پاکستان میں حکومتیں اس وقت پریشان نہیں ہوتیں جب عوام پریشان ہوں۔ حکومتیں اس وقت پریشان ہوتی ہیں جب ان کے اتحادی پریشان ہونا شروع ہوں۔ عوام بجلی کے بل پر چیخیں، پٹرول پر ماتم کریں، کسان فصل کی قیمت کیلئے در بدر ہو، نوجوان روزگار کیلئے دھکے کھائیں، یہ سب حکومت کے لیے صرف اعداد و شمار ہیں۔ لیکن اتحادی کا لہجہ ذرا بلند ہو تو اچانک وزیراعظم ہاس سے اسپیکر چیمبر تک جمہوریت، مفاہمت اور قومی مفاد کے چراغ روشن ہو جاتے ہیں۔حکومت قائم ہے، اسمبلی قائم ہے، وزارتیں قائم ہیں، اتحادی بھی قائم ہیں، مگر اعتماد کہاں قائم ہے؟ اس کا کسی کے پاس جواب نہیں۔ ستمبر کے حالیہ دنوں میں گورنر ہاس لاہور میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی رابطہ کمیٹیوں کا اجلاس اس بے چینی کا تازہ ثبوت ہے۔ بڑے لوگ بیٹھے، پرانے حساب ہوئے، نئے وعدے ہوئے اور آخر میں حسبِ روایت اعلان ہوا کہ “اتحاد مضبوط ہے ، تعاون جاری رہے گا”۔سوال صرف ایک ہے ، اگر اتحاد اتنا ہی مضبوط ہے تو اسے بار بار مضبوط ثابت کرنے کیلئے اجلاس کیوں بلانے پڑ رہے ہیں؟حقیقت یہ ہے کہ دونوں جماعتوں میں کئی ماہ سے تلخی چلی آ رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کا شکوہ ہے کہ وفاقی حکومت کی ناکامیوں کا سیاسی بوجھ وہ بھی اٹھا رہی ہے۔ مہنگائی، پٹرولیم مصنوعات، زرعی بحران، لوڈشیڈنگ اور بلدیاتی انتخابات میں تاخیر پر اس کے تحفظات کھلے ہیں۔ دوسری طرف ن لیگ کا اعتراض ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت میں رہ کر اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو سیاسی فائدے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔یعنی ایک کہتی ہے تم حکومت میں ہو کر اپوزیشن بنے پھرتے ہو۔ دوسری کہتی ہے ہم حکومت میں ہیں تو ناکامیوں کا بوجھ بھی ہم ہی کیوں اٹھائیں؟ واہ رے سیاست! پھل سب کھائیں گے، کانٹا کسی کے پاں میں نہیں چبھنا چاہیے۔ یہ اتحاد پاکستان کی موجودہ سیاست کا دلچسپ نمونہ ہے۔ ن لیگ کو حکومت چلانے کیلئے پیپلز پارٹی چاہیے اور پیپلز پارٹی کو اپنے سیاسی مستقبل کیلئے ن لیگ سے فاصلہ بھی چاہیے اور تعلق بھی۔ دونوں ایک دوسرے کے بغیر مشکل میں ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ بھی بے آرام ہیں۔ پیپلز پارٹی کیوں ناراض ہے؟ جواب سادہ ہے۔ وہ جانتی ہے کہ حکومت ن لیگ کی ہے مگر نقصان اسے بھی ہوگا۔ عوام یہ نہیں پوچھیں گے کہ پٹرول مہنگا کرنے کا اختیار کس وزارت کے پاس تھا، وہ پوچھیں گے کہ آپ حکومت میں کیوں بیٹھے تھے؟ یہی سوال پیپلز پارٹی کو پریشان کر رہا ہے۔ ن لیگ کی مشکل اس سے بھی بڑی ہے۔ اسے حکومت بھی چلانی ہے، پیپلز پارٹی کو بھی ساتھ رکھنا ہے، پنجاب میں اپنی گرفت بھی برقرار رکھنی ہے اور ایسے فیصلے بھی کرنے ہیں جن کا بوجھ عوام پہلے ہی اٹھا رہے ہیں۔ اسی لیے اجلاس میں پیپلز پارٹی نے اپنے ترقیاتی حصے، رحیم یار خان اور ملتان کی ضلعی کمیٹیوں کی سربراہی، اور تقرریوں و تبادلوں میں مشاورت کا مطالبہ کیا۔ جواب ملا کہ یقین دہانی کرائی جاتی ہے۔ پیپلز پارٹی کا تلخ جواب تھا کہ ایسے وعدے پہلے بھی ہوئے، عمل درآمد کہاں ہوا؟ یہی ایک جملہ پورے اجلاس کا خلاصہ ہے۔ پاکستان میں وعدوں کی کمی نہیں، کمی عملدرآمد کی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے پولیس سے متعلق تحفظات سننے کیلئے آئی جی پنجاب کو بھی اجلاس میں بلایا گیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ معاملہ بیان بازی سے آگے نکل کر اختیار اور حصے کا بن چکا ہے۔ جب اتحادی یہ پوچھنے لگیں کہ ہمارے حصے کا اختیار کہاں ہے تو سمجھ لیجیے معاملہ صرف فنڈ کا نہیں، اقتدار میں حصے کا ہو گیا ہے۔اس کشمکش سے قانون سازی بھی متاثر ہے۔ حکومت کے پاس نمبر گیم میں دو تہائی اکثریت ہے، مگر پیپلز پارٹی کے بغیر یہ ادھوری ہے۔ اسی لیے اسپیکر ایاز صادق کو بیک چینل رابطے کرنا پڑ رہے ہیں۔ سوال پھر وہی ہے، اگر اکثریت ہے تو قانون سازی میں رکاوٹ کیوں؟ اور اگر رکاوٹ معمولی ہے تو اتنے بڑے نام ایک میز پر کیوں؟ جواب واضح ہے، اعداد حکومت کے پاس ہیں، اعتماد نہیں۔ اور پارلیمان صرف اعداد کا نام نہیں۔اسی ماحول میں نئے صوبوں کا معاملہ بھی آ گیا ہے ۔ پیپلز پارٹی نے وزیراعظم سے واضح موقف مانگا ہے۔ رانا ثنا اللہ کہتے ہیں کہ فیصلہ پارلیمان کرے گی۔ بظاہر یہ آئینی نکتہ ہے، مگر سیاست دان جانتے ہیں کہ نئے صوبے صرف نقشے پر لکیریں نہیں، نئی حکومتیں، نئی اسمبلیاں، نئے اختیارات اور نیا انتخابی حساب کتاب ہیں۔ اسی لیے ہر جماعت کیلکولیٹر لے کر بیٹھی ہے۔ اس تضاد کی بہترین مثال گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر ہیں۔ وہ ایک طرف پٹرول کی قیمتوں پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں کہ غریب پس رہا ہے، دوسری طرف اسی حکومت کے اتحاد کو مضبوط بھی قرار دیتے ہیں۔ یہی ہماری جمہوریت کا حسن ہے، یا مجبوری۔ 13 ستمبر کے اجلاس کا اصل جملہ اعلامیے میں نہیں، ماحول میں تھا: “اعتماد کا بحران ایک ملاقات سے ختم نہیں ہوگا”۔ ایک اعلامیے سے شکایات دفن نہیں ہوتیں۔ اسی لیے پیپلز پارٹی نے شائستہ نوٹس دیا ہے کہ اگر ن لیگ اتحادی ایجنڈا آگے نہیں بڑھانا چاہتی تو واضح کرے تاکہ ہم اپنی حکمت عملی طے کریں۔ یہ معمول کا جملہ نہیں، سیاسی وارننگ ہے۔ ن لیگ بھی جانتی ہے کہ پیپلز پارٹی کو مکمل ناراض کرنا مہنگا پڑے گا، اور پیپلز پارٹی جانتی ہے کہ حکومت سے مکمل چپک گئی تو عوام میں جواز کھو دے گی۔ چنانچہ دونوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ بھی پکڑا ہوا ہے اور انگلی بھی دبائی ہوئی ہے۔ مگر اس ساری کھینچا تانی میں ایک ہاتھ عوام کا بھی ہے، جو جیب میں جا رہا ہے۔ جیب میں ہاتھ جاتا ہے تو پتا چلتا ہے پٹرول مہنگا ہے۔ راشن کی دکان پر مہنگائی کا، بل آنے پر معیشت کا، اور منڈی میں کسان کو زرعی بحران کا اصل پتا چلتا ہے۔ حکومت کہتی ہے معیشت مستحکم ہو رہی ہے۔ یقینا ہو رہی ہوگی، مگر وہ استحکام ابھی عوام کے گھر تک نہیں پہنچا۔ اگر حکومت کو واقعی استحکام چاہیے تو اسے اتحادیوں سے نہیں، عوام سے نیا معاہدہ کرنا ہوگا۔ جس میں پٹرول کی قیمت خبر نہ ہو، بجلی کا بل سزا نہ ہو، کسان کا مسئلہ تقریر نہ ہو اور پارلیمان صرف نمبر پورے کرنے کی مشین نہ ہو۔ ورنہ گورنر ہاس کے اجلاس ہوتے رہیں گے، اعلامیے آتے رہیں گے اور ہر اعلامیے میں لکھا ہوگا کہ اتحاد مضبوط ہے۔ لیکن سیاست کا امتحان اعلامیہ نہیں، عوام کی جیب ہوتی ہے۔ اور جب جیب خالی ہو تو حکومتی دعووں کی آواز دور سے بھی کھوکھلی سنائی دیتی ہے۔یاد رکھیے، پیپلز پارٹی کو منانا سیاسی ضرورت ہو سکتی ہے، مگر عوام کو مطمئن کرنا سیاسی بقا ہے۔ اتحادی آج ہیں کل نہیں ہوں گے، وزارتیں بدل جائیں گی، حکومتیں بھی چلی جائیں گی، مگر عوام وہیں رہیں گے، انہی سڑکوں، بازاروں اور بلوں کے ساتھ۔ اور آخر میں فیصلہ بھی انہی کا ہوگا۔ کیونکہ تاریخ کا فیصلہ پریس ریلیز نہیں کرتی، عوام کرتے ہیں۔





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں