یہ امر قابل ذکر ہے کہ بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان سفارتی تعلقات ایک مرتبہ پھر اہم موڑ پر پہنچ گئے ہیں۔بنگلہ دیشی وزیراعظم طارق رحمان کے ممکنہ دورہ بھارت کے حوالے سے ڈھاکا نے واضح کر دیا ہے کہ نئی دہلی کے ساتھ اعلیٰ سطحی رابطے سے قبل ایک سازگار سفارتی ماحول کا قیام ضروری ہے۔ بنگلہ دیشی وزارتِ خارجہ کے مطابق دونوں ممالک کے حکام کئی ہفتوں سے بنگلہ دیشی وزیراعظم طارق رحمان کے ممکنہ دورے کے حوالے سے رابطے میں تھے، تاہم سابق بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ کی 5 اگست کو نئی دہلی میں ہونے والی پریس کانفرنس کے بعد اس عمل کو شدید دھچکا پہنچا۔یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ ڈھاکا نے اس معاملے کو محض ایک معمول کے سفارتی دورے تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے بنگلہ دیش کے بنیادی قومی مفادات اور خودمختاری کے سوال سے جوڑ دیا ہے۔ بنگلہ دیشی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اے کے ایم شاہدال کریم نے واضح کیا کہ وزیراعظم کے دورے کے لیے سازگار ماحول پیدا ہونا ضروری ہے اور اس مقصد کے لیے بھارت سے شیخ حسینہ اور دیگر مطلوب افراد کی حوالگی کے معا ملے پر فوری پیش رفت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔شیخ حسینہ اس وقت بھارت میں مقیم ہیں اور بنگلہ دیش انہیں واپس لانے کا مطالبہ مسلسل کرتا آیا ہے۔نومبر 2025 میں بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے انہیں غیر حاضری میں انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت سنائی تھی، جبکہ شیخ حسینہ ان الزامات کو سیاسی انتقام قرار دیتی ہیں۔ نئی دہلی کا مؤقف ہے کہ بنگلہ دیش کی حوالگی کی درخواست کا جائزہ مقررہ قانونی طریقہ کار کے تحت لیا جا رہا ہے۔سفارتی ماہرین کے بقول یہی معاملہ اس وقت ڈھاکا اور نئی دہلی کے درمیان سب سے حساس تنازع بن چکا ہے۔ بنگلہ دیش کا اصرار ہے کہ بھارت دونوں ممالک کے درمیان موجود حوالگی کے معاہدے کے تحت شیخ حسینہ کو بنگلہ دیش کے حوالے کرے۔ ڈھاکا نے اسی تناظر میں شریف عثمان ہادی کے قتل کے ملزمان کی واپسی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ بنگلہ دیشی حکام کے مطابق ہادی کے قتل کے مقدمے میں مطلوب افراد بھارت میں گرفتار ہیں اور ان کی واپسی کے لیے قانونی و سفارتی رابطے جاری ہیں۔یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ ڈھاکا نے نئی دہلی سے محض سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ باضابطہ جواب کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ بنگلہ دیشی قیادت کا کہنا ہے کہ اس نے مطلوب افراد کی حوالگی کے لیے ضروری دستاویزات بھارت کو فراہم کر دی ہیں اور اب وہ بھارتی حکومت کے جواب کا انتظار کر رہی ہے۔ بنگلہ دیشی وزیراعظم طارق رحمان نے بھی بھارتی ہائی کمشنر سے ملاقات کے دوران شیخ حسینہ اور شریف عثمان ہادی کے قتل کے ملزمان کی حوالگی کے معاملے کو اٹھایا اور بھارت سے عمل تیز کرنے کا کہا۔نئی دہلی کے لیے صورتحال اس لیے بھی پیچیدہ ہے کہ بھارت ایک طرف بنگلہ دیش کے ساتھ سفارتی تعلقات کو معمول پر لانے میں دلچسپی رکھتا ہے جبکہ دوسری طرف شیخ حسینہ کی موجودگی دونوں ملکوں کے تعلقات میں مسلسل حساس عنصر بنی ہوئی ہے۔ بھارت نے ابھی تک حسینہ کی حوالگی کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا اور کہا ہے کہ درخواست کا جائزہ قائم شدہ طریقہ کار کے مطابق لیا جا رہا ہے۔ یہی تاخیر ڈھاکا میں بے اعتمادی کو مزید تقویت دے رہی ہے۔مبصرین کے مطابق 5 اگست کو نئی دہلی میں شیخ حسینہ کی پریس کانفرنس نے پہلے سے کشیدہ ماحول کو مزید مشکل بنا دیا۔ بنگلہ دیشی وزارتِ خارجہ نے اس پریس کو بنگلہ دیشی وزیراعظم طارق رحمان کے ممکنہ بھارتی دورے کے عمل کو متاثر کرنے والا واقعہ قرار دیا۔ واضح رہے کہ شیخ حسینہ نے اس موقع پر اپنی واپسی کے عزم کا اظہار کیا اور موجودہ بنگلہ دیشی حکومت پر تنقید کی، جس کے بعد ڈھاکا نے نئی دہلی سے زیادہ واضح اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی توقع ظاہر کی۔اسی تناظر میں سرحدی مسائل بھی دونوں ملکوں کے تعلقات پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کو بھارت کی جانب سے سرحدی ہلاکتوں، سرحد پر مبینہ پش اِنز اور بعض یکطرفہ سرحدی اقدامات پر تحفظات ہیں۔ پانی کی تقسیم بھی ایک دیرینہ مسئلہ ہے، خصوصاً دریائی پانی کے منصفانہ استعمال اور مشترکہ آبی وسائل سے متعلق معاملات دونوں ممالک یعنی بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان اختلافات کو نمایاں کرتے رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر ان مسائل پر بھی مؤثر پیش رفت نہ ہوئی تو سفارتی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔بنگلہ دیش کی موجودہ خارجہ پالیسی میں ایک اور نمایاں پہلو بھارت پر حد سے زیادہ انحصار کم کرنے کی کوشش ہے۔ ڈھاکا اب چین سمیت دیگر علاقائی اور عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات میں توازن پیدا کرنے کی پالیسی پر زور دے رہا ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد کسی ایک ملک کے سیاسی یا اقتصادی اثر و رسوخ پر ضرورت سے زیادہ انحصار سے بچنا اور بنگلہ دیش کے لیے وسیع تر سفارتی گنجائش پیدا کرنا ہے۔ سفارتی ماہرین کے بقول یہ پالیسی بھارت کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہے کہ بنگلہ دیش اپنے قومی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے متبادل شراکت داروں کے ساتھ تعلقات بڑھانے کے لیے تیار ہے۔یہ صورتحال جنوبی ایشیا کی علاقائی سیاست کے لیے بھی اہم ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان جغرافیائی قربت، تجارت، سرحدی سلامتی، پانی، توانائی اور علاقائی رابطوں جیسے متعدد مشترکہ مفادات موجود ہیں۔ دونوں ممالک کے لیے طویل المدت استحکام اسی وقت ممکن ہے جب باہمی اختلافات کو دباؤ کے بجائے مذاکرات اور باہمی احترام کے ذریعے حل کیا جائے۔بنگلہ دیش کی جانب سے وزیراعظم کے دورے کو سازگار ماحول سے جوڑنا دراصل نئی دہلی کے لیے ایک سفارتی پیغام ہے کہ ڈھاکا اب تعلقات میں زیادہ برابری، خودمختاری اور قومی وقار کا خواہاں ہے۔ ڈھاکا کا مؤقف واضح ہے کہ اعلیٰ سطحی دورے محض رسمی سفارتی روایت کے تحت نہیں بلکہ ٹھوس قومی مفادات اور باہمی احترام کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔ اگر نئی دہلی بنگلہ دیش کے مطالبات پر قابلِ قبول پیش رفت کرتا ہے تو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو نئی سمت مل سکتی ہے، لیکن اگر تعطل برقرار رہا تو ڈھاکا کا متوازن خارجہ پالیسی کی طرف بڑھنا مزید نمایاں ہو سکتا ہے۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں