بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 20.7°C
Thursday, 17 September 2026 | پاکستان: 6 ر بیع الثانی 1448

موقع دیجیئے نسل نو اور جین زی کو بھی

Thursday, 17 September, 2026

ہر ڈویژن صوبہ کا پہلا تصور 1983 میں مولانا ظفر احمد انصاری کی سربراہی میں جسے انصاری کمیشن کا نام دیا گیا کی طرف سے پیش گیا گیا۔ اس میں جسٹس ر پیر کرم شاہ الازہری، مفتی تقی عثمانی، جسٹس ر گل محمد، پروفیسر محمود احمد غازی، ڈاکٹر عبدالواحد ہالے پوتہ، بیگم سلمی تصدق ، ڈاکٹر ضیا الدین، اخونزادہ بہرہ ور سعید جیسی باوقار، باکردار علمی، قانونی اوصاف کی حامل اعلیٰ پائے کی شخصیات شامل تھیں جبکہ ڈاکٹر محمد اسد، ڈاکٹر حمید اللہ جیسے بلند پایہ لوگ اس کے معاون۔ بدقسمتی آج اس کی مخالفت میں پیش پیش کوئی بھی ان اوصاف کا دور دور تک حامل نظر نہیں آتا۔ گو کہ انصاری کمیشن کی مرتب کردہ رپورٹ کا زیادہ حصہ سربراہ ریاست کے چناو کے طریق کار و اوصاف سے متعلق تھا جبکہ ضلعی حکومتوں کا صرف عبوری خاکہ اس میں پیش تھا مگر ہر ڈویزن صوبہ اور مالی و انتظامی اختیارات کی نچلی سطح تک تقسیم کا قابل عمل حل معروف سکالر ڈاکٹر طاہر القادری نے 90 کی دہائی میں پیش کیا۔ ڈاکٹر قیصر رفیق کو دئیے گئے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے اجمالا اس کا تذکرہ بھی کیا۔ اسی بااختیار ضلعی نظام کا خاکہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے سامنے رکھا گیا۔ ڈاکٹر قادری کا جنرل مشرف کو تجویز کردہ خاکہ گرچہ مکمل طور پر نافذ العمل تو نہ ہوا مگر اس کو ہر طبقہ فکر بالخصوص عوامی حلقوں میں پذیرائی خوب ملی۔ گزشتہ دنوں معروف اینکر حامد میر نے اس تصور کو ایسے سیاستدان سے موسوم کیا کہ جن کے دماغ میں دور دور تک اس کا خاکہ تھا اور نہ ان میں اتنی شرح و بسط سے ایسا تصور پیش کرنے کی صلاحیت۔ مگر غلطی کی گنجائش بہرحال رہتی ہے۔ میاں عامر محمود کہ جو لاہور کے ناظم اعلی بھی رہ چکے علمی و سماجی حلقوں میں مقام رکھتے ہیں اور نظام کی تبدیلی کی تڑپ بھی، نے اس تصور کو از سر نو زندہ کیا اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی گفتگو سے اسے مہمیز ملی۔ گو کہ ڈاکٹر قادری کو پاکستان کے انتخابی نظام میں قبولیت ملی نہ مقبولیت باوجود اس کے کہ انہوں نے سیاست کے کئی راز افشا کیے اور آئین کی موٹی کتابوں میں بند عوامی آرٹیکلز کہ جن پر گرد جمی تھی صاف کیا۔ آرٹیکل 62،63 بھی انہی کے خطابات سے ازبر ہوا ۔ کرپشن کی ہوشربا داستانیں بھی انہوں کی زبانی سننے کو ملیں اور محفوظ طریق کار کا بھی علم ہوا پاکستان کے نجی ٹی وی چینلز میں ان کے خطابات گھنٹوں براہ راست نشر ہوتے ان کے پیش کردہ فارمولہ میں تحصیل اور یونین کونسل سطح تک 10 لاکھ افراد کو شریک اقتدار کیا جانا شامل ہے۔ آئین کا آرٹیکل 140a مقامی اور بااختیار نظام لازم ٹہراتا ہے ۔ انہوں نے اس ضمن میں ترکی کے ماڈل کو بطور نمونہ پیش کیا کہ 8 کروڑ پچاس لاکھ کی آبادی کیلئے 81 صوبے، 957 ضلعی تو 3216 بلدیاتی حکومتیں جنوبی کوریا کی ساڑھے پانچ کروڑ آبادی 157 محکمہ جات مقامی حکومتوں کے پاس، انڈونیشیا، ملائشیا اور ایران میں بھی دہائیوں سے بااختیار ضلعی نظام حکومت۔ 35 صوبوں/ انتظامی یونٹس کہ جن کا سربراہ گورنر 150 ضلعی اور 800 تحصیل حکومتیں۔ ڈاکٹر قادری کے پیش کردہ نظام میں مرکزی سپریم کورٹ صرف آئینی اور ریاستی امور کی سماعت کر سکے گی جبکہ سپریم کورٹ ڈویژن/ صوبہ/ انتظامی یونٹس کی سطح پر جس سے تحصیل سے شروع ہونیوالا عدالتی سفر ڈویژن پہ ہی ختم ہو سکے گا۔ ضلعی سطح پر ہائیکورٹ اور تحصیل میں سیشن کورٹ فوری اور سستے انصاف کیلئے قائم ہوں گی۔ فوجداری مقدمات کا فیصلہ 3 ماہ جبکہ دیوانی کا 6 ماہ میں لازم۔ بدقسمتی سے ان کی جماعت کہ جس کا نیٹ ورک نہ صرف پاکستان بھر بلکہ دنیا کے 96 ملکوں میں موجود اور اس سے ہزاروں نہیں لاکھوں تعلیم یافتہ، مہذب اور سکالرز وابستہ۔ مگر معلوم نہیں کہ اتنی منظم تنظیم کا غیر موثر میڈیا ونگ آج تک اس منفرد تصور کی کماحقہ تشہیر کیوں نہ کر پایا ۔ہمارے ہاں بدقسمتی یہ رہی کہ انتخابات میں کامیابی کو جمہوریت سمجھا جاتا ہے جبکہ ہر فلسفی و تاریخ دان نے عوام کی بڑی اکثریت کو اس ذیل میں جاہل لکھا کہ عوام کی بڑی اکثریت کبھی بھی باکردار، تعلیم یافتہ، اہل و دانشمند افراد پر مشتمل نہیں رہی۔ برادرم انصار عباسی نے درست کہا کہ پاکستان قومیت کی بنیاد پر نہیں اسلام کے نام پر قائم ہوا مگر بدقسمتی ہمارے کوہتاہ نظر سیاستدان قومیت اور صوبائی عصبیت کو ہوا دیکر اصل مقصد سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ نسل نو کو اسمبلیوں اور جین زی کو ضلعی نظام میں موقع دیجیے۔ کہ سیدھے سادے، پڑھے لکھے یہ نوجوان سرخ فیتے کے پیچیدہ نظام سے واقف ہیں، تو نہ عوام کو رسوا کرنے کے قانونی طریقوں اور نہ بدعنوانی کے نت نئے حربوں سے۔ ان میں دیانت داری کا عنصر بھی غالب اور ملک کی ترقی کا جذبہ بھی۔ خود کو بھی بدلیے اور نظام کو بھی وگرنہ ناانصافی، بدعنوانی، بدکرداری اور نااہلیت کا کینسر ملک کو چھوڑے گا نہ عوام کو۔ پاکستان پائندہ باد !

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *