بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 23°C
Tuesday, 22 September 2026 | پاکستان: 11 ر بیع الثانی 1448

کرپشن کے شکنجے سے آزادی ہی پائیدار معاشی ترقی کی بنیاد ہے

Tuesday, 22 September, 2026

کرپشن بلا شبہ ایک فعلِ بد، سماجی و معاشرتی برائی اور آئینی و قانونی طور پر جرم کے زمرے میں شمار ہوتی ہے کرپشن کے معنی عموما رشوت کے لین دین تک محدود سمجھے جاتے ہیں حالانکہ اس کے مفہوم اور دائر کار بہت وسیع ہیں۔ کرپشن میں بد دیانتی بدعنوانی غیر قانونی برتا، فراڈ، جعل سازی، اختیارات کا ناجائز استعمال اور بالخصوص ان افراد کی جانب سے طاقت و اختیار کا غلط استعمال شامل ہے جنہیں ریاست اور عوام کی خدمت کیلئے اختیارات تفویض کئے جاتے ہیں کسی بھی ملک و قوم کی تباہی میں کرپشن کا بنیادی کردار ہوتا ہے جب ذاتی مفادات ملک و قوم کے مفادات پر مقدم ہو جائیں تو تباہی یقینی ہو جاتی ہے اسی لئے کرپشن کو ام الخبائث بھی کہا جا سکتا ہے کیونکہ بے شمار برائیاں اس کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں کرپشن اعلیٰ اقدار، ترقی اور خوشحالی کی دشمن ہے جو معاشرے کو دیمک کی طرح اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے چاہے یہ کسی بھی شکل میں ہو جس معاشرے میں کرپشن جتنی زیادہ ہو وہ معاشرہ اتنی ہی تیزی سے زوال و بربادی کی طرف بڑھتا ہے حکومت کی جانب سے کرپشن لوٹ مار اور بدعنوانی کے خاتمے کیلئے اعلانات اور اقدامات کے باوجود ملک میں بد عنوانیوں بے ضابطگیوں اختیارات کے ناجائز استعمال اور قومی وسائل کے ضیاع کا سلسلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نظام میں موجود خرابیاں طاقتور طبقوں کے مفادات پر موثر قدغن لگانے کی پوزیشن میں نہیں یہی وجہ ہے کہ طاقتور افراد یا سرکاری اداروں سے جڑے بعض با اثر گروہ کرپشن کی خطرناک شکل اختیار کر چکے ہیں پاکستان بار بار عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لینے کے باوجود اپنے بنیادی معاشی مسائل پر مستقل قابو نہیں پا سکا عوام معیارِ زندگی کے کئی اہم اشاریوں میں ہمسایہ ممالک سے پیچھے رہ گئے ہیں کرپشن کی لعنت جمہوریت کو دھیرے دھیرے کمزور کرنے کے علاوہ غربت دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور سماجی برائیوں میں بھی اضافہ کر رہی ہے شاید ہی کوئی ریاستی ادارہ یا سرکاری محکمہ ایسا ہو جہاں بدعنوانی کے امکانات اور شکایات موجود نہ ہوں مختلف عالمی اداروں کی رپورٹس بھی وقتا فوقتا ان عوامل کی نشاندہی کرتی رہی ہیں جن کے ذریعے کرپشن اور قومی وسائل کے ضیاع کو تقویت ملتی ہے ۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اختیارات رکھنے والے بعض افراد کے مفادات بھی انہی نظامی خامیوں سے وابستہ ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کرپشن کیخلاف کارروائی کا عمل اکثر محدود ہو کر رہ جاتا ہے یہ سلسلہ حکومتی نظام میں اتنی تقویت پکڑ چکا ہے کہ اب اس پر قابو پانا جوئے شیر لانے کے مترادف دکھائی دیتا ہے انتہائی افسوس ناک امر یہ ہے کہ ملک میں بعض اہم معاشی و مالیاتی پالیسیاں طاقتور طبقوں کے مفاد میں یا ان کے دبا کے تحت تشکیل پاتی رہی ہیں خواہ اس کیلئے قانون سازی کرنا پڑے یا قوانین میں ایسی گنجائش پیدا کرنا پڑے جس سے مخصوص طبقات کو فائدہ پہنچ سکے ان نقصانات کا بوجھ بالآخر عوام پر بالواسطہ ٹیکسوں کی صورت میں ڈال دیا جاتا ہے ترقیاتی اخراجات اور انسانی وسائل کی ترقی کیلئے مطلوبہ وسائل محدود رہ جاتے ہیں جبکہ ملکی و بیرونی قرضوں پر انحصار بڑھتا جاتا ہے طاقتور طبقوں ٹیکس چوری کرنیوالوں قومی دولت لوٹنے والوں بینکوں سے غیر معمولی طریقوں سے قرضے معاف کرانیوالوں اور ناجائز ذرائع سے حاصل کردہ دولت سے ملک کے اندر اثاثے بنانے یا بیرونِ ملک منتقل کرنیوالوں کیخلاف مرثر اور بلاامتیاز کارروائی ناگزیر ہے قومی دولت کسی فرد یا طبقے کی جاگیر نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے۔ اس امانت میں خیانت دراصل پوری قوم کے مستقبل پر ڈاکا ہے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 6فیصد حصہ اشرافیہ کو دی جانے والی مختلف مراعات پر صرف ہونے کا اندازہ ہے جو تقریبا ساڑھے 17 ارب ڈالر کے لگ بھگ بنتا ہے کاروباری طبقے کو دی جانے والی مراعات کا حجم بھی اربوں ڈالر میں ہے ایک فیصد امیر ترین افراد ملک کی مجموعی آمدنی کے تقریبا 9 فیصد کے مالک ہیں، جبکہ جاگیردار طبقہ، جو آبادی کا تقریبا 1.1 فیصد بتایا جاتا ہے قابلِ کاشت رقبے کے ایک بڑے حصے پر قابض ہے۔ یہ اعداد و شمار اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان میں وسائل کی تقسیم اور مواقع کی فراہمی میں واضح عدم توازن موجود ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں عملا دو طبقات کی ریاستیں موجود ہیں ایک طرف متوسط، غریب اور پسماندہ طبقات ہیں جو بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف وہ طاقتور طبقہ ہے جس کا نہ صرف وسائل پر اثر و رسوخ ہے بلکہ اقتدار اور اختیار کی مختلف شکلیں بھی اسی کے گرد گھومتی ہیں یہی عدم مساوات عوام میں احساسِ محرومی کو جنم دیتی ہے غریب عوام کو قربانی کا بکرا سمجھ کر آئے روز نئے ٹیکسوں مہنگائی اور بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا کرنا پڑے جبکہ ایک محدود طبقہ ہر طرح کی سہولیات اور آسائشوں کے ساتھ زندگی بسر کرے تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا احساسِ محرومی کسی بھی معاشرے کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے ۔
(……جاری ہے)

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *