بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 21.6°C
Tuesday, 15 September 2026 | پاکستان: 4 ر بیع الثانی 1448

کالا چشمہ ۔۔۔!

Tuesday, 15 September, 2026

کالا چشمہ لاہور سے تقریباً 700 کلومیٹر اور اسلام آباد سے تقریبا 400 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس چشمے کے آس پاس بڑے بڑے کالے پتھر موجود ہیں، جس کی وجہ سے اس کا پانی دور سے ہلکا سا سیاہ مائل نظر آتا ہے۔ کالا چشمہ دریائے پنجکوڑا کے کنارے واقع ہے۔ کالا چشمہ کے اردگرد بلند و بالا برف پوش پہاڑ، سرسبز میدان اور دریائے پنجکوڑا کا دلفریب منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع اپر دیر میں کمراٹ وادی کی اصل خوبصورتی اس کے قدرتی تنوع میں پوشیدہ ہے۔ اس کی پہچان اس کے گھنے دیودار کے جنگلات، دریائے پنجکوڑا، بلند پہاڑوں اور خاموش قدرتی ماحول ہے۔تھال کمراٹ وادی کا ایک اہم پڑا اور سیاحتی دروازہ ہے ۔ تھال میں مقامی زندگی اور پہاڑی ثقافت کی ایک جھلک یہاں کے لوگوں کی سادگی، مہمان نوازی اور فطرت سے قربت سیاح کے سفر کو مزید خوشگوار بناتی ہے۔ کالا چشمہ اور کمراٹ جیسے مقامات انسان کو یاد دلاتے ہیں کہ خاموشی بھی زندگی کا ایک خوبصورت حصہ ہے۔ دریا کی آواز، ہوا کی سرسراہٹ اور درختوں کی ہلکی جنبش محسور ماحول پیدا کرتی ہے۔کالا چشمہ سے تقریبا ایک گھنٹہ مزید آگے وادی کا ایک اور دلکش مقام دو جنگا ہے۔ اس مقام کا نام دریائیپنجکوڑا اور دریائے شاہی باغ کے ملاپ سے منسوب ہے۔ دو جنگا میں قدرت کے زیادہ خاموش اور نسبتا اچھوتے رنگ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یہی خاموشی دو جنگا کی اصل کشش ہے۔دو جنگا تک پہنچنے کا سفر بھی کمراٹ کی مہم جوئی کا حصہ ہے۔ پہاڑی راستے، دریا کے قریب سے گزرتی گاڑی، جنگلات اور بلند پہاڑ سفر کو ایک خاص کیفیت عطا کرتے ہیں۔ کمراٹ صرف قدرتی مناظر کی وادی نہیں بلکہ مہم جوئی کے شوقین افراد کیلئے بھی ایک اہم مقام ہے۔ یہاں جیپ سفاری، کیمپنگ، پیدل سفر، ٹریکنگ اور قدرتی مشاہدے کے کئی مواقع موجود ہیں۔ کمراٹ کے بلند علاقوں میں جہاز بانڈہ ایک بلند اور وسیع سرسبز میدان ہے جو اپنی قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے پاکستان کے نمایاں سیاحتی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں پہنچ کر کمراٹ کے جنگلاتی ماحول سے نکل کر ایک وسیع پہاڑی دنیا سامنے آتی ہے۔ جہاز بانڈہ کے راستے میں پہاڑی زندگی کے کئی رنگ نظر آتے ہیں۔ گرمیوں کے موسم میں چرواہے اپنے مویشیوں کے ساتھ بلند چراگاہوں کی طرف جاتے ہیں۔ سرسبز میدانوں میں جانور چر رہے ہوتے ہیں، دور پہاڑوں پر برف موجود ہوتی ہے اور نیچے پانی کی چھوٹی چھوٹی ندیوں کی آواز سنائی دیتی ہے۔ جہاز بانڈہ سے آگے کٹورہ جھیل ضلع اپر دیر کی بلند وادیوں میں واقع ایک انتہائی خوبصورت الپائن گلیشیئر جھیل ہے۔ یہ جھیل سطح سمندر سے تقریبا گیارہ ہزار پانچ سو فٹ کی بلندی پر ہے۔ بلند پہاڑوں کے درمیان کٹورہ جھیل قدرت کے شاہکاروں میں شامل ہے۔ کمراٹ کی پہچان جنگلات اور دریائے پنجکوڑا ہیں، کالا چشمہ اپنی قدرتی ساخت اور سیاہ پتھروں کی وجہ سے منفرد ہے، دو جنگا پانی کے بہا اور نسبتا دور افتادہ ماحول کی وجہ سے دلکش ہے، جہاز بانڈہ وسیع سرسبز میدانوں کی وجہ سے ممتاز ہے اور کٹورہ جھیل بلند پہاڑی دنیا میں موجود اپنی پیالے نما خوبصورتی کی وجہ سے یادگار مقام رکھتی ہے۔ پاکستان کے پاس بلند پہاڑ، گلیشیئرز، دریا، جھیلیں، صحرا، سمندر، جنگلات، تاریخی شہر، مذہبی مقامات اور مختلف ثقافتیں موجود ہیں۔ دنیا کے بہت سے ممالک صرف چند قدرتی یا تاریخی خصوصیات کی بنیاد پر اپنی سیاحت کو کامیابی سے فروغ دے رہے ہیں جبکہ پاکستان کے پاس مختلف موسم، ثقافتیں اور جغرافیائی مناظر موجود ہیں ۔ سوئٹزرلینڈ کی سیاحتی کامیابی صرف قدرتی حسن کا رزلٹ نہیں بلکہ بہترین منصوبہ بندی، ٹرانسپورٹ، صفائی، ماحولیات کے تحفظ اور سیاحوں کیلئے سہولیات ہیں ۔ وہاں قدرتی حسن کو نقصان پہنچائے بغیر سیاحتی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ترکی نے اپنی تاریخ، ثقافت، سمندر، پہاڑ، قدیم شہر، مذہبی مقامات اور جدید سہولیات کو ایک مربوط سیاحتی پالیسی کے تحت دنیا کے سامنے پیش کیا۔ استنبول کی تاریخی عمارتیں، قونیہ کی روحانی شناخت، انطالیہ کے ساحل، کاپاڈوشیا کے منفرد مناظر اور دیگر سیاحتی مقامات ترکی کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ترکی نے دنیا بھر میں اپنے ملک کو ایک سیاحتی برانڈ کے طور پر متعارف کرایا۔ فلموں، ڈراموں، ڈیجیٹل میڈیا، بین الاقوامی نمائشوں اور منظم مارکیٹنگ کے ذریعے ترکی نے اپنی تاریخ اور ثقافت کو عالمی سطح پر پہنچایا۔ تھائی لینڈ نے ساحلوں، جزائر، ثقافت، کھانوں، تفریح اور مہمان نوازی کو سیاحت کی مضبوط صنعت میں تبدیل کیا۔ تھائی لینڈ کی معیشت میں سیاحت کا کردار بہت اہم ہے اور سیاحت کے ساتھ ٹرانسپورٹ، ہوٹل، ریسٹورنٹ، خریداری، تفریح اور دیگر کئی شعبے بھی ترقی کرتے ہیں۔ ایک چھوٹا سا سیاحتی مرکز بھی اچھی منصوبہ بندی کے ساتھ چلایا جائے تو اس سے ڈرائیور، گائیڈ، ہوٹل مالک، دکاندار، کسان، دستکار اور نوجوان سب فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔پاکستان کے شمالی علاقے قدرتی حسن کے اعتبار سے دنیا کے بہترین سیاحتی علاقوں سے کم نہیں۔ کمراٹ، سوات، چترال، ہنزہ، گلگت، اسکردو، ناران، کاغان، نیلم، دیوسائی اور دیگر مقامات اپنی منفرد شناخت رکھتے ہیں۔کمراٹ وادی میں سیاحت معیشت کیلئے ایک بڑی نعمت بن سکتی ہے۔ تھال میں بہتر بازار، مقامی کھانے، دستکاری، معلوماتی مراکز اور معیاری رہائش کی سہولت مقامی لوگوں کی آمدن میں اضافہ کر سکتی ہے۔ مقامی نوجوانوں کو تربیت دے کر گائیڈ، ٹریکنگ ایکسپرٹ، ریسکیو ورکر اور سیاحتی خدمات سے وابستہ کیا جا سکتا ہے ۔ کمراٹ جیسے علاقوں میں ماحول دوست سیاحت کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ مقامی طرز تعمیر کے مطابق چھوٹے گیسٹ ہاس، کیمپنگ ایریاز، صفائی کا نظام اور ماحول دوست سہولیات زیادہ مناسب ثابت ہو سکتی ہیں ۔ کمراٹ کے جنگلات اور دریائے پنجکوڑا کی حفاظت بھی سیاحتی پالیسی کا حصہ ہونی چاہیے۔ جنگلات کٹتے رہے، دریا آلودہ ہوتا رہا اور بے ہنگم تعمیرات ہوتی رہیں تو چند سال بعد وہی سیاحتی مقام اپنی کشش کھو سکتا ہے۔ قدرت کو تباہ کر کے سیاحت کو زیادہ دیر تک زندہ نہیں رکھا جا سکتا۔پاکستان میں سیاحت کی ترقی کیلئے سڑکوں کی بہتری ضروری ہے مگر ہر پہاڑ کو کاٹ کر بڑی شاہراہ بنانا ضروری نہیں۔ بعض علاقوں میں قدرتی ماحول کو برقرار رکھتے ہوئے محدود اور محفوظ رسائی بہتر ہوتی ہے۔ غیر ملکی سیاحت کیلئے پاکستان کو ویزا، معلومات اور سفر کے عمل کو بھی آسان ترین کرنا چاہیے ۔دنیا بھر میں پاکستان کے بارے میں مثبت اور حقیقی تشہیر ضروری ہے۔ پاکستان کے لوگ مہمان نواز ہیں، اس کی ثقافت متنوع ہے اور قدرتی مناظر غیر معمولی ہیں۔ ان تمام خوبیوں کو منظم انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ موہنجو داڑو، ہڑپہ، ٹیکسلا، لاہور، ملتان، پشاور اور دیگر تاریخی شہر دنیا بھر کے لوگوں کیلئے کشش رکھتے ہیں۔ اپنے ملک کو صرف مسائل کے آئینے میں نہ دیکھیں بلکہ اس کے امکانات کو بھی پہچانیں۔ پاکستان کے پہاڑ، دریا، جنگلات اور وادیاں قومی دولت ہیں۔ انہیں محفوظ رکھا اور بہتر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا تو سیاحت صرف تفریح نہیں بلکہ روزگار، ترقی اور خوشحالی کا ایک بڑا ذریعہ بن سکتی ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *