عسکری نکتہ نظر سے نہیں دیکھا بلکہ انہیں قومی اور اخلاقی تناظر میں بھی پرکھنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی تحریروں میں وطن سے محبت، قومی خودداری، اسلامی تاریخ اور موجودہ سیاسی و دفاعی حالات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ معرکہ حق کو صرف جنگ کی داستان سمجھنا کتاب کے دائرہ فکر کو محدود کرنا ہوگا۔مصنف کے ہاں حق کا تصور صرف ایک مذہبی اصطلاح نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور قومی قدر بھی ہے۔ ان کے نزدیک حق کا مطلب اپنی آزادی، اپنی خودمختاری اور اپنے قومی وقار کا دفاع بھی ہے۔ یہی تصور واقعہ کربلا کے حوالے سے ان کے کالموں میں بھی نمایاں ہوتا ہے، جہاں وہ کربلا کو حق و باطل کے ابدی معرکے کے طور پر دیکھتے ہیں۔یہاں کتاب کا ادبی پہلو بھی سامنے آتا ہے۔ سردار خان نیازی بنیادی طور پر کالم نگار ہیں۔ کالم نگار تاریخ دان کی طرح ہر واقعے کو حوالوں اور دستاویزات کے انبار میں نہیں ڈھالتا؛ وہ واقعے کے اندر موجود احساس، جذبے اور قومی کیفیت کو بھی گرفت میں لیتا ہے۔ معرکہ حق میں بھی یہی صحافتی اور خطیبانہ انداز نمایاں ہے۔ان کی زبان عام قاری سے مخاطب ہوتی ہے۔ مشکل سیاسی اور عسکری معاملات کو سادہ انداز میں بیان کرنا اور ان سے قومی نتیجہ اخذ کرنا انکے اسلوب کا نمایاں پہلو ہے۔تاہم ایک تنقیدی قاری کی حیثیت سے کتاب کو پڑھتے ہوئے ایک سوال بھی سامنے آتا ہے کیا قومی جذبے اور تاریخی تجزیے کے درمیان توازن قائم رکھا گیا ہے؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ جنگ کی تاریخ صرف فاتح کے جذبے سے نہیں لکھی جاتی۔ مستقبل کا مورخ جنگ کے دونوں فریقوں کے موقف، عالمی ذرائع، عسکری اعداد و شمار، سفارتی ریکارڈ اور زمینی حقائق کو بھی دیکھتا ہے۔اگر معرکہ حق میں ان تمام پہلوؤں کو دستاویزی حوالوں کے ساتھ شامل کیا گیا ہے تو کتاب کی علمی حیثیت بہت بلند ہو جاتی ہے۔ اگر زیادہ زور قومی بیانیے پر ہے تو پھر اسے ایک اہم قومی وصحافتی دستاویز کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔ میرے نزدیک کتاب کی اصل اہمیت بھی یہی ہے کہ یہ ایک مخصوص دور کے قومی احساسات کو محفوظ کرتی ہے۔تاریخ میں بعض کتابیں واقعات سے زیادہ اپنے زمانے کی ذہنی کیفیت کی عکاسی کرتی ہیں۔ معرکہ حق کو بھی اسی زاویے سے دیکھا جا سکتا ہے۔ آنے والے برسوں میں جب 2025 کے پاک بھارت تصادم پر تحقیق ہوگی تو ایسی تحریریں محقق کو یہ سمجھنے میں مدد دیں گی کہ اس وقت پاکستانی معاشرہ اس جنگ کو کس نظر سے دیکھ رہا تھا، قوم کے جذبات کیا تھے اور دفاعی کامیابی کو کس قومی اور نظریاتی زبان میں بیان کیا جا رہا تھا۔کتاب کا ایک اور اہم پہلو قومی یکجہتی ہے۔جنگ کے دنوں میں سیاسی اختلافات پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ ریاست، قوم اور دفاع مشترکہ حوالہ بن جاتے ہیں۔ ایسے وقت میں قلم کار کا کردار بھی اہم ہو جاتا ہے۔ وہ قوم کے جذبات کو الفاظ دیتا ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے اس دور کا ایک ذہنی نقشہ چھوڑ جاتا ہے۔لیکن قومی یکجہتی کا مطلب تنقید سے دستبرداری نہیں ہونا چاہیے۔ ایک مضبوط قوم وہ ہوتی ہے جو اپنے دفاع پر فخر بھی کرے اور اپنے فیصلوں کا تجزیہ بھی کر سکے۔ اسی طرح ایک اچھی قومی کتاب وہ ہوتی ہے جو جذبہ بھی پیدا کرے اور سوال کرنے کی گنجائش بھی باقی رکھے۔ یہاں معرکہ حق کے تنقیدی مطالعے کی ضرورت پیدا ہوتی ہے۔کتاب کی قدر صرف اس بات سے متعین نہیں ہونی چاہیے کہ قاری اس کے قومی بیانیے سے اتفاق کرتا ہے یا نہیں۔اصل سوال یہ ہے کہ مصنف نے اپنے عہد کے واقعات کو کتنی دیانت، کتنی تحقیق اور کتنی ادبی قوت کے ساتھ محفوظ کیا ہے۔اگر اس معیار پر دیکھا جائے تو معرکہ حق کو ایک قومی یادداشت کے طور پر اہم مقام حاصل ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں جنگوں اور قومی بحرانوں پر بہت کچھ لکھا گیا، لیکن ہر دور کی اپنی زبان ہوتی ہے۔ 1965 کی جنگ کا بیانیہ اپنی جگہ، 1971 کا سانحہ اپنی جگہ اور کارگل کی جنگ اپنی جگہ۔ اسی طرح 2025 کا پاک بھارت تصادم بھی مستقبل میں پاکستان کی عسکری اور سفارتی تاریخ کا ایک اہم باب ہوگا۔ سردار خان نیازی نے اس باب کو اپنے قلم سے محفوظ کرنے کی کوشش کی ہے۔ میرے نزدیک معرکہ حق کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ قومیں جنگیں کیسے جیتتی ہیں اور تاریخ انہیں کیسے یاد رکھتی ہے؟ میدانِ جنگ میں کامیابی چند دنوں یا چند ہفتوں میں طے ہو سکتی ہے، مگر تاریخ کا فیصلہ دہائیوں بعد ہوتا ہے۔ اس لیے آج کے قلم کار کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے عہد کے واقعات کو صرف جذبات کی روشنی میں نہیں بلکہ تحقیق، دیانت اورتاریخی شعور کے ساتھ بھی محفوظ کرے۔معرکہ حق اسی قومی ضرورت کی طرف ایک اہم قدم ہے۔یہ کتاب ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ قوموں کی زندگی میں کچھ معرکے ایسے ہوتے ہیں جو میدان میں ختم نہیں ہوتے۔ ان کا دوسرا مرحلہ کتابوں، کالموں اور تاریخ کے صفحات میں شروع ہوتا ہے۔بندوق معرکہ جیت سکتی ہے، مگر قلم ہی اسے تاریخ بناتا ہے اور شاید یہی سردار خان نیازی کی معرکہ حق کا سب سے بڑا حوالہ ہے۔اس کتاب کی حکومتی سطح پر پزیرائی ہونی چاہیے۔ آپ نے اس کتاب کی تقریب رونمائی اسلام آباد میں حفظہ قرآن پڑھنے والے بچوں اور ان کے اساتذہ سے کرائی۔ اپنے پروگرام سچی بات میں کتاب کی تقریب رونمائی پروگرام سچی بات کا حصہ بنایا اور دکھایا بھی۔ اس کتاب کی پاکستان کی تمام لائبریریوں میں جگہ بنتی ہے۔ کالموں پر مبنی معرکہ حق کی کتاب پر سردارخان نیازی کو قوم مبارک باد پیش کرتی ہے ۔ لو یو سردار صاحب






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں