لاہور کے نشتر کالونی میں ایک ایسا تعلیمی ادارہ قائم ہونا یقینا خوش آئند پیش رفت ہے جہاں جدید تعلیم، بہتر ماحول اور نئی نسل کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے بچوں کے مستقبل کو سنوارنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ نواز شریف سکول آف ایمننس نشتر کالونی اسی سوچ کا ایک خوبصورت اظہار ہے۔ یہ ان بچوں کیلئے امید کی ایک نئی کرن ہے جو معیاری تعلیم حاصل کرنے کی خواہش تو رکھتے ہیں مگر مہنگے نجی تعلیمی اداروں کی فیسیں ان کی پہنچ سے باہر ہوتی ہیں۔تعلیم کسی بھی وسیب کی ترقی کی بنیاد ہے۔ قوموں کی اصل ترقی اس وقت شروع ہوتی ہے جب انکے بچے علم حاصل کرتے ہیں، تحقیق کی طرف آتے ہیں اور اپنے مستقبل کے خواب دیکھنے کے قابل بنتے ہیں۔نشتر کالونی میں نواز شریف سکول آف ایمننس ایسے علاقے میں قائم کیا گیا ہے جہاں بڑی تعداد میں متوسط اور کم آمدنی والے خاندان آباد ہیں۔ ان خاندانوں کے والدین اپنے بچوں کو بہترین تعلیم دلانے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن نجی سکولوں کی بڑھتی ہوئی فیسیں، کتابوں، یونیفارم، ٹرانسپورٹ اور دیگر اخراجات اکثر ان کیلئے ناقابل برداشت بن جاتے ہیں۔ ایسے میں ریاست معیاری تعلیم کی سہولت ان کی دہلیز کے قریب فراہم کرے تو اس سے بڑھ کر عوامی خدمت اور کیا ہوسکتی ہے۔آج دنیا بدل چکی ہے، چند دہائیاں پہلے جو چیزیں مستقبل کا خواب سمجھی جاتی تھیں، وہ آج بچوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔ کمپیوٹر، جدید ٹیکنالوجی، سائنسی علوم اور تحقیق کے نئے میدان دنیا کی سمت متعین کررہے ہیں۔ ایسے حالات میں ہمارے بچوں کو بھی روایتی تعلیم کے ساتھ جدید علوم سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔نواز شریف سکول آف ایمننس میں پڑھنے والے بچے صرف امتحان پاس کرنے کیلئے تعلیم حاصل نہیں کریں گے بلکہ وہ سوچنے، سوال کرنے، تحقیق کرنے اور اپنے مسائل خود حل کرنے کی صلاحیت بھی پیدا کریں گے۔ تعلیم کا اصل مقصد صرف نمبر حاصل کرنا نہیں بلکہ بچے کے اندر اعتماد، شعور، کردار اور تخلیقی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ سکول کا اصل معیار وہاں پڑھانے والے اساتذہ، انتظامیہ کی دیانت داری، تعلیمی ماحول، بچوں کے ساتھ رویہ، نظم و ضبط اور نصاب کو موثر انداز میں پڑھانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ نواز شریف سکول آف ایمننس نشتر کالونی میں میرٹ، نظم و ضبط، شفافیت اور تعلیمی معیار کو ہر چیز پر فوقیت حاصل ہوگی۔جدید تعلیم کے ساتھ بچوں کی اخلاقی تربیت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ آج ہمارے معاشرے کو صرف ڈگریاں رکھنے والے افراد کی نہیں بلکہ اچھے کردار کے حامل انسانوں کی ضرورت ہے۔ سکول بچے کی شخصیت سازی کی پہلی بڑی تجربہ گاہ ہوتا ہے۔ وہیں اسے دوستی، تعاون، برداشت، نظم، وقت کی پابندی، صفائی، ذمہ داری اور دوسروں کا احترام سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ کسی سکول میں یہ خصوصیات پیدا کردی جائیں تو وہاں سے نکلنے والا بچہ صرف ایک کامیاب طالب علم نہیں بلکہ معاشرے کیلئے ایک بہتر شہری بھی ثابت ہوسکتا ہے۔نواز شریف سکول آف ایمننس نشتر کالونی میں مقابلے کا جذبہ ضرور پیدا کیا جائے گا،مقابلے کے ساتھ تعاون کا سبق بھی دیا جائے گا۔ انہیں کامیابی کا خواب ضرور دکھایا جائے گا مگر یہ بھی بتایا جائے گا کہ کامیابی صرف اپنی ذات کیلئے نہیں بلکہ معاشرے اور ملک کیلئے مفید ثابت ہونے کا نام ہے۔اس خوبصورت تعلیمی ادارے کا افتتاح صوبائی وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے کیا جو اس بات کا اظہار ہے کہ پنجاب حکومت تعلیم کو اپنی ترجیحات میں اہم مقام دے رہی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ہر شعبہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کا تقاضا کررہا ہے، تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری دراصل مستقبل کے پاکستان میں سرمایہ کاری ہے۔صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا یہ اقدام اس اعتبار سے بھی قابل تحسین ہے کہ عام آبادیوں، متوسط طبقے اور کم آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کو بھی وہی مواقع ملنے چاہئیں جو معاشرے کے خوشحال طبقات کے بچوں کو حاصل ہیں۔ نشتر کالونی میں ایسے ادارے کا قیام اسی عوام دوست سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔پنجاب حکومت تعلیم کے میدان میں اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھتی رہی اور سرکاری سکولوں کو جدید سہولیات، قابل اساتذہ، بہتر تعلیمی ماحول اور جدید نصاب فراہم کرتی رہی تو اس کے دور رس نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ اس پورے تعلیمی سفر میں ہمارے قائد اور اس ادارے کے روح رواں رانا فیاض احمد کا ذکر بھی خصوصی طور پر ضروری ہے۔ رانا فیاض احمد کی تعلیم دوستی، بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکر اور تعلیمی ادارے کو بہتر سے بہتر بنانے کا جذبہ قابل تحسین ہے۔ کسی بھی منصوبے کو کامیاب بنانے کیلئے سرکاری وسائل کے ساتھ ساتھ مخلص، متحرک اور وژن رکھنے والی قیادت بھی ضروری ہوتی ہے اور رانا فیاض احمد اس حوالے سے ایک اہم کردار ادا کررہے ہیں۔رانا فیاض احمد ان شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جو تعلیم کو محض ایک ادارہ نہیں سمجھتے بلکہ اسے معاشرے کی تعمیر کا بنیادی ذریعہ تصور کرتے ہیں۔ ان کیلئے ایک بچے کی کامیابی دراصل ایک خاندان کی خوشی اور ایک بہتر معاشرے کی بنیاد ہے۔ نواز شریف سکول آف ایمننس نشتر کالونی کے ساتھ ان کی وابستگی ایک تعلیمی مشن کی صورت اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے۔کسی بھی تعلیمی ادارے کے پیچھے ایک ایسا شخص موجود ہو جو اس کی کامیابی کو اپنا ذاتی مقصد سمجھ لے تو ادارے کے سفر میں ایک خاص جذبہ پیدا ہوجاتا ہے۔ رانا فیاض احمد اسی جذبے کے ساتھ اس سکول کی بہتری کیلئے کوشاں ہیں۔ ان کی کوشش ہوگی کہ یہ ادارہ صرف نشتر کالونی کا ایک اچھا سکول نہ رہے بلکہ پورے پنجاب میں ایک مثالی تعلیمی ادارے کے طور پر پہچانا جائے۔آج پاکستان میں تعلیم کے میدان میں سب سے بڑا مسئلہ معیار اور رسائی کا ہے۔ ایک ذہین بچہ صرف اس لیے پیچھے نہ رہ جائے کہ اس کے والدین مہنگی فیس ادا نہیں کرسکتے۔ کسی بچے کا مستقبل اس کے والدین کی مالی حیثیت کا محتاج نہیں ہونا چاہیے۔ ریاست کا فرض ہے کہ وہ ہر بچے کو آگے بڑھنے کا مساوی موقع فراہم کرے اور نواز شریف سکول آف ایمننس جیسے ادارے اسی مقصد کی طرف ایک اہم قدم ثابت ہوسکتے ہیں۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے تعلیم ہی کے ذریعے اپنی معیشت، سائنس، صنعت اور سماجی نظام کو مضبوط بنایا ہے۔ ہم واقعی پاکستان کو ایک مضبوط اور خوشحال ملک بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے بچوں کے ہاتھ میں صرف کتاب نہیں بلکہ علم، تحقیق، ہنر اور تخلیقی سوچ بھی دینی ہوگی۔دنیا کے تعلیمی نظام تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں۔ آنیوالے برسوں میں وہی ممالک آگے بڑھیں گے جو اپنے بچوں کو نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ چلنے کے قابل بنائیں گے۔ ہمیں اپنے سکولوں میں کمپیوٹر لیبارٹریاں، سائنس لیبارٹریاں، لائبریریاں، کھیلوں کی سہولیات اور جدید تعلیمی وسائل فراہم کرنے کیساتھ ساتھ بچوں کو ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کی تربیت بھی دینی ہوگی۔رانا سکندر حیات، ذیشان عاشق اعوان،رانا فیاض احمد اور پنجاب حکومت کیلئے یہ منصوبہ ایک مشترکہ ذمہ داری اور ایک بڑا موقع بھی ہے۔ اگر اس سکول کو مسلسل توجہ، بہترین اساتذہ، جدید سہولیات اور شفاف انتظام فراہم کیا گیا تو آنیوالے برسوں میں اس کے نتائج خود اس منصوبے کی کامیابی کی گواہی دیں گے۔ہم صوبائی وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات کو اس تعلیمی منصوبے کے افتتاح پر مبارک باد پیش کرتے ہیں، پنجاب حکومت کی تعلیم دوستی اور عوام دوست سوچ کو سراہتے ہیں اور بالخصوص رانا فیاض احمد کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو اس تعلیمی سفر کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔نواز شریف ایمننس سکول نشتر کالونی کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے مشیرِخاص ذیشان عاشق اعوان نے اس ادارے کا متعدد بار وزٹ کیا ہے۔ ان کے مسلسل دوروں سے یہ واضح پیغام ملتا ہے کہ حکومتِ پنجاب اس تعلیمی منصوبے کو محض ایک ادارہ نہیں بلکہ علاقے کے بچوں کے روشن مستقبل کی بنیاد سمجھتی ہے۔ امید ہے سکول کے ذریعے نشتر کالونی اور گردونواح کے بچوں کو معیاری، جدید اور باوقار تعلیمی ماحول میسر آئے گا اور وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ملک و قوم کا نام روشن کریں گے۔ یہ ایک ایسا خواب ہے جس کی تعبیر کیلئے حکومتی توجہ، اساتذہ کی محنت اور اہلِ علاقہ کا تعاون مل کر ایک خوبصورت مستقبل کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں