بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 24.3°C
Tuesday, 22 September 2026 | پاکستان: 12 ر بیع الثانی 1448

مسلم دنیا کو صرف مادی طاقت نہیں، ذہنی سرمایہ کاری بھی ضروری

Tuesday, 22 September, 2026

دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف دولت، قدرتی وسائل، بلند و بالا عمارتوں یا عسکری طاقت سے عظیم نہیں بنتیں۔ اصل طاقت ان ذہنوں میں پوشیدہ ہوتی ہے جو نئے خیالات پیدا کرتے ہیں، مسائل کے نئے حل تلاش کرتے ہیں اور آنیوالی نسلوں کیلئے علم کے نئے دروازے کھولتے ہیں۔ کسی بھی تہذیب کا حقیقی عروج اس کی جامعات، کتب خانوں، تحقیقی مراکز، تجربہ گاہوں اور فکری ماحول سے پہچانا جاتا ہے۔مسلم دنیا میں صلاحیت کی کبھی کمی نہیں رہی۔ اسلامی تاریخ کا سنہری دور اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ جب علم کو تہذیبی ترجیح بنایا جائے تو ایک معاشرہ دنیا کی فکری سمت تبدیل کر سکتا ہے۔ آج بھی پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، مصر، ملائیشیا، انڈونیشیا اور دیگر مسلم ممالک میں سائنس دان، انجینئر، ڈاکٹر، ماہرینِ تعلیم، ماہرینِ معاشیات، ادیب، محقق اور دانش ور موجود ہیں۔ مسئلہ ذہین افراد کی کمی نہیں، بلکہ ان ذہنوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے والے موثر اور مستقل نظام کی کمی ہے۔اگراسلامی ممالک نے اپنے سائنس دانوں، محققین، دانشوروں اور اہلِ قلم کی سرپرستی، پذیرائی اور باہمی تعاون کیلئے کئی دہائیاں پہلے ایک مضبوط عالمی پلیٹ فارم قائم کیا ہوتا تو شاید آج مسلم دنیا علم، تحقیق اور اختراع کے میدان میں ایک مختلف مقام رکھتی۔ ہم نے اپنے وسائل کو اکثر عمارتوں، منصوبوں اور مادی طاقت میں تقسیم کیا، مگر انسانی ذہانت کو وہ اجتماعی ترجیح نہ دے سکے جس کی وہ مستحق تھی۔آج دنیا مصنوعی ذہانت، حیاتیاتی ٹیکنالوجی، روبوٹکس، خلائی تحقیق، جدید طب، قابلِ تجدید توانائی اور جدید انجینئرنگ کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ جو ممالک تحقیق اور اختراع میں مسلسل سرمایہ کاری کر رہے ہیں، وہ مستقبل کی معیشت، صنعت اور ٹیکنالوجی کی سمت متعین کر رہے ہیں۔اسکے برعکس جو معاشرے دوسروں کے پیدا کردہ علم کے محض صارف بن جاتے ہیں، ان کا انحصار بھی بڑھتا جاتا ہے۔یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مسلم دنیا اپنی منتشر علمی قوت کو ایک مشترکہ طاقت میں تبدیل نہیں کر سکتی؟تصور کیجیے، پاکستان کا ایک سائنسدان پانی کے مسئلے پر تحقیق کر رہا ہو، ترکیہ کا ایک انجینئر توانائی کے نئے ذرائع پر کام کر رہا ہو، سعودی عرب کا ایک طبی محقق کسی بیماری کے علاج کی تلاش میں ہو،انڈونیشیا کا ماہرِ تعلیم تعلیمی اصلاحات پر تحقیق کر رہا ہو اور ملائیشیا کا ٹیکنالوجی ماہر مصنوعی ذہانت کے نئے استعمالات تلاش کر رہا ہو۔ اگر ان تمام ذہنوں کو ایک مربوط علمی نیٹ ورک فراہم کر دیا جائے تو انفرادی کوششیں اجتماعی طاقت میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔اسی مقصد کیلئے اسلامی ممالک کو ایک عالمی تنظیم برائے اسلامی سائنس، ٹیکنالوجی اور علمی امتیاز کے قیام پر غور کرنا چاہیے۔ اس کا مقصد کوئی نیا نمائشی ادارہ بنانا نہیں بلکہ موجودہ جامعات، تحقیقی مراکز اور باصلاحیت افراد کو ایک مشترکہ نظام میں جوڑنا ہونا چاہیے۔اس اقدام کا آغاز ایک عالمی وزارتی اور علمی اجلاس سے کیا جا سکتا ہے، جہاں شریک ممالک ایک بنیادی منشور، انتظامی ڈھانچے اور مالیاتی نظام پر اتفاق کریں۔ تنظیم کی بنیاد سیاسی وابستگی کے بجائے علمی میرٹ، شفافیت اور تحقیق کے معیار پر ہونی چاہیے۔ ایک آزاد کونسل قائم کی جائے جس میں مختلف مسلم ممالک کے ممتاز سائنسدان، محققین، ماہرینِ تعلیم اور دانش ور شامل ہوں۔ ارکان کا انتخاب شفاف طریقے سے ہو اور ان کی مدتِ رکنیت بھی متعین ہو ۔ اس کے بعد ایک مشترکہ ریسرچ اینڈ انوویشن فنڈ قائم کیا جائے۔ ہر ملک اپنی معاشی استعداد کے مطابق اس میں حصہ ڈالے جبکہ تحقیقی گرانٹس مسابقتی اور شفاف طریقے سے دی جائیں۔ ترجیح ایسے منصوبوں کو حاصل ہو جن میں مختلف ممالک کے محققین مل کر کام کریں۔ پانی، خوراک، صحت، موسمیاتی تبدیلی، زراعت، مصنوعی ذہانت، توانائی اور تعلیم جیسے مسائل کو اولین ترجیحات میں شامل کیا جا سکتا ہے۔موجودہ جامعات اور تحقیقی مراکز کو ہی مراکزِ امتیاز کے طور پر ترقی دی جائے تاکہ نئے اور مہنگے بیوروکریٹک ادارے وجود میں نہ آئیں۔ایک مرکز مصنوعی ذہانت، دوسرا طب ، تیسرا پانی اور زراعت، چوتھا توانائی اور پانچواں تعلیم و سماجی پالیسی میں تخصص حاصل کر سکتا ہے۔ محققین کیلئے مشترکہ تجربہ گاہیں، وزٹنگ پروفیسر شپ، ڈاکٹریٹ اسکالرشپس اور پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوشپس شروع کی جائیں ۔ سب سے اہم سرمایہ کاری نوجوانوں میں ہونی چاہیے۔ہرسال باصلاحیت طلبہ کیلئے تحقیقی مقابلے،اختراعی گرانٹس اور بین الاقوامی فیلوشپس کا اہتمام کیا جائے۔ نوجوانوں کو صرف ڈگریاں نہیں بلکہ سوال کرنے، تحقیق کرنے، تجربہ کرنے اور نئی راہیں تلاش کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں ۔یہاں ایک اور اہم پہلو بھی نظرانداز نہیں ہونا چاہیے۔ ترقی صرف سائنس اور ٹیکنالوجی سے ممکن نہیں۔ سماجی علوم اور علومِ انسانی بھی اتنے ہی اہم ہیں ۔ماہرینِ معاشیات، سیاسیات، عمرانیات، نفسیات ، تعلیم ، تاریخ، فلسفہ اور ادب معاشرے کے ان مسائل کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں جو محض ٹیکنالوجی سے حل نہیں ہوتے۔ کوئی بھی تہذیب صرف مشینیں بنا کر عظیم نہیں بنتی؛ اسے انسان بھی بنانا پڑتے ہیں۔علمی خدمات کے اعتراف کیلئے باوقار بین الاقوامی انعامات بھی متعارف کرائے جائیں۔ لیکن یہ اعزازات محض رسمی تقریبات نہ بنیں۔ ان کا معیار حقیقی تحقیق، تخلیق، دریافت اور انسانیت کیلئے قابلِ پیمائش خدمات ہو۔ جب ایک نوجوان دیکھے گا کہ اس کے معاشرے میں سائنسدان، استاد، محقق، ادیب اور مفکر بھی قومی ہیرو سمجھے جاتے ہیں تو اس کے خوابوں کی سمت بھی بدل سکتی ہے ۔اسلامی سنہری دور کا سبق ماضی پر فخر کرنا نہیں بلکہ علم کے اس مزاج کو دوبارہ زندہ کرنا ہے جس میں مختلف تہذیبوں کے علمی ذخیرے سے استفادہ کیا گیا ، کتابوں کا ترجمہ ہوا، علما نے سفر کیے، خیالات کا تبادلہ کیا اور علم کو سرحدوں کا پابند نہیں سمجھا گیا ۔ مسلم دنیا کے پاس وسائل بھی ہیں، نوجوان آبادی بھی، جامعات بھی اور بے پناہ ذہانت بھی۔ ضرورت صرف ان سب کو ایک مربوط وژن کے تحت جمع کرنے کی ہے۔ اگر مادی طاقت کیساتھ فکری اور علمی طاقت بھی پیدا ہو جائے تو مسلم دنیا عالمی سطح پر صرف علم کی صارف نہیں بلکہ علم کی تخلیق کار بھی بن سکتی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم یہ سوال پوچھنا شروع کریں کہ ہم اپنے نوجوانوں کیلئے کتنی عمارتیں بنا رہے ہیں سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ہم ان کے ذہنوں میں کتنے امکانات پیدا کر رہے ہیں۔ قوموں کا مستقبل ان کے خزانے نہیں، ان کے ذہن طے کرتے ہیں ۔ مسلم دنیا کو اب اپنی سب سے بڑی دولتاپنے انسان، اپنے علم اور اپنے خیالات میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی کیونکہ حقیقی طاقت صرف وہ نہیں جو سرحدوں کی حفاظت کرے؛ حقیقی طاقت وہ بھی ہے جو آنیوالے کل کی تعمیر کرے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *