بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 23.7°C
Thursday, 20 August 2026 | پاکستان: 8 ر بیع الاول 1448

قیام پاکستان اور علی گڑھ کے لونڈے

Thursday, 20 August, 2026

ایک سوال ہوا،کیا پاکستان علی گڑھ کے لونڈوں کی سازش تھا؟اس سوال کو کبھی مولانا ابوالکلام آزاد سے منسوب کیا جاتا ہے تو کبھی جون ایلیا سے، درحقیقت یہ فقرہ کوئی علمی فیصلہ نہیں، ایک طعنہ ہے؛ اور طعنے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ سوچنے کی زحمت بچا دیتا ہے۔ ایک جملے میں نصف صدی کی سیاست، تین بڑی جماعتوں کی حکمتِ عملی، ایک سلطنت کے انخلا کی مجرمانہ عجلت اور کروڑوں انسانوں کا خوف لپیٹ کر ایک طرف رکھ دیا جاتا ہے۔ سہولت بہت ہے، سچائی بہت کم۔ اس طعنہ یا دعوے کی حقیقت سمجھنے کے لئے محمد علی جناح اور ان کے مزاج کو سمجھنا پڑتا ہے۔ یہ وہ شخص تھا جسے سروجنی نائیڈو نے ”ہندو مسلم اتحاد کا سفیر”کہا تھا؛ جس نے 1916 میں میثاقِ لکھن کی صورت میں کانگریس اور مسلم لیگ کو ایک میز پر بٹھایا؛ جس نے 1929 میں چودہ نکات پیش کیے تو ان کا مرکزی مطالبہ علیحدگی نہیں، وفاق میں تحفظ تھا۔ جناح عدالتوں اور کمیٹی روموں کے آدمی تھے۔ ان کا ہتھیار دلیل تھا، ہجوم نہیں۔ ایسے آدمی کے بارے میں یہ فرض کر لینا کہ اس نے میز پر بیٹھ کر لاکھوں انسانوں کے قتلِ عام اور تاریخ کی سب سے بڑی پرتشدد ہجرت کا نقشہ بنایا تھا، تاریخ کے ساتھ نہیں، عقلِ سلیم کے ساتھ زیادتی ہے۔اس دعوے کا سب سے مضبوط جواب مئی 1946 میں موجود ہے۔ کابینہ مشن پلان نے ہندوستان کے لیے تین درجاتی ڈھانچہ تجویز کیا تھا: ایک نہایت محدود مرکز جس کے پاس صرف دفاع، خارجہ امور اور مواصلات ہوں؛ صوبوں کے تین گروپ، جن میں گروپ “بی(پنجاب، سندھ، سرحد، بلوچستان)اور گروپ سی(بنگال و آسام) عملاً مسلم اکثریت کے زیرِ انتظام ہوتے؛ اور خود صوبے، جن کے پاس باقی تمام اختیارات رہتے۔ مسلم لیگ نے 6 جون 1946 کو یہ منصوبہ قبول کر لیا۔ اس قبولیت کا مطلب یہ تھا کہ لیگ نے ایک خودمختار، آزاد پاکستان کا مطالبہ فی الوقت طاق میں رکھ دیا۔ سوال سیدھا ہے: کوئی سازشی اپنی سازش کا مقصد اپنے ہاتھ سے کیوں چھوڑے گا؟ سچ یہ ہے کہ جناح ملک توڑنے نہیں، ملک کے اندر مسلمانوں کیلئے آئینی ضمانت حاصل کرنے نکلے تھے اور 1946 کے وسط تک وہ اس میں کامیاب ہو چکے تھے۔پھر یہ عمارت گری کیسے؟ 10 جولائی 1946 کو بمبئی میں جواہر لعل نہرو نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس دستور ساز اسمبلی میں کسی معاہدے کی پابند نہیں ہو گی اور منصوبے میں ردوبدل کر سکتی ہے۔ ایک جملے نے وہ اعتماد ختم کر دیا جو مہینوں کی مشقت سے بنا تھا۔ 29 جولائی کو لیگ نے اپنی منظوری واپس لے لی، اور 16 اگست کو “یومِ راست اقدام” کا اعلان ہوا۔ کلکتہ میں جو ہوا، وہ برصغیر کی سیاست کا رخ موڑ گیا؛ اندازوں کے مطابق چند دنوں میں ہزاروں انسان مارے گئے۔ اس کے بعد اکتوبر میں نوا کھالی، نومبر میں بہار اور گڑھ مکتیشور، اور مارچ 1947 میں راولپنڈی۔ یہ تفصیل صرف اعداد نہیں، ایک دلیل ہے: تقسیم سے پورا ایک سال پہلے خون بہنا شروع ہو چکا تھا۔ یعنی قتلِ عام تقسیم کا نتیجہ نہیں تھا؛ وہ آئینی راستے کے بند ہونے کا نتیجہ تھا، اور تقسیم بھی اسی بندش کا نتیجہ تھی۔انگریز نے آخری وقت میں جو کیا، اس کا کوئی جواز نہیں۔ فروری 1947 میں ایٹلی نے جون 1948 تک اقتدار کی منتقلی کا اعلان کیا تھا۔ مانٹ بیٹن نے مارچ میں آ کر یہ مدت گھٹا کر 15 اگست 1947 کر دی۔ دس ماہ کی کٹوتی، ایک ایسے برصغیر میں جہاں پہلے ہی فسادات جاری تھے۔ سرحد کھینچنے کا کام سرل ریڈکلف کو سونپا گیا، جو 8 جولائی کو ہندوستان پہنچے، اس سے پہلے کبھی ہندوستان نہیں آئے تھے، اور جنہیں پانچ ہفتے دیے گئے۔ ان کا فیصلہ 17 اگست کو، یعنی آزادی کے دو دن بعد شائع ہوا۔ 14 اور 15 اگست کی رات پنجاب اور بنگال کے لاکھوں لوگ نہیں جانتے تھے کہ ان کا گاؤں کس ملک میں ہے۔پنجاب باؤنڈری فورس اس آگ کے سامنے ایک مذاق تھی۔ انتظامی نااہلی کو سازش کہنا سازش کرنے والوں پر مہربانی ہے۔اب اصل زخم کی طرف آئیے، جسے ہماری درسی کتابیں چھوتی تک نہیں۔ یو پی اور سی پی کے مسلمان اپنے صوبوں میں اقلیت تھے۔ یو پی کی آبادی کا لگ بھگ ساتواں حصہ۔ 1937 کے انتخابات کے بعد کانگریس نے آٹھ صوبوں میں حکومتیں بنائیں، اور یہی خوف اس طبقے میں سب سے شدید تھا جسے پاکستان سے سب سے کم فائدہ پہنچنا تھا، کیونکہ ان کے صوبے کبھی پاکستان کا حصہ بن ہی نہیں سکتے تھے۔ علی گڑھ کے طلبہ کے بارے میں طعنے میں سچائی کا ایک ذرہ ضرور ہے، مگر وہ ذرہ وہ نہیں جو طعنہ زن سمجھتا ہے۔ 1945-46 کے انتخابات میں یہ نوجوان یو پی، بہار، اوربنگال کے قصبوں میں پھیل گئے، اور مسلم لیگ نے صوبائی اسمبلیوں کی مسلم نشستوں میں سے تقریبا 425 جیت لیں۔ یہ ایک غیر معمولی تنظیمی کارنامہ تھا۔ لیکن اس کارنامے کی قیمت یہ تھی کہ”پاکستان”جو جناح کے ہاتھ میں ایک سودے کا پتہ اور ایک آئینی مطالبہ تھا، گلی کوچوں میں ایک عقیدہ بن گیا۔ 1946 کے موسمِ گرما میں جو دروازہ کھلا تھا، وہ کانگریس کی انا اور اس جذباتی مطلق العنانی نے مل کر بند کیا۔ نوجوانوں نے ملک نہیں بنایا؛ انہوں نے درمیانی راستے کی گنجائش ختم کی۔ اور اس بندش کی سب سے بھاری قیمت اس صوبے نے ادا کی جس نے سب سے پہلے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ مارچ 1943 میں سندھ اسمبلی برصغیر کی پہلی مقننہ تھی جس نے قراردادِ پاکستان کی تائید میں قرارداد منظور کی۔ سندھ نے پاکستان مانگا تھا۔ جو سندھ نے نہیں مانگا تھا، وہ اس کے بعد آنے والا سماجی زلزلہ تھا۔ 1941 کی مردم شماری کے مطابق سندھ کی آبادی کا تقریبا ایک چوتھائی ہندو تھا، اور کراچی، حیدرآباد، سکھر اور شکارپور جیسے شہروں میں یہ تناسب کہیں زیادہ۔ کراچی میں تو تقریبا نصف کے قریب۔ تجارت، تعلیم، طب اور بینکاری کا بڑا حصہ انہی کے ہاتھ میں تھا۔ اور یہ وہ سرزمین تھی جس کی روح شاہ عبداللطیف بھٹائی اور سچل سرمست نے گوندھی تھی؛ جہاں مذہب دیوار کم اور دہلیز زیادہ تھا۔ اگست ستمبر 1947 میں سندھی ہندوں کی اکثریت جانے کو تیار نہیں تھی۔ ان کا کوئی ارادہ گھر چھوڑنے کا نہیں تھا۔ پھر ٹرینیں آنے لگیں۔ پنجاب سے، اور بعد میں یو پی اور سی پی سے آنے والے لوگ اپنے ساتھ صرف سامان نہیں لائے تھے۔ وہ کٹے ہوئے خاندان، جلائی ہوئی بستیاں اور لاشوں سے بھری گاڑیوں کی یادیں لائے تھے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ یہ کہا جائے: یہ لوگ سب سے پہلے مظلوم تھے۔ مگر تاریخ کا ایک ظالم اصول یہ بھی ہے کہ صدمہ سفر کرتا ہے، اور اکثر اپنی منزل پر پہنچ کر کسی تیسرے فریق سے حساب چکاتا ہے۔ کراچی کی آبادی اور مزاج، دونوں چند برسوں میں بدل گئے۔ 6 جنوری 1948 کو کراچی کے رتن تالاب میں گور دوارے پر ہونے والا حملہ اس بدلا کا سب سے سیاہ لمحہ تھا؛ ہلاکتوں کے سرکاری اور غیر سرکاری اندازوں میں فرق ہے، مگر یہ اتفاق ہے کہ وہ سینکڑوں میں تھیں۔ اسی دن کے بعد سندھی ہندوں کا وہ اجتماعی انخلا شروع ہوا جو چند ماہ پہلے تک ناقابلِ تصور تھا۔تو جواب کیا ہے؟ یہ کہ “علی گڑھ کے لونڈوں کی سازش” والا فقرہ اس لیے غلط نہیں کہ اس میں طلبہ کو اہمیت دی گئی ہے، بلکہ اس لیے غلط ہے کہ یہ کہانی کو بہت چھوٹا کر دیتا ہے۔ اس میں کانگریس کی وہ انا نہیں جس نے ایک قابلِ عمل وفاق ٹھکرایا، انگریز کی وہ عجلت نہیں جس نے دس ماہ کاٹ دیے، ریڈکلف کے وہ پانچ ہفتے نہیں، اور ایک خوفزدہ اقلیت کی وہ جذباتی سیاست نہیں جس نے سمجھوتے کو گالی بنا دیا۔ سب سے بڑھ کر، اس میں ہماری اپنی وہ ذمہ داری نہیں جو 15 اگست 1947 کی صبح سے شروع ہوتی ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *