اطلاعات کے مطابق سرکاری ملکیتی اداروںکی مالی حالت تیزی سے بگڑ رہی ہے، کیونکہ گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران ان اداروں سے حاصل ہونیوالی خالص مالیاتی آمدنی گر کر اپنی سابقہ سطح کے دسویں حصے پر آ گئی ہے۔یہ صورتحال تشویشناک ہے ، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وزیرِ خزانہ سرکاری اداروں کے نقصانات کو کم کرنے کے حوالے سے بہت زیادہ زور دے رہے ہیں۔اس کی چند وجوہات ہیں؛مثال کے طور پر تیل کی قیمتوں کی تاریخی حد تک کم سطح نے تیل اور گیس کی سپلائی چین میں منافع کو دبا کا شکار رکھا ۔ اب جبکہ قیمتوں میں بہتری آئی ہے،تو بڑھتا ہوا گردشی قرض ان فوائد کو ختم کرنے کا خطرہ پیدا کر رہا ہے۔سرکاری اداروں میں کارکردگی اور استعدادِ کار کا حصول اب بھی ایک مشکل امرہے ۔یہ ادارے بدستور محدود مالی وسائل کو ضائع کر رہے ہیں اور اس بوجھ کا حتمی خمیازہ بھاری پٹرولیم لیوی جیسے اقدامات کے ذریعے ٹیکس دہندگان کو بھگتنا پڑتا ہے۔اس کا بہترین حل یہ ہے کہ تجارتی سرگرمیوں میں حکومت کی شمولیت یا عمل دخل کو کم کیا جائے۔گزشتہ تین دہائیوں کے دوران تمام حکومتوں کے طرزِ عمل کو دیکھتے ہوئے یہ بات واضح ہے کہ کاروبار چلانا حکومت کا کام نہیں ہونا چاہیے۔نتیجتاًحتمی حل نجکاری کے عمل کو تیز کرنے میں مضمر ہے۔تقریبا دو دہائیوں کے جمود کے بعد حکومت کی پہلی کامیابی پی آئی اے کی نجکاری تھی۔ناقدین یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کے نقصانات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور یہ بات درست بھی ہو سکتی ہے۔تاہم اگر پی آئی اے کے امور حکومت کے کنٹرول میں رہتے تو تیل کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں ممکنہ طور پر اس سے بھی زیادہ سنگین آپریشنل نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا۔اب چونکہ انتظام نجی ہاتھوں میں ہے حکومت ان ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہو چکی ہے۔مزید نقصانات کو کم کرنے کیلئے حکومت کو اپنے نجکاری پروگرام میں تیزی لانی چاہیے۔خوش قسمتی سے،پی آئی اے کی نجکاری کی کامیابی اور عدالتی نظام میں حالیہ تبدیلیوں کے بعد، سرکاری اثاثوں کی خریداری میں سرمایہ کاروں کا اعتمادخاص طور پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کابحال ہو رہا ہے۔انہیں بالآخر مساوی مواقع میسر آ رہے ہیں،اور کوئی بھی عدالت اس صورتحال کو نہیں دہرائے گی جودوہزارکی دہائی کے اوائل میں پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری کی کوششوں کے دوران پیش آئی تھی۔غیر ملکی دلچسپی کے معاملات میں بدانتظامی کی ماضی میں دیگر مثالیں بھی موجود ہیں، جیسے کہ ریکوڈک اور رینٹل پاور پلانٹ کے مقدمات ۔ تاہم آج غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ملنے والی قانونی مشاورت نجکاری کے عمل میں شرکت کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔لین دین مکمل ہونے کے بعد عدالتی یا ریاستی مداخلت کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے۔اس تبدیلی کا اندازہ فیسکوجو نجکاری کیلئے پیش کی جانیوالی پہلی بجلی کی تقسیم کار کمپنی ہے کی نجکاری میں کئی غیر ملکی کمپنیوں کی شرکت سے لگایا جا سکتا ہے۔اعتماد کی بحالی کیلئے وقت اور مثالوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اگرچہ پی آئی اے کے معاملے میں کوئی غیر ملکی شرکت نہیں تھی لیکن فیسکو ایک ایسی کامیابی کی کہانی بن رہی ہے جو دوسروں کو بھی اس عمل میں شامل ہونے کی ترغیب دیتی ہے۔بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری میں تیزی لانا انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ فیسکو کے بعد فہرست میں اگلی دو کمپنیاں آئیسکواور گیپکو ہیں ۔ نجکاری کمیشن کو طے شدہ ٹائم لائنز کی پاسداری کرنی چاہیے اور تاخیر سے گریز کرنا چاہیے ۔ جیسا کہ پی آئی اے کے معاملے میں ہوا تھا۔نجکاری جتنی جلد ہوگی،سرکاری ملکیتی اداروں سے ہونیوالے نقصانات اتنی ہی جلد کم ہوں گے۔ایک بار جب ان کمپنیوں کی کارکردگی بہتر ہو جائے گی،تو وہ حکومت کو ٹیکس ادا کرنے اور نجی شعبے میں ملازمتیں پیدا کرنے کے قابل ہو سکتی ہیں۔مزید برآں،نجی کاروبار کیلئے نئے شعبے کھل سکتے ہیں،اور ان شعبوں میں کارکردگی میں اضافے کے مثبت اثرات پوری معیشت پر مرتب ہوں گے۔لہٰذااصل حل توانائی کے شعبے میں ڈی ریگولیشن اور نجکاری کے عمل کو تیز کرنے میں مضمر ہے۔جب بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری ہو جائے گی اور مارکیٹ نجی شعبے کیلئے کھول دی جائے گی تو صنعتی توسیع کا عمل شروع ہو جائے گا۔بالکل اسی طرح جیسے 2000 کی دہائی کے اوائل میں ٹیلی کام سیکٹر کی ڈی ریگولیشن اور پی ٹی سی ایل کی نجکاری کے بعد ترقی دیکھنے میں آئی تھی۔آج ٹیلی کام کمپنیاں ٹیکس کی ادائیگی اور روزگار کی فراہمی میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں ۔ اسی طرح کی تبدیلی بینکاری کے شعبے میں بھی آئی،جو اب ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنیوالا شعبہ بن چکا ہے۔اگلا بڑا انقلاب توانائی کے شعبے میں آسکتا ہے۔اس کیلئے حکومت کو بس اپنی مداخلت یا عمل دخل کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔
اسٹریٹجک استحکام
تشدد سے بھرپور اس دنیا میں،جہاں جغرافیائی سیاست کے پرانے اصول تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں،ریاستوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ امورِ مملکت چلانے میں پختگی اور عقلی رویے کا مظاہرہ کریں۔یہ بات جنوبی ایشیا جیسے پرآشوب خطوں کیلئے خاص طور پر درست ہے ، جہاں دہائیوں سے کشیدگی پائی جاتی ہے اور جہاں جوہری ہتھیار بھی صورتحال کا ایک اہم جزو ہیں ۔حال ہی میں اسلام آباد میں ایک ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے،نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے مشیر اور اسٹریٹجک پلانز ڈویژن کے سابق سربراہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل مظہر جمیل نے جنوبی ایشیا میں سفارتکاری کیلئے سکڑتی ہوئی گنجائش کی نشاندہی کی۔ اسلحہ کنٹرول کے نظاموں کا کمزور پڑنا اور سخت طاقت پر انحصار”جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک استحکام کیلئے نئے چیلنجز ” پیدا کر رہا ہے۔بھارت کی”فوجی مہم جوئی اور بالادستی کے عزائم”پر تنقید کرتے ہوئے،مذکورہ عہدیدار نے ایک اہم نکتہ اٹھایا:دو جوہری ریاستوں کے درمیان جنگ کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ یہ بات کسی بھی سمجھدار فرد پر واضح ہونی چاہیے۔تاہم،بھارتی فوج کے اعلیٰ حکام اور سیاسی اشرافیہ خاص طور پر گزشتہ سال کی کشیدگی کے بعد سے پاکستان کیخلاف مسلسل جنگجوئی پر مبنی اور اشتعال انگیز بیانات دے رہے ہیں ۔ مئی میں،بھارتی فوج کے سربراہ جو اب ریٹائر ہو چکے ہیں نے پاکستان کو ناقابلِ قبول دھمکیاں دیں ، جنہیں آئی ایس پی آر نے”تکبرانہ” قرار دیا تھا۔بھارتی سیاسی رہنما بھی اسی طرح کے غیر متوازن اور اشتعال انگیز تبصرے کرتے رہے ہیں۔اگرچہ ایسی زبان شاید کچھ ووٹ حاصل کرنے اور بھارت کے اندر موجود انتہا پسند حلقوں کو خوش کرنے کا باعث بن سکتی ہے لیکن یہ جنوبی ایشیا میں امن کی کوششوں کو دیرپا نقصان پہنچاتی ہے۔خاص طور پر ایسے وقت میں جب دونوں ممالک حال ہی میں ایک ایسی خطرناک کشیدگی سے نکلے ہیں جو مکمل جنگ میں تبدیل ہو سکتی تھی ۔ جوہری ہتھیاروں کی حامل ہمسایہ ریاستوں کے درمیان جنگ کوئی قابلِ قبول راستہ نہیں ہے ۔ پاکستانی حکام اس بات کا اعادہ کر چکے ہیںاور بھارت میں ذمہ دار فوجی اور سول حلقوں کی جانب سے بھی اسی طرح کے عقلی رویے کی ضرورت ہے۔اس وقت دونوں ممالک کے درمیان شدید باہمی بداعتمادی پائی جاتی ہے۔اس کے باوجودبرصغیر میں کسی بڑے سانحے سے بچنے کیلئے دونوں فریقین اور خاص طور پر بھارت کو،مذاکراتی عمل دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت ہے۔اس کا آغاز چھوٹے اقدامات سے کیا جا سکتا ہے جیسے کہ دونوں اطراف کے فوجی حکام کے درمیان باقاعدہ رابطے تاکہ غلط فہمیوں کو سنگین صورتحال اختیار کرنے سے روکا جا سکے ۔ اس کے ساتھ ساتھ،سفارتی رابطوں اورٹریک ٹوکوششوں کو بھی بحال کرنے کی ضرورت ہے ۔ اگرچہ فوری مستقبل میں امن کی توقع کرنا مشکل ہے لیکن ایسے اقدامات کم از کم تنازع کے انتظام میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں اور ساتھ ہی مواصلاتی رابطوں کو بھی بحال رکھ سکتے ہیںلیکن شاید سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ بھارتی حکام پاکستان کیخلاف اشتعال انگیز بیان بازی بند کریں۔یہ رویہ ایسے وقت میں اور بھی زیادہ غیر ذمہ دارانہ ہے جب جنوبی ایشیا سے زیادہ دور نہیں جنگ کی آگ بھڑک رہی ہے۔امید ہے کہ تحمل اور مسلسل بات چیت کے ذریعے پاکستان اور بھارت کے درمیان باہمی اعتماد اور امن قائم ہو سکے گا۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں