نیپال میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے ایک بار پھر ہمالیائی خطے کی بے بسی کو دنیا کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ پہاڑوں سے اترتے پانی، زمین کھسکنے کے واقعات اور تباہ ہونے والے راستوں نے زندگی کا پہیہ روک دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 469 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ سیکڑوں افراد تاحال لاپتا ہیں۔ کئی سڑکیں اور پل تباہ ہو چکے ہیں اور متعدد متاثرہ علاقوں تک زمینی رسائی ممکن نہیں رہی۔ ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ نے صورتحال کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بعض علاقوں تک امدادی ٹیمیں صرف ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہنچ سکتی ہیں۔ ایسے میں، جب ایک طرف انسانی المیہ شدت اختیار کر رہا ہے، دوسری طرف نیپال نے غیر ملکی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں کی پیشکشیں قبول کرنے سے گریز کیا ہے، تاہم بین الاقوامی سطح پر مالی اور انسانی امداد کا سلسلہ جاری ہے۔ نیپالی حکام کا مؤقف ہے کہ ملکی سکیورٹی ادارے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہمارے خطے میں قدرتی آفات اب غیر معمولی واقعات نہیں رہیں۔ سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، زلزلے، گلیشیٔرز کے پگھلنے اور اچانک موسلا دھار بارشوں نے جنوبی ایشیا کے کئی ملکوں کو مستقل خطرے سے دوچار کر رکھا ہے۔ نیپال تو جغرافیائی اعتبار سے اس خطرے کی سب سے نمایاں مثال ہے۔ ہمالیہ کے دامن میں آباد بستیاں، دشوار گزار پہاڑی راستے، محدود مواصلاتی سہولتیں اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کسی بھی بڑے قدرتی حادثے کو چند گھنٹوں میں قومی بحران میں تبدیل کر سکتے ہیں۔مسئلہ صرف یہ نہیں کہ نیپال نے غیر ملکی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں کی پیشکش قبول نہیں کی۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ قدرتی آفات کے بعد ہماری ریاستیں عموماً دو انتہاؤں کے درمیان کھڑی نظر آتی ہیں۔ ایک طرف وہ حکومتیں ہیں جو ہر بحران میں بیرونی مدد کی منتظر رہتی ہیں اور دوسری طرف وہ ریاستیں ہیں جو قومی خودداری کے نام پر بیرونی تعاون کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ دونوں رویوں کے اپنے خطرات ہیں۔ مستقل امداد پر انحصار کسی بھی ملک کی ادارہ جاتی قوت کو کمزور کرتا ہے، لیکن اگر کوئی ملک اپنی محدود صلاحیتوں کے باوجود صرف انا یا سیاسی تاثر کی خاطر ایسی مدد قبول نہ کرے جو فوری طور پر انسانی جانیں بچا سکتی ہو تو یہ فیصلہ بھی سوالات سے خالی نہیں۔یہاں ایک اور پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اور وہ ہے غیر ملکی امداد کی سیاست۔ دنیا کی بڑی طاقتیں محض نقشے پر موجود ممالک نہیں دیکھتیں، وہ اپنے مفادات بھی دیکھتی ہیں۔ کسی خطے میں زلزلہ آئے، سیلاب آئے، جنگ ہو یا کوئی اور بحران پیدا ہو ، امداد کے نام پر پہنچنے والے ہاتھ ہمیشہ صرف انسانی ہمدردی کے ہاتھ نہیں ہوتے۔ ان کے پیچھے سفارتی مفادات، معاشی ترجیحات اور بعض اوقات جغرافیائی سیاست بھی موجود ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قدرتی آفت کے بعد آنے والی امداد کو قبول کرتے ہوئے کسی بھی حکومت کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ امداد اور انحصار کے درمیان لکیر واضح رکھے۔ہمارے خطے کی بدقسمتی یہ بھی ہے کہ بعض ممالک کے بارے میں یہ تاثر بارہا سامنے آتا رہا ہے کہ جیسے وہ کسی قدرتی آفت کے انتظار میں رہتے ہیں کہ کب کوئی بحران آئے اور امداد کے دروازے کھلیں۔ آفت انسانی المیہ ہوتی ہے، مگر کچھ ریاستی اور غیر ریاستی حلقوں کیلئے یہی المیہ سیاسی اور معاشی موقع بن جاتا ہے۔ کہیں امداد کے نام پر قرضے آتے ہیں، کہیں تعمیرِ نو کے منصوبوں کے ساتھ سیاسی شرائط جڑ جاتی ہیں اور کہیں متاثرہ ملک کی کمزوری کو اپنے اثر و رسوخ میں اضافے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ اگر کوئی قوم ہر بار اپنی قومی کمزوری کو غیر ملکی امداد کے ذریعے ڈھانپنے کی کوشش کرے تو ایک وقت آتا ہے جب امداد ضرورت سے بڑھ کر عادت بن جاتی ہے اور عادت بالآخر انحصار میں تبدیل ہو جاتی ہے لیکن یہاں ایک باریک فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ غیر ملکی امداد قبول کرنا بذاتِ خود قومی غیرت کے خلاف نہیں۔ دنیا کے مضبوط ترین ممالک بھی بڑے قدرتی بحرانوں میں ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ امداد کس نوعیت کی ہے، اس کے بدلے کیا لیا جا رہا ہے، اسے کس شفاف طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے اور کیا اس امداد کے نتیجے میں متاثرہ ملک کی اپنی صلاحیت بڑھ رہی ہے یا وہ مزید محتاج ہوتا جا رہا ہے۔ اگر کسی دوست ملک کے پاس ایسے ہیلی کاپٹر، ریسکیو آلات، انجینئرنگ ٹیمیں یا طبی سہولتیں موجود ہیں جو چند گھنٹوں میں سینکڑوں انسانوں کی زندگیاں بچا سکتی ہیں تو محض اس خوف سے مدد مسترد کر دینا کہ دنیا ہمیں کمزور سمجھے گی، دانش مندانہ فیصلہ نہیں کہا جا سکتا۔ ریاست کی پہلی ذمہ داری اپنے شہریوں کی جان ہے، عالمی رائے عامہ بعد میں آتی ہے۔نیپال کی جغرافیائی پوزیشن اس معاملے کو مزید اہم بنا دیتی ہے۔ چین، نیپال اور تبت کے گرد پھیلا ہوا ہمالیائی خطہ دنیا کے حساس ترین جغرافیائی علاقوں میں شامل ہے۔ یہاں پہاڑ صرف قدرتی حسن کا استعارہ نہیں بلکہ زندگی، معیشت، نقل و حمل اور سلامتی کا بنیادی حصہ ہیں۔ تبت کی بلند سطحِ مرتفع سے لے کر نیپال کی وادیوں تک پھیلا یہ علاقہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بھی محفوظ نہیں۔ گلیشیٔرز، برفانی جھیلیں، شدید بارشیں اور لینڈ سلائیڈنگ مستقبل میں اس خطے کیلئے مزید بڑے خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔ ایسے میں چین، نیپال اور پورے ہمالیائی خطے کے ممالک کے درمیان قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے تعاون کسی سیاسی عیاشی کا نہیں بلکہ عملی ضرورت کا نام ہے۔پہاڑ سرحدوں کا احترام نہیں کرتے اور پانی پاسپورٹ نہیں مانگتا۔ ایک طرف ہونے والی شدید بارش کا اثر دوسری طرف بھی پہنچ سکتا ہے، ایک وادی میں ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ پورے مواصلاتی نظام کو متاثر کر سکتی ہے اور ایک برفانی جھیل کا اچانک پھٹنا نیچے آباد علاقوں کے لیے قیامت بن سکتا ہے۔ اس لیے اس خطے کے ممالک کو سیاسی اختلافات سے قطع نظر ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے میدان میں مشترکہ حکمتِ عملی بنانا ہوگی۔ سیلاب کی پیشگی اطلاع، موسمیاتی نگرانی، سیٹلائٹ ڈیٹا، ریسکیو ٹیکنالوجی، ہیلی کاپٹرز، طبی ٹیموں اور ہنگامی مواصلاتی نظام میں تعاون لاکھوں انسانوں کو مستقبل کی تباہ کاریوں سے محفوظ بنا سکتا ہے ۔ یہاں سوال نیپال سے آگے بڑھ کر پاکستان اور پورے جنوبی ایشیا کا بن جاتا ہے۔ ہم کتنی بار کسی آفت کے بعد چند دن کیلئے متحرک ہوتے ہیں، امدادی کیمپ لگاتے ہیں، تصاویر بنواتے ہیں، بیانات جاری کرتے ہیں اور پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے؟ کتنی بار یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اگلی بار اگر یہی آفت اس سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ آئی تو ہمارے پاس کیا ہوگا؟ کتنے تربیت یافتہ ریسکیو اہلکار ہوں گے؟ کتنے ہیلی کاپٹر دستیاب ہوں گے؟ دور دراز علاقوں تک خوراک اور ادویات کیسے پہنچائی جائیں گی؟ تباہ ہونیوالی سڑکوں اور پلوں کا متبادل کیا ہوگا؟ متاثرہ آبادی کو کتنے گھنٹوں میں محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے گا؟ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ان سوالات کے جواب آفت آنے سے پہلے تلاش کرنے کے بجائے آفت آنے کے بعد تلاش کیے جاتے ہیں۔نیپال کی موجودہ صورتِ حال ہمیں ایک اور تلخ سبق بھی دیتی ہے۔ قدرتی آفت سے پہلے کوئی ملک طاقتور یا کمزور نہیں ہوتا، لیکن آفت کے بعد اس کی اصل ریاستی صلاحیت ضرور سامنے آ جاتی ہے۔ جس ملک کے ادارے مضبوط ہوں ، وہ تباہی کو محدود کر لیتا ہے؛ جس کے ادارے کمزور ہوں، وہاں قدرتی حادثہ انسانی بحران میں بدل جاتا ہے۔ اسی لیے آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم یہ بحث کریں کہ کون ساملک امداد لے رہا ہے اور کون سا انکار کر رہا ہے ۔ اصل بحث یہ ہونی چاہیے کہ ہم اپنے ملکوں کو اس قابل کب بنائیں گے کہ کسی سیلاب، زلزلے یا لینڈ سلائیڈنگ کے بعد انسانی جانیں امداد کے انتظار میں نہ رہیں۔ قومی غیرت یہ نہیں کہ مصیبت میں مدد کا ہاتھ دیکھ کر دروازہ بند کر دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ اپنے لوگوں کو بچانے کیلئے ہر جائز وسیلہ استعمال کیا جائے اور پھر پوری قوم یہ عہد کرے کہ اگلی آفت کے وقت ہم کسی کے منتظر نہیں ہوں گے جو قومیں آفت کو امداد اکٹھی کرنے کا موقع بناتی ہیں، وہ کمزور ہوتی جاتی ہیں اور جو قومیں ہر آفت کو اپنی کمزوریوں کی اصلاح کا موقع بناتی ہیں، وہ مضبوط ہوتی ہیں۔ نیپال کے پہاڑوں سے آنیوالی یہ تباہی دراصل پورے خطے کیلئے ایک دستک ہے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں