تھیں۔ ابھی اس واقع کو ایک مہینہ ہی گزرا تھا،٦ جون ٢٠٢٤ ء کو، وسطی غزہ نصیرات پناہ گزیںکمیپ میں ایک اسرائیلی فضائی حملے نے اقوام متحدہ کے اسکول کے ایک اسکول کو نشانہ بنا یا، جو عام شہریوں کیلئے پناہ گاہ کیلئے استعمال ہو رہا تھا۔جب مقامی رہائشی لمبے سے زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کر رہے تھے، تو انہوں نے اس میزائیل کے ٹکڑوں کی ویڈیوبنائی جس نے اس احاطے کو تباہ کر دیا گیا ۔ملبے کے درمیان اس میزائیل کی باقیات پر ایک تحریربل لکل واضع طور پر نظر آ رہی تھی”میڈ ان انڈیا” یعنی بھارت میں تیار کردہ۔اس وحشیانہ حملے میں اسکول کے اندر پناہ لینے والے کم از کم ٣٣ غزہ کے فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔حال ہی میں ، اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اس دعوے کے جواب میں کہ امریکا ہی اسرائیل کا واحد ناگزیر اتحادی ہے، پر یہ تبصرہ کیا کہ اسرائیل کے پاس بھارت کی شکل میں ایک طاقت ور دوست موجود ہے۔ ان کا یہ تبصرہ کچھ غلط نہیں تھا۔حال ہی میں ایمنسٹی انٹر نیشنل کی ٤٢صفحات پر مشتمل ایک تحقیقی رپورٹ کی اشاعت کے بعد اس پر مہر لگ گئی کہ کس طرح بین الاقوامی انسانی ضابطوں کو نظر انداز کرتے ہوئے،بھارت نے اسرائیل کی جنگی دفاعی سپلائی چین میں ایک کلیدی کردار اداکیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کسٹم کے ریکارڈ ،کارپوریٹ فائلنگز ،جہاز رانی کے گوشواروں اور برآمدی ریکارڈ ،کا باری کمپنی سے جائزہ لے کر اس پورے نیٹ ورک کی کڑیاںجوڑ کرایک ایسا ڈیٹا بیس تیار کر دیاہے،جو بتاتا ہے کہ ٧اکتوبر ٢٠٢٣سے ٣٠نومبر ٢٠٢٥ء کے درمیان بھارت سے اسلحہ کی ٥٩٦،٢کھپیں اسرائیل روانہ کی گئی تھیں ۔ ان کھیپوںمیں ہتھیار،گولہ بارودکے پرزے،بکتر بند گاڑیوں جن کے پرزے اور دیگردفاعی سامان شامل تھے،جو اسرائیلی مسلح افواج یا اسرائیلی دفاعی کمپنیوںکو فراہم کیے گئے۔اہمینسٹی نے نتیجہ اخذ کیاکہ” غزہ میںاسرائیل عسکری مہم کے دوران، بھارت اسرائیلی مسلح افواج سے قریبی تعلق رکھنے والی اسرائیلی کمپنیوں کیلئے عسکری پرزہ جات، گولہ بارود کے اجزاء اور دفاعی سامان کا ایک اہم سپلائر بن کر ابھرا”غزہ جنگ کے شروع ہونے کے بعدجیسے ہی یورپی حکومتوں پر عسکری برآمدات معطل کرنے کیلئے داخلی سطح پر دبائو بڑھا، بھارت کے دفاعی مینوفیکچرنگ سیکٹر نے خاموشی سے اس خلا کو پر کر دیا۔ بھارت نے نہ صرف انفرادی عسکری مصنوعات بر آمد کیں، بلکہ وہ اس صنعتی نظام میں ایک انتہائی اہم درجے کا سپلائر بن گیا جس نے اسرائیل کی دفاعی پیداوارکو برقرار رکھنے میں مدد کی ۔ ایمنسٹی نے بھارت سے بھیجے٥١٦،٩٠،٣ ملٹری گریڈ کے چھوٹے ہتھیاروں کے پر زہ جات کی نشان دہی کی ہے۔ان میں خو دکار ہتھیاروں ، ٹریگر کے طریقی کار بیرل اور دیگروہ تمام پرزے شامل ہیںجو خاص طور عسکری آتشیں اسلحے کیلئے تیار کیے جاتے ہیں۔ تحقیق کاروں نے ٩٧٠،٦٤،٥ دھماکہ خیزمواد اس کے اجزاء کی نشان دہی کی ہے، جن میں آرٹلیشیل کے خول، ڈرون کے وار ہیڈکے پرزے اور گولہ بارودکی تیاری کیلئے استعمال ہونے والے دیگر حصے شامل ہیں ۔ رپورٹ میں نوٹ کیا گیا ہے” جمع کیے گئے شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ زیر تحقیق مدت کے دوران بھارت سے اسرائیلی دفاعی کمپنیوںکو عسکری اجزء کی منتقلی کا ایک مسلسل اورباقاعدہ سلسلہ جاری رہا”اس تحقیقی رپورت میں عسکری گاڑیوں کے ٢٩٨ پرزوں کا بھی ریکارڈ موجود ہے جو اسرائیلی مسلح افواج کیلئے سامان تیارکرنیوالے اسرائیلی مینوفیکشرزکو فراہم کیے گئے تھے۔ اس رپورٹ کی سب سے نمایاںکھوج یہ ہے کہ اس سپلائی چین میں سرکاری شعبے کے ادارے اور نجی صنعت دونوں یکساں طور پر شامل ہیں ۔ حکومت کی ملکیت والی ، ڈ یفنس پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنکز میں ایمنسٹی نے ،مینوشنز انڈیا لمیٹڈ،اور انڈیا آپٹل لمیٹدکو ایسے مینوفیکچررز کے طور پر ظاہر کیا ہے جن کی مصنوعات زیر جائز مدت کے دوران اسرائیلی دفاعی سپلائی چین کا حصہ بن گئیں۔یہ کمپنیاں مکمل طور پر حکومت کی ملکیت ہیں اور ٢٠٢١ء میں” آرڈیننس’فیکٹری بورڈ” کی از سرے نو تنظیم کے بعد قائم کی گئیں تھیں۔ان کے ساتھ ساتھ کئی نجی کمپنیاں بھی اس صف میں کھڑی ہیں ۔ جن میں ” پریمئر ایکپلو سیوزلیٹڈ ” ۔ ”کلیانی اسٹریٹیجک سسٹمز ” ۔ ”انڈو۔ ایم آئی ایم” ۔ ” اشوکامینوفیکچیرنگ” اور دیگر شامل ہیں ، جو آرٹلری کے اجزائ، دھماکہ خیزمواد،باریک بینی سے تیار کردہ انجینئرنگ پرودکٹس اور دھاتی پرزے بنانے میں مصرف ہیں۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جب ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اس تحقیق پر بھارت ، پاکستان،مغرب کی زیادہ تر روایتی میڈیا نے مکمل خاموشی اختیار کر لی، دنیا کے بڑے اوربا اثر ترین خبری اداروں نے کوئی مخصوص رپورٹ شائع نہیں کی۔جہاں بی بی سی کی مرکزی انگریزی سروس نے اس رپورٹ کو نظر انداز کیا،ہندی سروس نے اس خبرکو بھارتی حکومت کے رد عمل کے زاویے سے پیش کیا۔تقریباًتمام بھارتی میڈیا اولٹس کا رویہ بھی ایسا ہی رہا۔انہوں نے اس رپورٹ کے مندرجات کو شائع کرنے کے بجائے وزارت خارجہ کے بیان پر توجہ مرکوز کی،جس میں بتایا گیا کہ اسرائیل کو تمام اسلحے کی منتقلی قانونی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق تھی ۔پچھلے دو سال کے دوران، رائٹرز، اے پی، بی بی سی، سی این این ،دی ٹائمز، اور دی پوسٹ جیسے تمام اداروں نے امریکی فوجی امداد،برطانوی بر آمدی لائسنسوں، جرمن اسلحے کی منظوریوں، اور مغربی ہتھیاروں کی منتقلی کوروکنے کیلئے عدالتوں میں دائر مختلف چیلنجز پر باریک بینی سے رپورٹنگ کی ہے۔باقی آئندہ انشاء اللہ

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *