غزہ کی 6 سالہ ہند رجب کا خاندان غزہ سے نکلنے کی کوشش کے دوران اسرائیلی درندوں کی گولیوں کا شکار ہو گیا رجب کا امتحان ابھی باقی تھا۔ اس نے ہلال احمر سے کال ملائی دو گھنٹے بعد ہلال احمر کے رضا کار ننھی پری کی مدد کو پہنچے تو انہیں بھی اسرائیلی درندوں نے موت کی نیند سلا دیاجبکہ رجب زندگی و موت کی کشمکش میں آخر کار زندگی کی بازی ہار گئی۔ کئی دن بعد ریسیکو ٹیم کے ذریعے خبر دنیا تک پہنچی تو سوائے اقوام متحدہ کے سبھی کانپ اٹھے، نامور فلمی ستاروں کے ذریعے دنیا بھی آزردہ ہوئی اور امریکہ میں بھی کہرام مچا۔ مگر اقوام متحدہ کا پتھر دل نہ پسیجا۔ ایک بار پھر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 190 ممالک کے سربراہان جمع ہونے کو ہیں جس میں اسرائیلی درندگی پر ماتم ہو گا، امریکی سفاکیت پر بے جان قرارداد اور بھارتی بربریت پر روایتی مذمت۔ غزہ کے شہیدوں کا نوحہ پڑا جائے گا اور میناب کی بچیوں کا بھی۔ لبنان، شام عراق، فلسطین اور کشمیر میں مسلمانوں کے قاتل آرام دہ نشستوں پر بیٹھ اقوام متحدہ اور مسلم دنیا کی بے بسی پر دل ہی دل میں مسکرائیں گے اور پھر عزم نو کے ساتھ درندگی و بربریت کی نئی تاریخ رقم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی پرشکوہ عمارت سے پرعزم نکلیں گے بعض طاقتور ممالک مذمت کی حد تک مظلوموں کے ساتھ کہ ان ممالک کی اسلحہ انڈسٹری کی رونقیں اسی جنگ و جدل سے ہی تو آباد اور خزانے بھرے۔ مسلم بالخصوص امیر عرب جدید ترین اسلحہ تو خرید سکتے ہیں مگر حمیت اور جرات عطائے خداوندی۔ غزہ میں تاریخ انسانی کی بدترین درندگی ہوئی مگر کیا ہوا ۔؟چند ماہ پہلے مناب میں 150 بچیاں شہید کر دی گئیں مگر عالمی ضمیر نہ نہ جاگا۔ کشمیر میں ایک لاکھ سے زائد شہید ہوئے اور 25 ہزار سے زائد جوان معذور مگر مظلوموں کو سوائے مذمت لے اور کیا ملا۔!؟۔!۔ بھارت میں اقلیتوں کا قتل عام ہوتا دنیا دیکھتی رہی مگر افسوس کے چند کلمات ادا نہ ہوئے۔ اور لبنان و فلسطین میں اسرائیلی بربریت، عراق کے حصے بخرے ہوئے اور لیبیا کے بھی، سوڈان میں عالمی استعماری نے آگ لگا رکھی ہے اور صومالیہ کی عوام بھی ملیشاز کے رحم و کرم پر ایک حصہ پر عملا صیہونیوں کا قبضہ مگر اقوام متحدہ مردہ۔ یمن میں خانہ جنگی کی آگ اور اب باغیوں سے اسرائیل و امریکہ و بھارت تک کو امان ہاں مگر اقوام متحدہ کے فعال ممبر سعودی عرب پر حملے مگر اقوام متحدہ خاموش۔ یہ دنیا طاقت وروں کی تھی اور اب دنیا بھی وہی چلن جو دور ظلمات میں تھا۔ مطلب زمانہ بدلا مگر انسان نہ بدلے۔ جدید اور کہنے کو مہذب دنیا کے رسم و رواج وہی سفاکی، بربریت اور خون۔ دور قدیم کے لوگ بھء طاقتوروں کے رحم و کرم پر تھے تو دور جدید کے باسی بھی۔ پر ہاں مگر قتل عام کے طریق بدل گئے اور مقتولوں کی تعداد۔اقوام متحدہ کے سائے میں اب قدرتی وسائل بھی کمزور ممالک کیلئے وحشت کہ کہیں وہ خانہ جنگی کی نوید لاتے ہیں تو کہیں براہ راست غلام بنا لیا جاتا ہے۔ لیبیا، عراق، سوڈان، وینزویلا، گرین لینڈ، صومالیہ سب میں کشت و خون اور وسائل پر طاقتوروں کا قبضہ۔ اقوام متحدہ کی ناک کے نیچے وینزویلا کے 65 ارب بیرل تیل کے ذخائر کے حقوق بزور طاقت امریکی کمپنیوں نارتھ امریکن بلیو انرجی اور امریکی محکمہ دفاع کے نام منتقل ہوئے۔ ہنڈرس کے صدر کو 2024 میں اسی اقوام متحدہ کی کھلی آنکھوں کے سامنے امریکہ منگوا کر مقدمہ میں پھنسایا گیا۔بے بس، لاچار و مجبور اقوام متحدہ ایران پر جارحیت پر مذمتی قرارداد تک منظور کرنے سے قاصر مگر اسرائیل پر جارحیت کے جواب میں اقدام پر آقوام متحدہ آگ بگولا۔ یہ حقیقت اب طشت از بام ہو چکی کہ اقوام متحدہ اپنا وقار اور نفاذ کھو چکی یہی وجہ کہ عالمی جارحیت سے اور طاقتور کا چارہ بننے سے بچنے کے لیے نئے اتحاد وجود میں آنے لگے ہیں۔ نیٹو انگڑائی لے رہی ہے تو کینیڈا کی یورپی یونین میں بطور مبصر شمولیت نے امریکی صدر کو سیخ پا کر دیا ہے۔ مکہ معائدہ پر اسرائیل اور بھارت میں صف ماتم اور سازشوں کے جال بننے شروع ہیں جس کی مثال یمن کے حوثی اور پاکستان میں ٹی ٹی پی اوربی ایل اے خلیجی ممالک کی چین سے بڑھتی قربتیں انہیں پسند ہیں اور نہ پاک ترکیہ اسٹریٹیجک تعاون۔سچ تو یہ کہ اقوام متحدہ مطالبات کی پیشی کا وہ فورم کہ جہاں مظلوم کی داد رسی ہے نہ ظالم کے خلاف قہر۔ کمزور ممالک و مظلوم اقوام چیختی چلاتی رہ جاتی ہیں اقوام متحدہ کے چارٹرز کی دہائی دیتی رہ جاتی ہیں مگر شنوائی نہیں ہوتی۔ ہاں مگر ظالم کے خلاف پوری دنیا یکجا بھی ہو جائے تو اقوام متحدہ میں اٹھا ایک ہاتھ سب بے اثر بنا دیتا ہے۔کیا وجہ کہ اسرائیلی بربریت کو چین، روس جیسے طاقتور ممالک بھی لگام نہ دے سکے غزہ میں بربریت ہوتی رہی ۔ معصوم جانوں کا قتل عام اور معصوم بچوں کا۔انسانیت سسکتی رہی، تڑپتی رہی مرتی رہی مگر روس ہو یا چین رسمی مذمت سے آگے نہ بڑھ سکے۔ اس لیے مسلم دنیا اور عربوں کو بالخصوص سمجھنا ہو گا کہ عسکری قوت کے بغیر معاشی طاقت کچھ نہیں عزت کی زندگی ہے اور نہ باوقار موت۔ اقوام عالم ہو، روس ہو یا چین قرارداد پیش کر سکتے ہیں یا ویٹو۔ مگر بزور طاقت دنیا کے کسی خطے میں ظلم کے خلاف روکنے کی روایت ہے اور نہ قانون۔ سو مسلم دنیا کو بے بس اقوام متحدہ کی عالی شان عمارت سے عبرت حاصل کرنا ہو گی کہ جس کے چہرے پر لاکھوں بے گناہوں کے خون کے چھینٹے۔ ہند رجب کے بھی اور میناب کی 150 بچیوں کے بھی۔





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں