بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 26.8°C
Saturday, 29 August 2026 | پاکستان: 17 ر بیع الاول 1448

بھارتی عیسائیوں پر انتہاپسندوں کے حملے

Saturday, 29 August, 2026

بھارتی ریاست اڑیسہ کی عیسائی برادری پر انتہا پسند ہندوؤں کے حملے بڑھنے لگے ہیں۔اس حوالے سے بھارتی تجزیہ کار، ڈاکٹر اشوک سوائن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس” پر انتہا پسند ہندوؤں کے ظلم کو آشکار کر دیا۔ڈاکٹر اشوک سوائن نے انکشاف کیا کہ ”ریاست اڑیسہ کے ضلع ملکانگیری میں عیسائی برادری پرہندوتوا غنڈوں نے مہلک ہتھیاروں سے بہیمانہ حملہ کیا گیا ، حملے میں 28 افراد شدید زخمی ہو گئے ”۔ڈاکٹر اشوک سوائن نے کہا ہے کہ ”مودی کے بھارت میں کوئی محفوظ نہیں،حملہ آوروں نے گھروں میں گھس کر خواتین اور بچوں کو بھی نہیں بخشا اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔اقلیتوں کے خلاف نفرت پر مبنی حملے بی جے پی کی سرپرستی میں ہو رہے ہیں جبکہ مودی سرکار سے انصاف کی کوئی امید باقی نہیں”۔اس حوالے سے بھارتی جریدے” نیوز ریل ایشیاء ” کی تحقیقاتی ٹیموں کا عیسائی برادری کی قتل و غارت کے حوالے سے ہوشربا انکشافات کیے ہیں۔تحقیقات کے مطابق”ریاست اڑیسہ کے اضلاع نابرانگپور، گجپتی اور بالاسور میں عیسائی برادری تدفین کے بنیادی حق سے محروم ہے۔مارچ سے اپریل 2025 کے دوران3 فیکٹ فائنڈنگ ٹیموں نے ریاست اڑیسہ کے3 اضلاع میں عیسائیوں پر بڑھتے مظالم کی تصدیق کی۔ضلع نابرانگپور میں 2022 سے 2025 تک عیسائیوں پر حملوں کے 8سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے۔عیسائی خاندانوں کو اپنے مرحومین کی تدفین سے روکا گیا۔ضلع نابرانگپور میں عیسائی نوجوان کی تدفین کے بعد لاش کی چوری، ماں اور بہن پر وحشیانہ تشدد کر کے گھر سے نکال دیا گیا۔18 دسمبر 2024 کو بالاسور میں عیسائی نوجوان کی تدفین روکی گئی۔قبائلی عیسائیوں کو بائیکاٹ اور دھمکیوں کا سامنا ہے اور بھارتی پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔” ”ضلع گجپتی میں 22 مارچ 2025 کو جوبا کیتھولک چرچ پر پولیس نے دھاوا بولاخواتین اور بچیوں پر حملہ کیا گیا ، 2پادریوں کو پاکستانی کہہ کر بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ضلع گجپتی میں پولیس نے پادری کا کندھا توڑ دیا، خواتین کی چادریں پھاڑ دیں ،عیسائی مذہبی علامات کی بے حرمتی کی گئی۔دیگر متعدد دیہاتوں میں مسیحیوں کو گاؤں کے قبرستان میں تدفین سے روکا گیا، جنگلوں میں لاشیں دفنانے پر مجبور کیا گیا۔بھارت میں اقلیتیں جبر کا شکار ہیں جبکہ ریاستی مشینری خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ ”شکایات کے باوجود کسی اہلکار کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی،مقامی اخبارات نے عیسائیوں کو بدنام کرنے کیلئے جھوٹی خبریں شائع کیں۔3 نسلوں سے مسیحی برادری کو اب ”غیر روایتی” قرار دے کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔” بھارتی جریدے” کرسچینٹی ٹوڈے ”نے ریاست اڑیسہ میں عیسائیوں کے خلاف بدترین تشدد کو آشکار کیا۔”کرسچینٹی ٹوڈے ” کے مطابق ریاست اڑیسہ فرقہ وارانہ تشدد کے دہانے پر ہے، ضلع نابرانگپور میں فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے انکشاف کیا کہ”پولیس اہلکار اقلیتوں پر حملوں میں ملوث ہو کر مظالم میں کردار ادا کرتے ہیں۔ قبائلی عیسائیوں پر حملوں میں فرقہ وارانہ تعصب اور ذات پات پر مبنی ذہنیت ریاستی اداروں میں سرایت کر چکی ہے۔مودی سرکار کے دور میں انصاف دفن، قانون ہندو انتہاپسندوبھارتی ریاست اڑیسہ کے ضلع کندھمال میں مسیحی برادری کے خلاف پرتشددفسادات کو 18سال مکمل ہونے کے بعد بھی مسیحی خاندان تاحال انصاف کے منتظرہیں۔ بھارت میں مسلمانوں سمیت کوئی بھی اقلیت حتی کہ نچلی ذات کے ہندو بھی انتہا پسند ہندوئوں کے سفاکانہ مظالم سے محفوظ نہیں۔25اگست 2008کو ہندو انتہا پسندوں نے بی جے پی کے زیرِ حکومت ریاست اڑیسہ کے ضلع کندھمال میں سینکڑوں مسیحیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔چار دن تک جاری رہنے والے فسادات میں 600مسیحی گائوں اور 400سے زائد چرچ نذرِ آتش کئے گئے، فسادات کے نتیجے میں سینکڑوں مسیحی ہلاک جبکہ 75ہزار کے قریب بے گھر ہوگئے تھے۔ان فسادات کے دوران 100 سے زائد مسیحی خواتین اجتماعی زیادتی کا شکار جبکہ درجنوں خاندانوں کو زندہ جلایا گیا تھا۔انتہا پسند ہندوئوں نے جبرا ہزاروں مسیحیوں کو ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور بھی کیا، فسادات کے مرکزی کردار بجرنگ دل ، راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ اور وشوا ہندو پریشد جیسی ہندوتوا تنظیموں کے بلوائی تھے۔ فسادات کی ریاستی سرپرستی اور پولیس کے خاموش تماشائی کردار کی وجہ سے 50 ہزار مسیحیوں نے جنگلوں میں پناہ لے کر جان بچائی، ناگائوں میں 40انتہا پسندوں نے ایک مسیحی راہبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی، عدالت نے عدم ثبوتوں کی بنیاد پر سب کو رہا کر دیا۔ہیومن رائٹس واچ، یورپی یونین اور امریکا سمیت کئی ممالک نے ریاستی سرپرستی میں مسیحیوں کے قتل عام کی مذمت کی لیکن 18سال گزرنے کے باوجود مودی سرکار سیاسی فوائد کیلئے ملزمان کو سزا دینے سے گریزاں ہے۔ں کا محافظ بن گیا ۔ بھارت میں مذہبی آزادی محض دکھاوا، اقلیتیں ریاستی ظلم کی زد میں ہیں۔مودی سرکار کے دور میں اقلیتوں کی مذہبی آزادی مکمل خطرے میں جبکہ مودی اپنی جھوٹی تشہیر میں مصروف ہے”۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *