بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 24.6°C
Tuesday, 25 August 2026 | پاکستان: 13 ر بیع الاول 1448

سوشل میڈیا کیلئے ضابطہ کارپرعملدرآمدناگزیر

Tuesday, 25 August, 2026

سوشل میڈیا جدید زندگی کا ایک لازمی جزو بن چکا ہے۔یہ لوگوں کو آپس میں جوڑتا ہے ، سیکھنے کے عمل میں سہولت فراہم کرتا ہے اور بچوں کو معلومات کی ایک وسیع دنیا تک رسائی دیتا ہے ۔ تاہم جہاں اس کے فوائد ہیں،وہیں اس کا تاریک پہلو ہمارے بچوں کو تیزی سے متاثر کر رہا ہے۔سائبر بلنگ،نامناسب مواد تک رسائی، ڈیجیٹل لت اور موبائل فونز پر حد سے زیادہ انحصار بچوں کی ذہنی، جذباتی اور جسمانی صحت پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔اب بچوں کو ان نقصانات سے بچانے کی اشد ضرورت ہے۔اسی لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست اہمیت کی حامل ہے۔اس درخواست میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال کو منظم کرنے کیلئے قانون سازی اور ایک جامع ضابطہ کارمتعارف کرائے۔درخواست میں عمر کی تصدیق کے موثر نظام،بچوں کے ڈیجیٹل حقوق اور پرائیویسی کے تحفظ،ان کی ذہنی و جسمانی صحت کے تحفظ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ذمہ داریوں کے تعین کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اس میں نابالغوں کے آن لائن تحفظ کے لیے ایک مخصوص ادارہ جاتی نظام قائم کرنے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔اس سے قبل پنجاب اسمبلی نے بھی ایک قرارداد کے ذریعے یہ معاملہ اٹھایا تھا جس میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکائونٹس پر ملک گیر پابندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔اس مسئلے کی سنگینی اور فوری نوعیت کو تسلیم کرنے میں پاکستان اکیلا نہیں ہے۔کئی ممالک نرم رہنما اصولوں سے آگے بڑھ کر لازمی پابندیوں اور پلیٹ فارمز کے سخت احتساب کی جانب بڑھ چکے ہیں۔آسٹریلیا وہ پہلا ملک تھا جس نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اکانٹس بنانے پر ملک گیر پابندی عائد کی ۔ فرانس اور چین نے بھی بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی کو منظم کرنے کے لیے اقدامات متعارف کرائے ہیں۔ہمیں بھی اسی قدر فوری اور سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ہم اپنے بچوں کو غیر محفوظ حالات میں نہیں چھوڑ سکتے جبکہ پالیسی ساز اس مسئلے پر بحث کرتے رہیں۔موثر قانون سازی،عمر کی قابلِ اعتماد تصدیق اور پلیٹ فارمز کا احتساب ناگزیر ہیں۔والدین کو بھی مناسب حدود مقرر کرنی چاہئیں،بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی کرنی چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ اسمارٹ فونز خاندانی میل جول، پڑھائی، نیند اور بیرونی سرگرمیوں کی جگہ نہ لے لیں۔سوشل میڈیا کے نقصانات سے بچوں کو بچانے کا مطلب انہیں ٹیکنالوجی سے محروم کرنا نہیں ہے۔اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ٹیکنالوجی ان کے مفادات کیلئے کام کرے نہ کہ ان کی کمزوریوں کا استحصال کرے۔ہمارے بچے اس سے کم کسی چیز کے مستحق نہیں ہیں۔
ایک بڑھتی ہوئی شراکت داری
حالیہ عرصے میں پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان مختلف سطحوں پر بڑھتا ہوا رابطہ اور مشغولیت انتہائی حوصلہ افزا ہے اور یہ دونوں برادر ممالک کے تعلقات کو مزید بلندیوں تک لے جانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔یہ بڑھتا ہوا باہمی رابطہ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور مشترکہ دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے میں دونوں ممالک کی باہمی دلچسپی کا عکاس ہے ۔ ملائیشیا کے وزیر داخلہ داتوک سری سیف الدین ناسوتیون اسماعیل کا دورہ اور پاکستانی قیادت سمیت وزیر داخلہ محسن نقوی، کے ساتھ ان کی ملاقاتیں خاص طور پر اہمیت کی حامل ہیں۔دونوں فریقین نے ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینے کیلئے اپنی وزارتِ داخلہ کے درمیان ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے پر اتفاق کیا،جس میں انسدادِ دہشت گردی،انسدادِ منشیات، سائبر کرائم اور غیر قانونی تارکینِ وطن کی روک تھام جیسے اہم شعبے شامل ہوں گے۔ کوسٹ گارڈز کے درمیان تعاون،تربیتی پروگراموں اور پاکستان کی نیشنل پولیس اکیڈمی اور رائل ملائیشیا پولیس کالج کے مابین بڑھتے ہوئے رابطوں پر بھی بات چیت کی گئی۔یہ تعاون کے اہم شعبے ہیں،خاص طور پر ایسے وقت میں جب سیکیورٹی چیلنجز کی نوعیت تیزی سے بین الاقوامی ہوتی جا رہی ہے۔باقاعدہ ادارہ جاتی تبادلے، مہارتوں کا اشتراک اور استعدادِ کار میں اضافہ دونوں ممالک کو ابھرتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔تعاون کو دیگر شعبوں تک بھی وسعت دی جا سکتی ہے جن میں تجارت و سرمایہ کاری، سیاحت، تعلیم، ٹیکنالوجی اور عوام کے درمیان رابطے شامل ہیں۔حالیہ برسوں میں ملائیشیا ہماری افرادی قوت اور اعلی تعلیم کے خواہشمند نوجوانوں کیلئے ایک اہم منزل کے طور پر بھی ابھرا ہے۔یہ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کا ایک اور ذریعہ فراہم کرتا ہے۔لہٰذاہمیں ملائیشین دوستوں کے ساتھ مل کر پاکستانی کارکنوں کیلئے روزگار کے مزید مواقع پیدا کرنے اور موجودہ ورک کوٹہ بڑھانے پر کام کرنا چاہیے۔مضبوط ادارہ جاتی تعاون، بڑھتے ہوئے معاشی روابط اور ہمارے کارکنوں اور طلبا کیلئے زیادہ مواقع دوطرفہ تعلقات کو ایک عملی اور باہمی طور پر فائدہ مند جہت دے سکتے ہیں،جس سے پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان دوستی ایک نئی سطح پر پہنچ جائے گی۔
سرکاری ہسپتالوں کی ابتر صورتحال
وزیراعظم شہباز شریف کا’پمزہسپتال میں ‘کمپیوٹڈ ٹوموگرافی اینجیوگرافی کی سہولت کے غیر فعال ہونے کا نوٹس لینا،ملک کے سرکاری ہسپتالوں کی ابتر صورتحال کو اجاگر کرتا ہے ایک ایسی صورتحال جس کی نشاندہی کی شاید ہی ضرورت ہو۔ان ہسپتالوں کے حالات حکومت اور عوام دونوں پر عیاں ہیں۔تشویشناک بات یہ ہے کہ ایک بڑے سرکاری ہسپتال میں انتظامی نوعیت کے معمولی معاملے پر وزیراعظم کو مداخلت کرنی پڑی حالانکہ ایسے مسائل کی نشاندہی اور حل ہسپتال کی انتظامیہ کی اپنی ذمہ داری ہونی چاہیے۔اصل مسئلہ محض کسی مشین کی عدم دستیابی کا نہیں ہے ۔ اگرچہ طبی آلات کی کمی ایک سنگین معاملہ ہے۔زیادہ تشویشناک سوال یہ ہے کہ ایک انتہائی اہم مشین کو برسوں تک غیر فعال کیوں رہنے دیا گیااور ریڈیولوجی ڈیپارٹمنٹ میں موجود ایک فعال مشین کو محض شعبہ جات کے درمیان باہمی رابطے کے فقدان کی وجہ سے کیوں استعمال نہیں کیا گیا؟اس سے ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے:آخر ان ہسپتالوں کو چلانے کے ذمہ دار افراد کیا کر رہے ہیں؟ہسپتال کی انتظامیہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ضروری طبی آلات فعال رہیں،مختلف شعبہ جات کے درمیان باہمی رابطہ قائم رہے اور مریضوں کو وہ خدمات میسر آئیں جن کے وہ حقدار ہیں۔اگر ان بنیادی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کیا جا رہاتو محض انکوائری کمیٹی تشکیل دینے سے اس بڑے مسئلے کا حل نہیں نکلے گا۔کمیٹی کو یقینا یہ تعین کرنا چاہیے کہ’پمز’میں کہاں کوتاہی ہوئی اور ذمہ داری کا تعین کرے لیکن معاملہ یہیں ختم نہیں ہونا چاہیے ۔ تمام سرکاری ہسپتالوں کا ایک جامع جائزہ لیا جانا چاہیے جس میں طبی آلات کی حالت اور فعالیت،دیکھ بھال اور مرمت کے انتظامات، عملے کی تعیناتی ،شعبہ جات کے درمیان باہمی رابطے،مریضوں کو دوسرے ہسپتال بھیجنے کے طریقہ کار اور طبی خدمات کے معیار کا جائزہ لیا جائے ۔ سرکاری ہسپتالوں کو ایسے اداروں میں تبدیل کرنے کیلئے سیاسی عزم، انتظامی احتساب اور ایک سنجیدہ پروگرام کی ضرورت ہے جو حقیقی معنوں میں عوام کی خدمت کر سکیں۔
ٹیرف کا جال
امریکہ اور کینیڈا کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی، جس میں جارحانہ ٹیرف کا خطرہ نمایاں ہے،سفارتی عدم استحکام کے ایک وسیع تر رجحان کی علامت ہے۔اپنے قریبی ترین شراکت داروں میں سے ایک کے خلاف تجارت کو جبر کے آلے کے طور پر استعمال کر کے ، امریکی انتظامیہ درحقیقت شمالی امریکہ کے اقتصادی راہداری کے استحکام کو تباہ کر رہی ہے۔ یہ کوئی تذویراتی ایڈجسٹمنٹ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی جارحیت ہے؛ٹرمپ اپنے اتحادیوں کو بھی مخالف بنا رہے ہیں حالانکہ وہ پہلے ہی تقریبا ہر دوسرے عالمی شراکت دار کو ناراض کر چکے ہیں۔تعاون پر مبنی ڈھانچے سے تصادم پر مبنی ڈھانچے کی طرف منتقلی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ امریکہ بالآخر تنہائی کا شکار ہو جائے گا،قطع نظر اس کے کہ اس کی معاشی طاقت کتنی ہی کیوں نہ ہو۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *