یوں توپاکستان اور سعودی عرب نہ صرف برادراسلامی ممالک ہیں بلکہ دونوں برادرممالک میں دوطرفہ تعاون کی طویل تاریخ ہے۔پاکستان پرجب بھی کٹھن وقت آیا مملکت سعودی عرب نے بڑھ کرہمیشہ پاکستان کی بھرپورمددکی اِسی طرح سعودی عرب کے حوالے سے پاکستان کادوٹوک اور واضح موقف ہے کہ سرزمین مقدس حرمین شریفین کی حفاظت نہ صرف ہرمسلمان کی ذمہ داری ہے بلکہ پاکستانی قوم کاہرفرداِسے اپنافرض بھی سمجھتاہے۔لیکن۔دونوں ممالک کی تاریخ میں اِس سے قبل اِتنی گرمجوشی نہیں دیکھی گئی جوحالیہ دوبرسوں میں دونوں ممالک تعلقات کے ایک نئے دورمیں داخل ہورہے ہیں۔پاک سعودی عرب تعلقات کی گرمجوشی کے حوالے سے وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہباز شریف ،سپہ سالارفیلڈمارشل ،چیف آف ڈیفنس فورسز،آرمی چیف حافظ جنرل سیدعاصم منیر اورسعودی ولی عہدووزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی کاوشیں قابل تحسین ہیں ۔گزشتہ برس ہی دونوں برادر اسلامی ممالک میں پاک سعودی عرب دفاعی معاہدہ بھی ہوااوررواں ماہ ہی نہ صرف دونوں برادراسلامی ممالک بلکہ اِس معاہدہ میں پاکستان کاعظیم دوست اور برادر اسلامی ملک تُرکیہ بھی شامل ہو گیا ہے ۔ اِسی طرح پاکستان ،سعودی عرب اور تُرکیہ میں معیشت اورتجارتی تعلقات بھی مزید مضبوط اور بلند ہورہے ہیں۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم 5.12ارب ڈالر سالانہ ہے ۔پاکستان سعودی عرب کو برآمدات میں چاول ، گوشت ، پھل اورٹیکسٹائل کی مصنوعات دیتا ہے جبکہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کوتیل ، پیٹرولیم مصنوعات ودیگردی جاتی ہیں ۔دونوں ممالک دوطرفہ تجارت کو مزید بڑھا رہے ہیں۔گزشتہ روزہی دونوں ممالک نے آئندہ دو سالوں میںدوطرفہ زرعی اور غذائی برآمدات کو بڑھا کر 3 ارب ڈالر تک پہنچانے کا تاریخی فیصلہ کیا ہے ۔اِس حوالے سے گزشتہ روزہی سعودی عرب کے وزیر برائے ماحولیات، پانی و زراعت انجینئر عبدالرحمن بن عبدالمحسن الفضلی نے اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان کادورہ کیا۔اِس دورے کے دوران دونوں برادر اسلامی ممالک نے زراعت، آبپاشی اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے پر اتفاق کیا ہے ۔ گزشتہ برس ہی پاکستان نے تقریباً 1.63 ملین ڈالر مالیت کے ایک لاکھ انہترہزار ٹن چاول سعودی عرب کو برآمد کیے جبکہ اب سعودی حکومت نے پاکستان سے چاول کی درآمدات میں مزید بڑے پیمانے پر اضافے کی خواہش ظاہر کی ہے۔اِسی طرح پاکستان سے سالانہ تقریباً 30 ہزار ٹن سرخ گوشت سعودی عرب بھیجا جا رہا ہے، جسے آنے والے وقت میں بتدریج دوگنا کرنے پردوطرفہ اتفاق کیاگیاہے۔اِسی طرح پھل، فروٹ کنسنٹریٹس اور سبز چارہ کو بھی تجارت کیلئے ترجیحی شعبے قرار دیا گیا ہے۔ دونوں ممالک نے جدید زرعی ٹیکنالوجی، آبپاشی کے جدید نظام اور چھوٹے کاشتکاروں کیلئے خصوصی پروگرامز پر عملدرآمد کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ پنجاب کے علاقے بھکر میں پانی کی بچت پر مبنی آبپاشی کے پہلے مرحلے کی کامیابی کے بعد دوسرے مرحلے پر بھی غور کیا گیاہے۔سب سے بڑی پیشرفت یہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے جلد ہی زرعی ماہرین کا ایک نمائندہ وفد سعودی دارالحکومت ریاض بھیجا جائے گا تاکہ باہمی تحقیقی منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔دونوں ممالک میں نجی شعبے کی حوصلہ افزائی اور فورمزکارپوریٹ فارمنگ وسرمایہ کاری کے حوالے سے پاک سعودی ایگری بزنس فورم میںدونوں ممالک کے نجی شعبوں کو قریب لانے، کوالٹی سرٹیفکیٹس کی باہمی منظوری اور لائیو سٹاک کے شعبے میں سرمایہ کاری کے معاہدوں کا بھی جائزہ لیا گیا ہے ۔اکتوبر میں ریاض میں 43ویں سعودی زرعی نمائش کابھی اہتمام کیاجارہاہے جس میں پاکستان کومملکت سعودی عرب نے خصوصی طورپردعوت دی ہے ۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیگر شعبوںکے بعدزرعی شعبے میں تعاون اور تجارت بڑھانے کاعزم انتہائی خوش آئند اور حوصلہ افزاء ہے ۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں