بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 26.8°C
Saturday, 29 August 2026 | پاکستان: 17 ر بیع الاول 1448

بھارت کا گرتا عالمی وقار اور مودی سرکار کی پالیسیوں کا عکس

Saturday, 29 August, 2026

بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور ابھرتی ہوئی عالمی طاقت قرار دینے کی کوششیں ایک بار پھر عالمی رائے عامہ کے اعدادوشمار کے سامنے سوالیہ نشان بن گئی ہیں۔ تازہ عالمی سروے نے بھارتی حکومت کے ان دعوں کی قلعی کھول دی ہے کہ بھارت نہ صرف معاشی میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے بلکہ دنیا میں اس کا وقار اور اثرورسوخ بھی مسلسل بڑھ رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ معاشی طاقت اور سفارتی سرگرمیوں کے باوجود بھارت کی عوامی ساکھ کو دھچکا پہنچ رہا ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ خود اس کی داخلی پالیسیاں بنتی دکھائی دے رہی ہیں۔36 ممالک میں کیے گئے سروے کے مطابق اوسطا صرف 45 فیصد افراد بھارت کو مثبت نظر سے دیکھتے ہیں، جبکہ 41 فیصد نے منفی رائے کا اظہار کیا۔ چند برس قبل مثبت رائے کا تناسب زیادہ اور منفی رائے نسبتا کم تھا۔ سب سے زیادہ تشویش ناک صورتحال امریکا میں سامنے آئی ہے، جہاں 50 فیصد افراد بھارت کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں جبکہ مثبت رائے رکھنے والوں کی شرح صرف 45 فیصد ہے۔ سوال یہ ہے کہ بھارت جس امریکا کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کو اپنی خارجہ پالیسی کی بڑی کامیابی قرار دیتا ہے، اسی ملک کے عوام میں اس کے بارے میں منفی تاثر کیوں بڑھ رہا ہے؟اس سوال کا جواب بھارت کی داخلی صورتحال میں تلاش کرنا ہوگا۔ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ مبینہ امتیاز، مذہبی بنیادوں پر بڑھتی ہوئی تقسیم، انٹرنیٹ اور معلومات تک رسائی پر پابندیاں، صحافیوں اور حکومت کے ناقدین پر دبا اور اختلافِ رائے کیلئے سکڑتی ہوئی گنجائش ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی ملک کی جمہوری ساکھ کو متاثر کرسکتے ہیں۔ حکومتیں عالمی سطح پر اپنی کامیابیوں کی جتنی بھی تشہیر کرلیں، اگر عام انسانوں کے بنیادی حقوق کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہیں تو عالمی رائے عامہ کو زیادہ دیر تک متاثر کرنا ممکن نہیں۔بھارت کی صورتحال کا ایک اہم پہلو نوجوان نسل کا بدلتا ہوا رویہ بھی ہے۔ امریکا میں نوجوانوں کے درمیان بھارت کے بارے میں منفی رائے کا زیادہ ہونا اس بات کا اشارہ ہے کہ نئی نسل عالمی سیاست کو صرف معاشی مفادات یا روایتی سفارتی اتحادوں کی عینک سے نہیں دیکھتی۔ اگر یہ رجحان برقرار رہتا ہے تو آنیوالے برسوں میں بھارت کی نرم طاقت اور عالمی سفارتی اثرورسوخ کیلئے مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔یہاں بھارت کی قیادت کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ کیا طاقتور ریاست بننے کا مطلب صرف بڑی معیشت، جدید دفاعی صلاحیت اور عالمی طاقتوں کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنا ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو دنیا کی رائے میں بھارت کے بارے میں منفی رجحان میں اضافہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ حقیقی عالمی قیادت وہ ہوتی ہے جو اپنے ملک کے اندر بھی انصاف، مساوات اور برداشت کی مثال قائم کرے۔بھارت کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنی داخلی پالیسیوں پر ہونے والی تنقید کو اکثر بیرونی سازش یا مخالف پروپیگنڈے سے تعبیر کرتا ہے لیکن جب مختلف ممالک میں عوامی رائے کے سروے ایک ہی سمت میں اشارہ کرنے لگیں تو محض الزام تراشی مسئلے کا حل نہیں ہوسکتی۔ بہتر راستہ یہ ہے کہ نئی دہلی ان نتائج کو آئینہ سمجھ کر اپنی پالیسیوں کا جائزہ لے۔بھارت اگر واقعی عالمی طاقت بننے کا خواہشمند ہے تو اسے یہ سمجھنا ہوگا کہ دنیا محض اس کی اقتصادی ترقی نہیں دیکھ رہی بلکہ یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔ اقلیتوں کا تحفظ، آزاد میڈیا، اختلافِ رائے کی گنجائش، مذہبی آزادی اور قانون کی بالادستی وہ بنیادی اصول ہیں جن پر کسی بھی جدید جمہوری ریاست کی ساکھ قائم ہوتی ہے۔تازہ سروے بھارت کیلئے محض ایک منفی خبر نہیں بلکہ ایک واضح انتباہ ہے۔ اگر بھارتی حکومت نے داخلی تقسیم اور امتیازی پالیسیوں کے تاثر کو دور کرنے کیلئے عملی اقدامات نہ کیے تو عالمی سطح پر اس کے خلاف منفی رائے مزید مضبوط ہوسکتی ہے۔ بھارت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ دنیا کے سامنے ایک ایسی ریاست کے طور پر کھڑا ہونا چاہتا ہے جو اپنی طاقت پر ناز کرتی ہے، یا ایسی جمہوریت کے طور پر جس کا احترام اس کے شہریوں کے حقوق اور مساوی سلوک کی بنیاد پر کیا جائے۔ عالمی وقار نعروں، تشہیر اور طاقت سے نہیں، کردار سے حاصل ہوتا ہے۔
سست رفتار برآمدات
سینیٹ کی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں تجارتی حکام سے یہ پوچھا گیا کہ برآمدات میں اضافہ کیوں نہیں ہو رہا، تو انہیں کوئی ٹھوس جواب نہیں ملا؛بلکہ ذمہ داری کسی اور پر ڈال دی گئی۔ٹی ڈی اے پی کے چیف ایگزیکٹو نے بحث کا رخ یہ کہہ کر متعین کیا کہ جب بھی برآمدات جمود کا شکار ہوتی ہیں تو ان کے ادارے کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔انہوں نے اشارہ کیا کہ اصل ذمہ دار بجلی کے نرخ،مالیاتی اخراجات اور پیداواری لاگت ہیں۔بلاشبہ،اس بات میں سچائی ہے۔لیکن اگر ٹی ڈی اے پی کے سربراہ –جس کا قیام ہی تجارت کو فروغ دینے کیلئے عمل میں آیا تھا — قانون سازوں کو یہ باور کرائیں کہ کاروبار کرنے کی لاگت کے مقابلے میں فروغِ تجارت کی کوششوں کی کوئی خاص اہمیت نہیں،تو فطری سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر اس ادارے کا مقصد کیا ہے؟وزیرِ تجارت نے بھی صورتحال کو بہتر نہیں بنایا جب انہوں نے پینل کو بتایا کہ انہوں نے وزیراعظم کو”باہمی مراعات کے حصول کا مشورہ دیا ہے؛یہ ایک ایسی مبہم اصطلاح ہے جس کا مطلب کچھ بھی ہو سکتا ہے اور کچھ بھی نہیں۔یکے بعد دیگرے آنیوالے وزرائے تجارت کے دور میں پاکستان کی برآمدی بنیاد محدود اور جمود کا شکار رہی ہے۔تاہم ان سب کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔کمیٹی برآمد کنندگان کیلئے زیادہ بہتر کام تب کرتی جب وہ محض اعداد و شمار کو کارکردگی کا پیمانہ ماننے کے بجائے یہ پوچھتی کہ ان 91 نمائشوں کے نتیجے میں کتنے حقیقی معاہدے ہوئے اور کتنی نئی منڈیوں تک رسائی حاصل ہوئی۔درحقیقت،اس بات کے بہت کم آثار نظر آئے کہ کمیٹی نے ان دعوئوں اور وضاحتوں پر کوئی سخت جرح یا سوال اٹھایا ہو۔ملک کی برآمدات بڑھانے کیلئے حکمت عملی کی ضرورت پر بات کرتے ہوئے ٹی ڈی اے پی کی کوششوں کو سراہنا ایک افسوسناک حقیقت کی عکاسی کرتا ہے:ہر کوئی مسئلے کی تشخیص پر تو متفق ہے،لیکن حکومت میں کوئی بھی ذمہ داری لینے اور مسئلے کے حل کیلئے عملی کوشش کرنے کو تیار نہیں ہے۔
مریم نواز کا چین میں سنکیانگ کے ڈیری ادارے کا دورہ
پنجاب کی وزیراعلی مریم نواز شریف نے سنکیانگ میں چین کے نمایاں ڈیری ادارے ‘ٹائرن وزڈم ڈیری کمپنی کا دورہ کیا۔وزیراعلی مریم نواز نے ‘ٹائرن وزڈم ڈیری’ کی پروسیسنگ تنصیب کے مختلف حصوں کا دورہ کیا،جہاں کمپنی کے حکام نے انہیں تفصیلی بریفنگ دی۔وزیراعلی نے ڈیجیٹل دودھ کی پروسیسنگ کے نظام کا بھی مشاہدہ کیا۔انہیں بتایا گیا کہ ‘ٹائرن وزڈم ڈیری’ چین کے مختلف خطوں میں اپنی جدید ترین ڈیری فارمنگ کیلئے مشہور ہے ۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلی نے کہا کہ لائیو اسٹاک کے شعبے کی ترقی اور فروغ کیلئے پنجاب کے اقدامات کے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔انہوں نے چین کے اشتراک سے پنجاب میں دودھ اور ڈیری کی جدید پروسیسنگ یونٹس قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔دریں اثنا، پنجاب کی وزیراعلی مریم نواز شریف نے زراعت، صنعت، ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں پنجاب اور چین کے خطے سنکیانگ کے درمیان مزید مضبوط تعاون پر زور دیا ہے ۔ چین کے دورے کے دوران مریم نواز نے سنکیانگ میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے سیکرٹری اور’سنکیانگ پروڈکشن اینڈ کنسٹرکشن کور’کے سیاسی کمشنر’ہی ژونگ یو سے ملاقات کی۔انہوں نے پرتپاک استقبال پر ان کا شکریہ ادا کیا۔وزیراعلیٰ نے ‘ہی ژونگ یو’ کی قیادت کو سراہا اور انہیں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی 150 ویں سالگرہ کی تقریبات پر مبارکباد دی۔دونوں فریقوں نے پنجاب اور سنکیانگ کے درمیان اقتصادی ترقی اور تعاون بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ملاقات میں طبی خدمات، زراعت، معیشت اور عوام کے درمیان تبادلے کے پروگراموں پر بھی بات چیت کی گئی۔پاکستانی طلبا کو آن لائن تکنیکی معاونت فراہم کرنے کی تجویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ پنجاب اور سنکیانگ کو زراعت، صنعت، ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں تعاون بڑھانا چاہیے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *