دنیا کا معاشی اور سیاسی نظام ایک اہم تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ برکس کی مسلسل توسیع اور اس کے مالیاتی تعاون کے منصوبوں نے اس تبدیلی کو مزید نمایاں کیا ہے۔ 2026 میں بھارت برکس کی صدارت کر رہا ہے اور 18واں سربراہی اجلاس نئی دہلی میں ستمبر میں شیڈول ہے۔ برکس اب محض ابھرتی ہوئی معیشتوں کا اقتصادی فورم نہیں رہا بلکہ عالمی حکمرانی، مالیاتی خودمختاری، یکطرفہ پابندیوں اور عالمی طاقت کے توازن پر اثرانداز ہونیوالا ایک اہم پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ تاہم اسے مغرب کے متبادل کے طور پر دیکھنے سے پہلے اس کی داخلی کمزوریوں اور محدودات کو سمجھنا بھی ضروری ہے ۔برکس کی بنیاد دراصل 2001 میں گولڈمین سیکس کے ماہرِ اقتصادیات جم او نیل کے وضع کردہ تصور برکس سے پڑی، جس میں برازیل، روس، بھارت اور چین کو مستقبل کی بڑی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے طور پر نشان زد کیا گیا تھا۔ 2006 میں ان ممالک نے باقاعدہ سیاسی و سفارتی تعاون شروع کیا اور 2009 میں روس کے شہر یکاترین برگ میں پہلا سربراہی اجلاس منعقد ہوا۔ 2010 میں جنوبی افریقہ کی شمولیت سے برکس، برکس بن گیا۔ 2024 میں مصر، ایتھوپیا، ایران اور متحدہ عرب امارات مکمل ارکان بنے، جبکہ جنوری 2025 میں انڈونیشیا بھی مکمل رکن بن گیا۔ یوں برکس کی رکنیت میں نمایاں توسیع ہوئی اور یہ عالمی جنوب کی ایک بڑی اجتماعی آواز بن گیا۔برکس کے قیام کی بنیادی وجہ مغربی دنیا کے خلاف محاذ آرائی سے زیادہ عالمی نظام میں ابھرتی ہوئی معیشتوں کی بہتر نمائندگی تھی۔ عالمی مالیاتی اداروں، خصوصا آئی ایم ایف اور عالمی بینک میں فیصلہ سازی کا ڈھانچہ طویل عرصے سے بڑی مغربی معیشتوں کے اثر و رسوخ سے تشکیل پاتا رہا ہے۔ 2008 کے عالمی مالیاتی بحران نے اس احساس کو مزید تقویت دی کہ عالمی معیشت میں اپنا حصہ بڑھانے والے ممالک کو عالمی مالیاتی نظام کی تشکیل میں بھی زیادہ اختیار ملنا چاہیے۔ چنانچہ برکس کا بنیادی مطالبہ ایک زیادہ متوازن، نمائندہ اور کثیر قطبی عالمی نظام رہا ہے۔اس تبدیلی میں چین کا کردار مرکزی ہے۔ چین نہ صرف برکس کی سب سے بڑی معاشی طاقت ہے بلکہ وہ نیو ڈیولپمنٹ بینک، مقامی کرنسیوں میں تجارت، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور عالمی جنوب میں بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری جیسے منصوبوں کو آگے بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم چین کی اس مرکزی حیثیت کے ساتھ ایک سوال بھی وابستہ ہے: کیا برکس امریکی ڈالر کی جگہ چینی اثر و رسوخ کو بڑھانے کا ذریعہ بن جائے گا؟ اگر ایسا ہوا تو یہ ڈالر کی بالادستی ختم کرنے کے بجائے عالمی مالیاتی طاقت کے ایک مرکز کو دوسرے مرکز سے تبدیل کرنے کی کوشش سمجھی جائے گی۔یہاں ڈی ڈالرائزیشن کے تصور کو حقیقت پسندانہ انداز میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ برکس نے ابھی تک کوئی مشترکہ برکس کرنسی جاری نہیں کی۔ موجودہ بحث زیادہ تر اس بات پر مرکوز ہے کہ رکن ممالک باہمی تجارت میں اپنی قومی کرنسیوں کا استعمال بڑھائیں، کرنسی رسک سے نمٹنے کے طریقہ کار بنائیں اور سرحد پار ادائیگیوں کے ایسے نظام تیار کریں جو امریکی مالیاتی نظام پر انحصار کم کریں۔ نیو ڈیولپمنٹ بینک بھی مقامی کرنسیوں میں مالی اعانت بڑھانے کو اپنی حکمتِ عملی کا حصہ بنا چکا ہے۔یہ فرق انتہائی اہم ہے۔ ڈالر کو عالمی مالیاتی نظام سے نکال دینا ایک سیاسی نعرہ ہو سکتا ہے، لیکن اس کی جگہ قابلِ اعتماد عالمی کرنسی یا مالیاتی نظام قائم کرنا ایک انتہائی پیچیدہ معاشی عمل ہے۔ ڈالر کو اس کی طاقت صرف امریکی معیشت نہیں دیتی بلکہ عالمی تجارت، بینکاری، مالیاتی منڈیوں، امریکی ٹریژری مارکیٹ، ادارہ جاتی اعتماد اور عالمی ذخائر میں اس کا کردار اسے مضبوط بناتا ہے۔ اس لیے برکس قلیل مدت میں ڈالر کو تبدیل نہیں کر سکتا؛ البتہ وہ ڈالر پر دنیا کے انحصار کو بتدریج کم کرنے کی کوشش ضرور کر سکتا ہے ۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا موقف بھی اسی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے برکس کے اندر اقتصادی تعاون، یکطرفہ پابندیوں کے خلاف مشترکہ اقدامات، مقامی کرنسیوں کے استعمال اور ایسے مالیاتی طریقہ کار کی ضرورت پر زور دیا ہے جو رکن ممالک کو بیرونی مالیاتی دبا سے نسبتا محفوظ رکھ سکیں۔ محض قومی کرنسیوں میں تجارت کافی نہیں؛ اس کے لیے کرنسی رسک مینجمنٹ، باہمی تصفیے اور مثر مالیاتی آلات بھی ضروری ہیں۔ یہی ڈی ڈالرائزیشن کا نسبتا عملی تصور ہے۔برکس کی بحث میں فلسطین کا مسئلہ بھی بعض رکن ممالک کے لیے اہم رہا ہے۔ ایران سمیت کئی ممالک عالمی حکمرانی، خودمختاری اور فلسطینیوں کے حقوق کے سوال کو موجودہ عالمی نظام کی ساخت سے جوڑتے ہیں۔ اس موقف کے مطابق عالمی اداروں کی اصلاح صرف معاشی نمائندگی تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ بین الاقوامی تنازعات سے متعلق فیصلہ سازی میں بھی زیادہ متوازن رویہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ تاہم رکن ممالک کے سیاسی مقف یکساں نہیں، جس کے باعث برکس کو مشترکہ خارجہ پالیسی کے بجائے مختلف ریاستوں کے درمیان تعاون کے پلیٹ فارم کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے ۔ برکس کی سب سے بڑی کمزوری اس کی داخلی سیاسی تقسیم ہے۔ چین اور بھارت کے درمیان اسٹریٹجک مسابقت، روس اور بھارت کے مختلف مفادات، خلیجی ممالک کی الگ ترجیحات اور ایران سمیت دیگر ارکان کے مختلف جغرافیائی مفادات اسے ایک متحد فوجی یا سیاسی اتحاد بننے سے روکتے ہیں۔ خود برکس کے سرکاری بیانات میں بھی تعاون، کثیرجہتی اور عالمی اداروں کی اصلاح پر زور دیا جاتا ہے، نہ کہ کسی فوجی اتحاد کے قیام پر۔ 2025 کے ریو اعلامیے میں بھی نیو ڈیولپمنٹ بینک کے کردار، مقامی کرنسیوں میں مالی اعانت اور عالمی مالیاتی نظام میں اصلاح کی حمایت کی گئی۔لہذا برکس کا مستقبل نیٹو کے مقابل ایک فوجی اتحاد بننے سے زیادہ متبادل اقتصادی اور مالیاتی نیٹ ورک تشکیل دینے میں ہے۔ نیو ڈیولپمنٹ بینک، مقامی کرنسیوں میں تجارت، سرحد پار ادائیگیوں کے نظام، ڈیجیٹل مالیاتی انفراسٹرکچر اور توانائی و خوراک کے شعبوں میں تعاون اس سمت میں زیادہ حقیقت پسندانہ اقدامات ہیں۔ اگر رکن ممالک ان شعبوں میں عملی پیش رفت کرتے ہیں تو برکس عالمی مالیاتی نظام میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھا سکتا ہے۔تاہم اس راستے میں اعتماد کا مسئلہ بھی موجود ہے۔ مختلف سیاسی نظام، معاشی ترجیحات اور باہمی علاقائی تنازعات کے باعث تمام ارکان کیلئے ایک مشترکہ مالیاتی نظام پر اتفاق آسان نہیں۔ کسی بھی نئی ادائیگی کے نظام کو قابلِ اعتماد، محفوظ، شفاف اور وسیع پیمانے پر قابلِ استعمال بنانا ہوگا ۔ صرف سیاسی اتفاقِ رائے کافی نہیں ہوگا؛ اس کیلئے مرکزی بینکوں، مالیاتی اداروں اور نجی شعبے کے درمیان عملی تعاون بھی ضروری ہوگا ۔ پاکستان کیلئے بھی یہ پیش رفت اہم ہے۔ پاکستان کو برکس کے ساتھ اپنے تعلقات کو محض جغرافیائی یا سیاسی وابستگی کے بجائے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ٹیکنالوجی اور علاقائی رابطوں کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ برکس کے وسیع ہوتے اقتصادی نیٹ ورک میں پاکستان کیلئے تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں، لیکن ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے ملکی معیشت، برآمدات، مالیاتی نظام اور صنعتی صلاحیت کو بھی مضبوط بنانا ہوگا۔




تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں