فلسطینیوں کو کھلم کھلا جانور نہیں کہا۔سن ساٹھ کی دھائی میں تب کے وزیر دفاع موشے دیان نے فلسطینیوں کو”تتیا” اور”کتا” بتایا۔ انیس سو اسی کے عشرے میں اسرائیل وزیر اعظم مینم بیگن نے اعلان کیاکہ فلسطینی در اصل دو ٹانگوں والے جانور ہیں ۔ ان کے بعد آنے والے وزیر اعظم ایتزاک شمیر کا خیال تھا کہ فلسطینی در اصل ٹڈیاں ہیں۔ فوج کے ایک سابق سربراہ جنرل رافیل ایتان نے فلسطینیوں کو لال بیگ بتایا۔ اَور وزیر اعظم یہود براک نے بتایا کہ فلسطینی مگر مچھ ہیں۔سات اکتوبردو ہزار تیئس کے حملے کے بعد اس وقت کے اسرائیل وزیر دفاع یودو گیلنٹ نے تمام فلسطینیوں کو انسان نما جانور قراردیا۔صہیونیت کے باوہ آدم تھیووڈور ہر تزل، نے ایک صدی پہلے فلسطین کو فلسطینیوںسے خالی کروانے کے لیے جو تجاویز مرتب کیں، ان میں ایک یہ بھی تھی کی اس خطے کو زہریلے سانپوں (فلسطینی)سے پاک کروانے کا کام مقامی باشندوں(عرب) سے لیے جائے اور انہیں اس کام کا مناسب معاوضہ بھی ملنا چاہیے۔اسرائیل کے قیام کے بعد صہیونی انتظامیہ نے ان تمام چرند پرند کو اس سر زمین میں پھر سے بسانے کا منصوبہ بنایا جس کا ذکر مقدس کتابوںمیں موجود تھا مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہاں کے لیے نایاب ہو گئے تھے۔مثلاًایرانی ہرن اور جنگلی گدھے وغیرہ۔ شاہ ایران نے زوال سے چند برس پہلے کچھ جنگلی کدھے تحفے میں بھجوائے جنہیں اسرائیل کے صحرا میں چھوڑا گیا اور ان کاشکارپکڑدھکڑ یا جسمانی نقصان پہنچانا یا بھوکا مارنا قابل تعزیر جرم قرار پایا۔ عرب بدوئوں کے پالتو اُونٹوں کو ممانت کی گئی کہ وہ جنگلی گدھوں کے لیے مختص تالابوں سے پانی نہیں پی سکتے۔ ورنہ بھاری جرمانہ ہو گا۔ اسی طرح ایرانی ہرنوں کو مغربی کنارے کے پتھریلے علاقے یں چھوڑنے سے پہلے یہاں مقامی جنگلی کتوں کی نسل کا صفایا کر دیا گیا۔ ”گولڈ ٹنچ ”نامی چڑیا فلسطینی بہت زوق سے پالتے ہیں۔ اسے پالنا غیر قانونی قراردے دیا گیا۔ جہاں تک کہ فلسطین کے نایاب سانپ کی شناخت تک چرا کے دو ہزار اٹھار ہ میں اسے اسرائیل سانپ کا درجہ دے دیا۔ اسرائیل اسٹبلیشمنٹ یہ بھی نہیں چاہتی کہ اسے جانوروں پر ظلم یا غیر فطری کام لینے کا ملزم سمجھا جائے چنانچہ جب غزہ کے معروف شاعر ”رفعت العریر”نے بمباری کے سبب غزہ کے چڑیا گھر میں قید فاقہ زدہ یا مرے ہوئے جانوروں کااحوال دنیا کو بتانے کی کوشش کی تو ہفتے بھر بعد اسرائیلی طیاروں نے ”رفعت العریر” کو گھر اوراہل خانہ سمیت اُڑا دیا۔ غزہ میں بار برداری اور سفر کے لیے گھوڑوں کااستعمال بہت پرانا ہے۔ اسرائیل نے نہ صرف غزہ کی چوراسی فیصدی حصہ ہریالی روند ڈالی، بلکہ انسانوں کے ساتھ ساتھ ان کے زیر استعمال ستانوے فیصد مویشی بھی بھوک اور بمباری کی نذر ہو گئے۔ بڑی تعداد میں پالتوں جانور چرا لیے گئے۔ گویا انسان کشی کے ساتھ ساتھ بھر پور حیوانی و حیاتاتی نسل کشی بھی ہوئی۔ مقبوضہ مغربی کنارے پرتو اب یہ معمول ہے کہ فوج کی سرپرستی میں مسلح یہودی آباد کار گھروں اور کھلیانوں کو آگ لگاتے ہیں۔ زیتون کے با غات بلڈوز کرتے ہیں اورپالتو جانور کھول کے لیے جاتے ہیں۔ فلسطینیوں کے خلاف جنگلی جانوروں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا سلسلہ بھی مسلسل جاری ہے۔دو ہزار نوے کے بعدمتعدد بار مغربی کنارے پر فلسطینی کھیتوں میں بڑی تعدادمیں جنگلی سور چھوڑے گئے تاکہ وہ فصلیں روند سکیں اور انسانوں کو زخمی کر سکیں۔مغربی کنارے پر اسرائیلی بستیوں کے ارد گرد مضبوط باڑ کے سبب یہ سور ان بستیوں میں داخل نہیں ہوسکتے۔ جبکہ فلسطینی دیہاتوں میں حفاظتی باڑھ لگانے کی اجازت نہیں۔ گویا ان سوروں کو قانونی تحفظ بھی حاصل ہے لہٰذا انہیں مارا بھی نہیں جاسکتا۔برطانوی نو آبادیاتی قبضے کے دوران انیس سو چھتیس تا انتالیس لگ بھگ ہر فلسطینی غلامی کے خلاف اُٹھ کھڑاہوا چنانچہ انگریزوں نے جنوبی افریقہ سے شکاری کتے در آمدکیے۔ انہیں بھوکا رکھاجاتا پھر باغی فلسطینی قیدیوں پر چھوڑا دیا جاتا۔ اس نوآبادیاتی سفاکی کو اسرائیلیوںنے اگلے مرحلے تک پہنچا دیا۔ فلسطینی قیدیوں کو بھنبورنے کے لیے تربیت یافتہ کتوں کی ایک بڑی تعداد ہالینڈ سے درآمد کی گئی۔ انہیں صرف قید خانوں میں بلکہ گھرو ںپر چھاپوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق کتوں کے ایک غول کو قیدیوں کو ریپ کرنے کی تربیت بھی دیجاتی ہے۔ اسرائیل نے اس ”بے بنیاد الزام” پر اخبار کو عدالت میں کھڑاکرنے کی دھمکی دی، مگر پھر شاید کچھ سوچ بچار کے بعد غصہ ٹھنڈا ہو گیا۔ اسرائیل قانون کے تحت بطخوں اور راج ہنس سمیت متعدد آبی پرندوں کو جبراً خوراک نہیں دی جا سکتی۔اس کے لیے علاقے مختص ہیں تاکہ وہ آزادانہ گھوم پھر کے من پسند خوراک تلاش کرسکیں۔ اس کے برعکس ہرتالی قیدیوں کے منہ میں جبراً کھانا ٹھونسنا قانوناً جائز ہے۔ اب جیلوں کے اردگرد بھوکے مگر مچھ چھوڑنے کے اعلان کا مطلب یہ ہے کہ ایک جانور دوسرے جانور(فلسطینی) کو قانوناً کھا سکے گا۔





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں