کبھی کبھی تین گھنٹے کی ایک طویل میٹنگ سے زیادہ اثر ایک جملہ چھوڑ جاتا ہے، اور بیس منٹ کی تقریر کے مقابلے میں دو منٹ کی سچی گفتگو دل میں اتر جاتی ہے۔ شاید اس لیے کہ الفاظ کی تعداد نہیں، ان کے پیچھے موجود سچائی اصل اہمیت رکھتی ہے۔آج گوجرانوالہ میں ایف بی آر کے دفتر میں ایک اہم اجلاس تھا۔ گوجرانوالہ ڈویژن کے میرج ہالز، ہوٹلز اور مارکیز سے وابستہ تقریبا پانچ سو کے قریب نمائندے مختلف علاقوں سے شریک ہوئے۔ انتظامیہ کی جانب سے کمشنر گوجرانوالہ، ایڈیشنل کمشنر اور ایف بی آر کے متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ مقصد کاروباری طبقے کے مسائل، شہر کی صورتحال اور ٹیکس دہندگان کے معاملات پر گفتگو کرنا تھا۔یہ اپنی جگہ ایک اچھی اور قابلِ تحسین کوشش تھی۔ حکومت اور کاروباری طبقہ اگر ایک میز پر بیٹھیں تو کم از کم مکالمے کا راستہ کھلتا ہے، اور مکالمہ ہی وہ دروازہ ہے جہاں سے حل اندر آتا ہے۔ اختلاف ہو سکتا ہے، سوال ہو سکتے ہیں، ٹیکس کے معاملات پر بحث ہو سکتی ہے، لیکن اگر گفتگو کا دروازہ کھلا رہے تو مسائل کا حل نکل سکتا ہے۔اسی اجلاس میں میرے لیے سب سے اہم بات میرے ایک عزیز کی گفتگو تھی، جو کاروباری شعبے سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے کوئی سیاسی تقریر نہیں کی۔ کسی کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا۔ کسی ادارے سے محاذ آرائی نہیں کی۔ انہوں نے صرف کاروبار کرنے والے انسان کا دکھ بیان کیا۔ اور یہی دکھ آج میرے اس کالم کی وجہ بنا ہے۔ان کی بات کا خلاصہ بہت سادہ تھا:ہم سے ٹیکس ضرور لیں، مگر ہمیں جینے بھی دیں۔یہ جملہ بظاہر معمولی ہے، مگر اس کے اندر آج کے کاروباری پاکستان کی پوری داستان چھپی ہوئی ہے۔کاروبار پہلے ہی شدید مشکلات میں ہے۔ عام آدمی کی قوتِ خرید بری طرح متاثر ہے۔ بجلی کے بل اپنی جگہ، پٹرول اپنی جگہ، گیس اپنی جگہ، ملازمین کی تنخواہیں اپنی جگہ، دکانوں اور ہالوں کے کرایے اور دوسرے اخراجات اپنی جگہ۔ دوسری طرف گاہک کی جیب پہلے جیسی نہیں رہی۔میرج ہال ہو یا مارکی، ہوٹل ہو یا ریستوران، دکان ہو یا چھوٹا کاروبار، سب سے پہلے گاہک کی آمد دیکھی جاتی ہے۔ یہ ایک زنجیر ہے۔ گاہک ہوگا تو کاروبار ہوگا، کاروبار ہوگا تو روزگار ہوگا، روزگار ہوگا تو گھر چلے گا، اور جب یہ سب ہوگا تو حکومت کو ٹیکس بھی ملے گا۔ لیکن اگر کاروبار ہی دم توڑنے لگے تو پھر ریاست ٹیکس کس سے وصول کرے گی؟ یہ سوال کسی ٹیکس مخالف شخص کا نہیں، معیشت کو سمجھنے والے ہر شخص کا سوال ہے۔ میں ٹیکس کے خلاف نہیں ہوں۔ ریاست کو ٹیکس چاہیے۔ پاکستان کو ٹیکس چاہیے۔ ملک کے دفاع، تعلیم، صحت، سڑکوں، انتظامیہ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے وسائل درکار ہیں۔ جو شخص اپنی استطاعت کے مطابق جائز ٹیکس ادا کرتا ہے، وہ دراصل ریاست کو مضبوط کرتا ہے۔ لیکن ٹیکس لینے اور کاروبار کا گلا گھونٹنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ریاست کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ٹیکس نیٹ وسیع ہو، کاروبار بڑھے، لوگ زیادہ کمائیں اور حکومت کو زیادہ ریونیو ملے۔ یہ نہیں کہ کاروبار سکڑتا جائے اور ٹیکس کا ہدف بڑھتا جائے۔ یہ پالیسی نہیں، خودکشی ہے۔ میرے عزیز نے کاروباری طبقے کے مسائل جس سادگی اور ادب سے بیان کیے، وہ قابلِ غور ہیں۔ انہوں نے کسی سے رعایت مانگنے کے بجائے صرف یہ احساس دلایا کہ کاروبار کرنیوالے بھی انسان ہیں، ان کے ساتھ بھی زندگی وابستہ ہے۔ایک میرج ہال صرف چار دیواری اور عمارت نہیں ہوتا۔ اس سے پھول والے کا کاروبار جڑا ہے، کیٹرنگ والے کا روزگار جڑا ہے، فوٹوگرافر، ڈیکوریشن، ویٹر، ڈرائیور، کراکری والے اور درجنوں دوسرے چھوٹے کاروبار اس ایک تقریب سے اپنا چولہا جلاتے ہیں۔ ایک ہوٹل بھی صرف چند کمروں کا نام نہیں۔ اس سے کئی خاندانوں کی روزی وابستہ ہوتی ہے۔ ایک دکان بند ہوتی ہے تو صرف مالک بے روزگار نہیں ہوتا، اس کے ملازم، اس کا سپلائر، اس کا رکشے والا، سب متاثر ہوتے ہیں۔ یہی معیشت کا اصل چہرہ ہے۔ اسی لیے میں پنجاب حکومت سے، بطور کالم نگار، نہایت ادب سے ایک گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ اپنے کاروباری لوگوں کو جینے دیں۔ ان سے ٹیکس ضرور لیں، لیکن انہیں اس مقام تک نہ لے جائیں جہاں کاروبار چلانے سے بہتر انہیں کاروبار بند کرنا محسوس ہونے لگے۔ ٹیکس چوری کرنے والوں کیخلاف ضرور کارروائی ہونی چاہیے۔ قانون سب کیلئے برابر ہونا چاہیے۔ جو شخص ریاست کا حق دباتا ہے، اسے قانون کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے۔ لیکن جو شخص ایمانداری سے ٹیکس دے رہا ہے، ملازمتیں پیدا کر رہا ہے، کاروبار چلا رہا ہے اور ملکی معیشت میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے، اس کے ساتھ رویہ سہولت اور اعتماد کا ہونا چاہیے۔ تاجر کو مجرم سمجھ کر نہیں، شریک سمجھ کر دیکھیں۔آج کی میٹنگ کا ایک خوبصورت پہلو یہ بھی تھا کہ انتظامیہ نے بات سننے کی کوشش کی۔ جب ایک مقرر کو نسبتاً زیادہ وقت مل گیا تو میں نے کمشنر صاحب کو تحریری طور پر عرض کیا کہ جناب، یہاں بہت سے لوگ اپنے اپنے کاروبار کی نمائندگی کیلئے آئے ہیں، اس لیے سب کو بات رکھنے کا موقع ملنا چاہیے۔ کمشنر صاحب نے میری بات کو سمجھا اور مجھے بولنے کا موقع دیا۔ میں نے عرض کیا کہ سر، میں آپ کا زیادہ وقت نہیں لوں گا۔ نہ علم کی دھاک اٹھانی ہے، نہ لمبی تقریر کرنی ہے، بس اپنا مدعا بیان کرنا ہے اور پھر میں نے ایک شعر پڑھا:
جب دستورِ زباں بندی ہے تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری
یہ شعر کسی پر الزام نہیں تھا۔ یہ صرف ایک احساس تھا کہ اگر پانچ سو لوگ ایک جگہ جمع ہوں تو پانچ سو آوازوں کی بھی کچھ قدر ہونی چاہیے۔ اور خوشی کی بات ہے کہ انتظامیہ نے اسے مثبت انداز میں لیا، جو قابلِ تحسین ہے۔اس موقع پر مجھے صادق نسیم کا دوسرا شعر بھی یاد آتا ہے جو ہماری اجتماعی کمزوری کی بہترین عکاسی کرتا ہے:
ہوا ہی ایسی چلی ہے، ہر ایک سوچتا ہے
تمام شہر جلے، ایک میرا گھر نہ جلے
ہماری اجتماعی کمزوری یہی ہے کہ ہم دوسرے کے مسئلے کو اس وقت تک اپنا مسئلہ نہیں سمجھتے جب تک وہ ہمارے دروازے تک نہ پہنچ جائے۔ آج ایک مارکی مشکل میں ہے تو دوسری کہتی ہے، ہمارا تو کام چل رہا ہے۔ ایک ہوٹل مشکلات میں ہے تو دوسرا خاموش رہتا ہے۔ ایک دکاندار ٹیکس کے بوجھ کی بات کرتا ہے تو دوسرا سمجھتا ہے کہ یہ اس کا ذاتی معاملہ ہے۔ مگر معیشت ذاتی نہیں ہوتی۔ بازار کا دکھ پورے شہر کا دکھ ہوتا ہے۔ کاروبار کا زوال پورے معاشرے کا نقصان ہوتا ہے۔ اور روزگار کا ختم ہونا صرف ایک شخص کی نہیں، ایک پورے خاندان کی مشکل بن جاتا ہے۔ اس لیے آج میں پنجاب حکومت اور ایف بی آر سے صرف ایک بات کہنا چاہتا ہوں: ٹیکس ضرور لیں، مگر جینے بھی دیں۔ کاروبار کو سانس دیں، تاجر کو عزت دیں، ٹیکس دہندہ کو سہولت دیں۔ قانون توڑنے والے کے خلاف سختی کریں، مگر قانون پر چلنے والے کے لیے آسانی پیدا کریں۔ یاد رکھیے، خالی دکان ٹیکس نہیں دیتی، بند ہوٹل ٹیکس نہیں دیتا، ویران مارکی ٹیکس نہیں دیتی، بند فیکٹری ٹیکس نہیں دیتی۔ زندہ کاروبار ٹیکس دیتا ہے۔ اور زندہ کاروبار کے لیے ضروری ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کو صرف دینے والا ہاتھ نہ سمجھے، بلکہ اس ہاتھ کو مضبوط بھی کرے۔میرے عزیز نے آج جو بات کی، میں اسے ایک کاروباری شخص کی ذاتی شکایت نہیں سمجھتا۔ میں اسے پنجاب کے کاروباری طبقے کی ایک مہذب، باادب اور سنجیدہ درخواست سمجھتا ہوں۔ حکومت مضبوط ہو، ایف بی آر مضبوط ہو، ریاست کا خزانہ مضبوط ہو، مگر ساتھ ساتھ کاروباری آدمی بھی مضبوط ہو، کیونکہ مضبوط کاروبار ہی مضبوط ٹیکس بیس بناتا ہے۔آخر میں پھر وہی ایک جملہ، جو آج کی پوری نشست کا خلاصہ ہے:ہم ٹیکس دینے سے نہیں گھبراتے، ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ٹیکس دیتے دیتے جینے کا حق نہ چھن جائے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں