افغان طالبان کی سخت گیر پالیسیاں، اندرونی دھڑے بندی اور ناقص حکومتی امور کے باعث افغانستان میں ایک بار پھر شدید اندرونی اختلافات اور ممکنہ خانہ جنگی کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ کابل اور قندھار کی قیادت کے درمیان اختیارات کی رسہ کشی، خواتین کی تعلیم و روزگار پر پابندیوں پر اندرونی اختلاف، اور عالمی تنہائی اس بحران کی اہم وجوہات ہیں۔ سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کی جانب سے تمام اختیارات قندھار منتقل کرنے اور کابل کے وزراء کو نظر انداز کرنے سے اندرونی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ پالیسیوں پر اختلاف اور اندرونی رسہ کشی کے باعث طالبان رجیم کے وزراء اور عمائدین کے درمیان فاصلے بڑھے ہیں۔خواتین کی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم اور بیشتر شعبوں میں کام کرنے پر پابندی نے ملک کو شدید عالمی تنہائی اور عدم استحکام سے دوچار کر رکھا ہے۔ بین الاقوامی امداد کی کٹوتی اور سرمایہ کاری نہ ہونے سے معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے، جس سے عام عوام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے ۔ داعش خراسان اور نیشنل ریزسٹنس فرنٹ جیسی مخالف عسکری تنظیمیں متحرک ہیں جو طالبان کی سکیورٹی رٹ کو چیلنج کر رہی ہیں۔ پاکستان کے ساتھ سرحدی تنازعات اور سکیورٹی معاملات پر عدم تعاون کے باعث خطے میں تناؤ بڑھ رہا ہے۔کئی ممالک کے دباؤ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی کڑی تنقید کے باوجود افغانستان میں طالبان نے اپنی حکومت کے پانچ سال مکمل کر لیے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ افغانستان میں ایک اہم پہلو کا ناپید ہونا ہے۔ وہ پہلو کیا ہے؟ اگست 2021 میں کابل پر دوبارہ قبضے کے بعد بہت سے مبصرین کا خیال تھا کہ افغان طالبان کو جلد ہی شدید سیاسی اختلافات، معاشی بحران اور مسلح مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔لیکن پانچ سال گزرنے کے باوجود طالبان نہ صرف اقتدار میں موجود ہیں بلکہ ان کا ملک کے تقریباً تمام ریاستی اداروں پر مکمل کنٹرول برقرار ہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کے مقابلے میں کوئی مؤثر سیاسی یا فوجی اپوزیشن ابھر نہیں سکی۔اس سے قبل طالبان کی پہلی حکومت میں وہ سو فیصد ملک پر قابض بھی نہیں تھے اور انہیں پنج شیر میں احمد شاہ مسعود کی عسکری مزاحمت کا سامنا تھا۔ افغانستان کی حالیہ تاریخ بتاتی ہے کہ کسی بھی حکومت کے لیے سب سے بڑا خطرہ منظم سیاسی مخالفین یا مضبوط مسلح مزاحمت ہوتی ہے۔طالبان کے معاملے میں نہ تو کوئی فعال اور متحد سیاسی محاذ تشکیل پا سکا اور نہ ہی کوئی ایسی عسکری تحریک سامنے آئی جو ان کے اقتدار کیلئے حقیقی چیلنج بن سکے۔سیاسی جماعتوں پر پابندی ہے لہٰذا ملک کے اندر نہ تو اسے کوئی سیاسی چیلنج درپیش ہے اور نہ ہی متحدہ اپوزیشن۔اشرف غنی حکومت کے خاتمے کے بعد بیشتر اہم رہنما ملک چھوڑ گئے۔ جلاوطنی میں موجود یہ رہنما ابھی تک کسی متفقہ ایجنڈے، قیادت یا متبادل نظام حکومت پر اتفاق نہیں کر سکے۔ان میں سے اکثر سوشل میڈیا کی حد تک تو ‘کی بورڈ واریئرز’ بنے ہوئے ہیں لیکن زمین پر کچھ نہیں۔ نتیجتاً افغان عوام کے پاس طالبان کے مقابلے میں کوئی واضح سیاسی متبادل موجود نہیں۔افغانستان میں طالبان کے سخت کنٹرول کی وجہ سے سول سوسائٹی بھی اگر ناپید نہیں تو سرگرم نہیں۔ اختلاف رائے رکھنے والے کئی کارکنوں اور صحافیوں کو دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔لیکن اب صورتحال مختلف ہے۔ کئی کمانڈر حکومت سے علیحدہ ہو کر طالبان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ طالبان رجیم کی ناقص پالیسیوں نے افغانستان کو خانہ جنگی کے دہانے پر پہنچا دیا۔کمانڈر جمعہ خان نے مقامی عمائدین سے مشاورت بھی تیز کر دی ہے۔باغی کمانڈر جمعہ خان فاتح نے افغان رجیم کیخلاف جنگی تیاریوں میں اضافہ کردیا ہے جس سے صوبہ بدخشاں میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہورہی ہے۔ طالبان رجیم اور سابق ڈپٹی گورنر جمعہ خان فاتح میں اختلافات نے سنگین بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔کمانڈر جمعہ خان نے جنگجوؤں کو منظم کرنیکے ساتھ ساتھ مقامی عمائدین سے مشاورت بھی تیز کر دی ہے، افغان رجیم کی مذاکرات اور نئے عہدے کی پیشکش کے باوجود جمعہ خان نے حکومتی ڈھانچے میں واپسی کو مسترد کر دیا ہے۔ کمانڈر جمعہ خان نے اپنی فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھ کر فوجی و لاجسٹک دونوں لحاظ سے مکمل طور پر تیار کر دیا ہے۔ جمعہ خان فاتح کا ماننا ہے کہ بدخشاں کاپہاڑی علاقہ طالبان رجیم کیلئے ان کیخلاف فوجی آپریشن انتہائی مشکل بنادے گا۔پنج شیر اور شمالی افغانستان میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ سمیت بعض مزاحمتی گروہوں نے حملے کیے، مگر وہ کسی علاقے پر مستقل کنٹرول قائم کرنے میں ناکام رہے۔ان گروہوں کے پاس نہ تو طالبان جیسا جنگی ڈھانچہ ہے، نہ محفوظ پناہ گاہیں، نہ مضبوط مالی وسائل اور نہ ہی کوئی بڑی بیرونی سرپرستی ۔ پاکستان کی شمالی سرحد سے منسلک بدخشاں صوبے میں کچھ چھڑپیں گذشتہ چند ماہ سے جاری ہیں لیکن ان کے پھیلنے کے امکانات کم ہیں۔طالبان نے اس علاقے میں مزاحمت کو ختم کرنے کیلئے مزید سکیورٹی اہلکار تعینات کیے ہیں۔بدخشاں میں مزاحمت میں پیش پیش کمانڈر جمعہ خان فتح کاجھگڑا بھی مقامی معدنیات پر زیادہ اور سیاسی کم ہے۔آج کی صورت حال 1990 اور 2000 کی دہائیوں سے بالکل مختلف ہے، جب طالبان خود حکومت مخالف تحریک تھے اور انہیں سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں، مالی معاونت اور مختلف سطحوں پر علاقائی حمایت حاصل تھی۔آج طالبان کے مخالف گروہوں کے پاس ایسی سہولت موجود نہیں۔ اس لیے ان کی کارروائیاں زیادہ تر علامتی رہتی ہیں اور ملک کے طاقت کے توازن کو تبدیل نہیں کر پاتیں۔





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں