تاریخ انسانی میں جتنی مدح سرائی ممدوح کائنات، جان رحمت ، محسن انسانیت، رحمت العالمین، خاتم النیین صل اللہ علیہ والہ و سلم کی شان میں ہوئی وہ امتیاز کسی اور کو حاصل ہونا ناممکن۔ برصغیر پاک و ہند کو یہ اعزاز حاصل کہ اولیا کرام کی بڑی تعداد جن حضرت خواجہ نظام الدین اولیا سے لیکر خواجہ معین الدین چشتی سنجری سیستان سے ، داتا گنج بخش سید علی ہجویری غزنی سے ، شیخ محمد اسماعیل بخاری 395 ہجری،خواجہ قطب الدین بختیار کاکی فرغانہ سے، شیخ بہاالدین زکریا کے آبا مکہ مکرمہ سے بغداد پھر ملتان آباد ہوئے، خواجہ باقی باللہ، معروف نے اس سرزمین کو اپنی مستقل آماجگاہ بنایا صوفیا کی صحبت اعلی اخلاق و کردار نے برصغیر پاک و ہند پر جو انمٹ نقوش چھوڑے اس سے لاکھوں مشرف بہ اسلام ہوئے تو لاکھوں غیر مسلم آج بھی ان سے محبت و عقیدت کے رشتے میں پیوند۔ صوفیا سے تعلق اور انکے محمدی اخلاق و کردار کا اثر ہی غیر مسلم شعرا، ادیبوں اور مستشرقین کی حضور اکرم کی شان میں مدح سرائی کا سبب ٹہری۔ برصغیر پاک و ہند کے نامور غیر مسلم شعرا میں آرزو سہارنپوری سادھو رام ، اختر ہری چند، پروفیسر جگن ناتھ آزاد، ادب سیتا پوری کنور، سورج نرائن سنہا، آشفتہ دہلوی، پنڈت امر ناتھ ، آنند جگن ناتھ پرشاد، پنڈت رگو ناتھ سہائے، پنڈت اندر جیت شرما ، بیکل امرتسری، بسنت لال ، تلسی داس ، تمیز لکھنوی گنگا سہائے ، جان رابرٹ ، جست سیرام پوری ، بشن نرائن ، خار دہلوی پنڈت رتن موہن زتشی ،خیال چندر بھان ، دلو رام کوثری ، درد جگدیش مہتہ ، دل منوہر لال ، رضا کالی داس گپتا ، کالکا پرشاد ،عرش ملیسانی ، کرشن موہن لال جیسے بڑے ادبی نام شامل۔ مسلم شعرا تو آقا کریم کے محاسن بیان کرتے ہی ہیں مگر غیر مسلم شعرا نے بھی محبت و مودت رسول میں خون جگر پیش کیا اور ایسے ایسے کلام لکھے جو قلب و روح کو فرحت بخشتے ہیں اور مومن کو شان کہ ان کے نبی رحمت کی مدح سرائی میں غیر مسلم بھی پیچھے نہیں۔ مگر سمجھنے کی ضرورت ہمیں ہے۔ کلام پیش خدمت
والشمس تھے رخسارتو واللیل تھیں آنکھیں
اک نور کا سورة تھا سرا پائے محمد ۖ
(جان رابرٹ)
ہے حامی و ممدوح مرا شافعِ عالمۖ
کیفی مجھے اب خوف ہے کیا روزِ جزا کا
(برج موہن کیفی)
سبق دنیا کو وحدت کا دیا حضرت محمدۖ نے
دوئی کو دور ہر دل سے کیا حضرت محمد ۖنے
(جگن ناتھ آنند)
رواں ہوں جانبِ کوئے محمدۖ
دکھا دے اے خدا روئے محمدۖ
ہیں عنبر بار گیسوئے محمدۖ
صبا لائی ہے خوشبوئے محمدۖ
(سردار شیر سنگھ شمیم)
ہو کس سے بیاں منزلت و شانِ محمدۖ
ہے آپ خداوند ثنا خوانِ محمدۖ
پائیں گے اگر حکم تو محشر میں فرشتے
آنکھوں سے بجا لائیں گے فرمانِ محمدۖ
(پنڈت بِشن نارائن)
گلزارِ محمدۖکیا کہنا،بازارِ مدینہ کیا کہنا
ایمان کے سکے چلتے ہیں ، فردوس کا سودا ہوتا ہے
(کرشن بہاری نور لکھنوی)
تو ہے محبوب خدا چاہنے والا تیرا
مرتبہ سارے رسولوں سے ہے بالا تیرا
آہ کر ھجرِ محمدۖ میں سنبھل کر اے دل
عرش کے پار نکل جائے گا نالہ تیرا
(پیارے لال رونق)
ثنا خوانِ پیمبر، ذاکرِ آلِ پیمبر ہے
خدا ہی جانتا ہے بندہ مومن ہے کہ کافر ہے
(پنڈت گوپی ناتھ امن)
قلم کو جب شرف حاصل ہوا نعتِ پیمبر کا
بنا ہر لفظ اک تعویذ خوفِ روزِ محشر کا
(گرسرن لال ادیب لکھنوی)
آدمیت کا غرض ساماں مہیا کر دیا
اک عرب نے آدمی کا بول بالا کر دیا
(پنڈت ہری چند اختر)
کہہ حال دل کا شاہِ رسالت مآب سے
ہو بے نیاز ذکر عذاب و ثواب سے
کہتی ہے مجھ کو خلق خراباتیِ نبیۖ
اچھا کوئی خطاب نہیں اس خطاب سے
(بال مکند عرش ملسیانی)
یہ سینہ اور یہ دل دوسرا معلوم ہوتا ہے
کوئی پردوں میں دل کے آ چھپا، معلوم ہوتا ہے
(کنور مہندر سنگھ بیدی سحر)
عشقِ رسول باعثِ رحمت ہوا قرار
جنت بنا ہوا ہے مدینہ رسولۖ کا
مستِ مئے الست ہے گلزارِ دہلوی
بخشش کے واسطے ہے سہارا رسولۖ کا
(پنڈت آنند موہن دہلوی)
خدا کا دل میں جہاں احترام روشن ہے
وہاں رسولِ خدا کا بھی نام روشن ہے
لبوں پہ نعتِ محمدۖ کے جل اٹھے ہیں چراغ
دل و نظر کی فضائے تمام روشن ہے
(سیماب سلطان پوری)
آخر میں اپنے محسن و مرشد و مربی حکیم الامت حضرت اقبال کا معروف استغاثہ
تو غنی از ھر دو عالم من فقیر
روزِ محشر عذر ہائے من پذیر
گر تو می بینی حسابم ناگزیر
از نگایہِ مصطفیۖ پنہان بگیر
لمحہ فکریہ : اقبال کا یہ استغاثہ گویا امت کی طرف سے، کہ انہیں مسلماں کے احوال بھی پتہ اور اعمال بھی معلوم۔ مگر سوال یہ کہ جس عظیم ہستی کا میلاد ھم اتنے ذوق و شوق و عقیدت و احترام سے مناتے ہیں اور مدح سرائی بھی، ان کی سیرت طیبہ کے کن گوشوں کو ہم نے اپنایا ؟ اور اخلاق کریمانہ کی کتنی جھلک ہماری عملی زندگیوں میں !
اقبال نے ایسے ہی تو نہیں کہا کہ
وضح میں تم ہو نصاری تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں کہ جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
اس پہ آپ بھی سوچییے اور میں بھی!
ورق تمام ہوا،مدح باقی ہے!





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں