بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 22.1°C
Friday, 25 September 2026 | پاکستان: 14 ر بیع الثانی 1448

حکمران اورجج میرٹ سے نہیں رشتہ داریوں بنتے آ رہے ہیں

Friday, 25 September, 2026

بابا کرمو نے کہا اسی ماہ اسلام اباد کی ایک بلیک ہول کی میٹنگ میں جانے کا اتفاق ہوا۔ جس میں سابق سپریم کورٹ کے جج صاحب اور سابق وفاقی وزیر صاحبہ بھی موجود تھیں۔ اس موقع پر صائمہ بتول صاحبہ نے ان سے سوالات کر کے ان کے چہروں کی رنگت کو بدل دیا۔ ماحول کو گرما دیا۔ اگر کہا جائے کہ سارا میلہ محترمہ نے لوٹ لیا تو یہ غلط نہ ہو گا۔ بابا کرمو نے محترمہ کو ڈھیروں دعائیں دیں۔بابا کرمو نے کہا کہ جج کا بیٹا جج بن جاتا ہے جج سسر کا داماد جج بن جاتا ہے۔ جج کا رشتہ دار جج بن جاتا ہے۔یہ سب شو کرتا ہے اس ملک میں یہ ہر شعبہ ہائے زندگی میں میرٹ کا نام و نشاں نہیں ہے۔ حکمرانوں کے بچے حکمران، ججز کے بچے جج جیسے کوئی بزنس مین ہو تو اس کا بزنس فیملی میں نسل در نسل منتقل ہوتا رہتا ہے، ایسا ہی حال ہماری جوڈیشری اور حکمرانوں کا ہے۔ باپ جج، بیٹا جج کبھی سسر جج اور پھر داماد جج یہ سلسلہ یوں ہی چلتا ا رہا ہے۔ لگتا یہی ہے یہاں اقتدار میں آنیوالے نسل در نسل ایسے ہی حکمران بنتے آرہے ہیں ۔ایسا ہی حال جوڈیشری کا بھی ہے۔ بابا کرمو سے پوچھا ایسے ججز کے نام بتا جن کے باپ جج پھر بیٹا جج یا سسر جج اور داماد جج رہ چکے ہوں ۔ کہا یہ اپ مجھ سے زیادہ بہتر بتاسکتے ہیں کہا جیسے جسٹس اطہر من اللہ صاحب کے سسر جسٹس صفدر شاہ صاحب تھے۔ اطہر من اللہ نے استعفوں کی ہیٹرک کر لی ہے۔پہلا استعفیٰ کسٹم سروس میں دیا، پھر جنرل مشرف کے دور میں صوبائی وزیر بنے اور استعفیٰ دیا اور اب سپریم کورٹ کے جج کے استعفیٰ دیا اور یوں ہیٹرک کرنے میں کامیاب ہوئے ۔ پہلے دو استعفوں میں انہیں پنشن نہیں ملی لیکن سپریم کورٹ کے استعفے میں نہ صرف پنشن ملی بلکہ مراعات بھی مل رہی ہیں۔اس لیے اب اٹکھیلیاں کرنے عوامی فورم میں چلے آتے ہیں۔اسی طرح باپ بیٹا داماد جج بنتے رہے۔ ایسے ہی اب یہ رشتہ داریوں پر حکمران بن رہے ہیں پاکستان کا اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، بلکہ میرٹ کا نہ ہونا ہے۔ جب تک سلیکشن میرٹ پر نہیں ہوگی خواہ ججز کی ہو اسمبلی ممبران کی ہو یا حکمرانوں کی ہو عام آدمی ان عہدوں سے دور ہی رکھا جائے گا۔اطہر من اللہ سے گزارش ہے کہ آپ کے راستے میں پہلے ہی کانٹے بکھرے ہوئے ہیں۔ جب آپ چیف جسٹس ہائی کورٹ تھے۔ آپ کے کہنے پر وکلا کیخلاف 9 فروری 2021 کی سکیورٹی انچارج کی مدعیت میں مقدمہ درج ہوا تھا جس میں 21 وکلا کو نامزد کیا گیا تھا۔ بعد کی عدالتی کارروائی میں ہائی کورٹ نے اسلام آباد بار کے 21 وکلا کیخلاف الگ سے مس کنڈکٹ/ توہین عدالت کارروائی کی تھی اسلام آباد ہائی کورٹ نے 21 وکلاء کے لائسنس معطل کئے ۔جسٹس اطہر من اللہ براہِ راست وکالت سے عدلیہ میں نہیں آئے بلکہ پہلے پاکستان سول سروسز، کسٹمز سے وابستہ ہوئے ، پھر سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے کر وکالت اختیار کی، وکلا کی تحریک میں نمایاں کردار ادا کیا جب افتخار چوہدری بحال ہو کر سب کو شرمندہ کیا جس پر راقم نے ان کی بحالی کے بعد چیف تیرے جانثار شرم سار شرم سار کالم لکھا تو یہ خاموش رہے۔ خاموشی کا صلہ جج کی صورت میں انہیں ملا ۔ کہا جاتا ہے کہ2024 میں لاہور ہائی کورٹ کیلئے سابق ججوں کے چھ بیٹوں کے نامزد ہونے کی خبر موجود ہے، مگر وہ اس وقت نامزد امیدوار تھے، لازما جج نہیں بنے تھے۔ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں کئی ایسے خاندان گزرے ہیں جن کے ایک سے زیادہ افراد نے قانون اور عدلیہ کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دیں بعض خاندانوں میں والد سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے جج رہے اور بعد میں ان کے بیٹے بھی اعلی عدالتوں تک پہنچے۔ بعض صورتوں میں سسر اور داماد دونوں عدالتی منصب پر فائز ہوئے۔ سپریم کورٹ میں باپ اور بیٹے کی تاریخی مثال پاکستان کی سپریم کورٹ کی تاریخ میں جسٹس وحید الدین احمد اور ان کے صاحبز ادے جسٹس وجیہ الدین احمد ایک نمایاں باپ بیٹا جوڑا ہیں۔ جسٹس وحید الدین احمد سپریم کورٹ کے جج رہے، جبکہ انکے صاحبزادے جسٹس وجیہ الدین احمد بھی بعد میں سپریم کورٹ کے جج بنے۔ 2013 میں جسٹس اقبال حمید الرحمن کی سپریم کورٹ میں تقرری کے موقع پر جسٹس وحید الدین احمد بنیاور جسٹس وجیہ الدین احمد کو سپریم کورٹ کی تاریخ کا پہلا باپ بیٹا جج قرار دیا جاتا ہے۔جسٹس حمود الرحمن اورجسٹس اقبال حمید الرحمن دوسرا نمایاں باپ بیٹا جوڑا بنے جسٹس حمود الرحمن اور جسٹس اقبال حمید الرحمن کا ہے۔جسٹس حمود الرحمن پاکستان کے چیف جسٹس رہے۔ ان کے صاحبزادے جسٹس اقبال حمید الرحمن پہلے لاہور ہائی کورٹ اور پھر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے اور بعد ازاں سپریم کورٹ کے جج مقرر ہوئے۔2013 میں ان کی سپریم کورٹ میں تقرری کو بھی باقاعدہ طور پر پاکستان کی عدالتی تاریخ میں دوسرا باپ بیٹا قرار دیا گیا تھا۔یوں سپریم کورٹ کی تاریخ میں کم از کم یہ دو واضح باپ بیٹا جوڑے سامنے آتے ہیں اس میں ایک اور معروف مثال جسٹس نسیم حسن شاہ اور جسٹس آصف سعید کھوسہ کی ہے۔جسٹس نسیم حسن شاہ سپریم کورٹ کے جج اور چیف جسٹس پاکستان رہے جبکہ جسٹس آصف سعید کھوسہ بھی سپریم کورٹ کے جج اور بعد ازاں چیف جسٹس پاکستان بنے۔یہ تعلق باپ اور بیٹے کا نہیں بلکہ سسر اور داماد کا تھا ،جسٹس منصور علی شاہ صاحب جسٹس جواد ایس خواجہ کے داماد تھے۔ اطہر من اللہ جسٹس صفدر شاہ کے داماد تھے، عرفان قادر جو ہائی کورٹ کے جج بنے اور نکالے گئے ۔ جس کی وجہ سے یہ اپنے نام کے ساتھ جج نہیں لکھ سکتے مگر یہ آج بھی نام کے ساتھ سابق جج آف ہائی کورٹ لکھتے ہیں لیکن یہ آجکل سسر کے بل بوتے پر ایوان صدر میں نوکری چمکا رہے ہیں ۔ انہیں کالم لکھ کر بتایا گیا تھا آپ نام کے ساتھ جج نہیں لکھ سکتے مگر انہیں تو یہ نوکری ایوان صدر میں اس وجہ سے ہی ملی ہے کہ یہ ہائی کورٹ کے جج رہے ہیںیعنی جج اگر سسر رہا ہو تو سب کچھ ممکن ہے اور جائز ہے۔ سندھ میں سسر اور داماد کی ایک اور مثال سندھ کی عدالتی تاریخ میں جسٹس مشتاق علی کاظی اور جسٹس آغا رفیق احمد خان کا تعلق بھی قابل ذکر ہے۔سندھ ہائی کورٹ کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق جسٹس آغا رفیق احمد خان، جسٹس مشتاق علی کاظی کے داماد تھے۔ جسٹس آغا رفیق احمد خان سندھ ہائی کورٹ کے جج رہے اور بعد میں وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس بھی بنے۔یہ مثال اس بات کی بھی نشاند ہی کرتی ہے کہ عدالتی خاندانی نسبت صرف سپریم کورٹ تک محدود نہیں رہی بلکہ ہائی کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت تک بھی پھیلی ہوئی ہے ۔لاہور ہائی کورٹ میں باپ اور بیٹے کی مثال جسٹس خلیل الرحمن خان اور جسٹس شکیل الرحمن خان بھی باپ بیٹے کی عدالتی نسبت کی ایک نمایاں مثال ہیں۔ جسٹس خلیل الرحمن خان سپریم کورٹ کے جج اور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہے، جبکہ ان کے صاحبزادے جسٹس شکیل الرحمن خان لاہور ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے.جسٹس علی باقر نجفی کے والد محترم جسٹس باقر نجفی تھے۔ جسٹس سردار طارق محمود کے انکل جسٹس سردار محمد اقبال، جسٹس شائد وحید کے والد جسٹس عبدالوحید، جسٹس منصور علی شاہ کے سسر جسٹس جواد ایس خواجہ، ۔ یہ اس امر کی مثال ہے کہ عدالتی خدمات ایک نسل سے دوسری نسل تک بھی پہنچ سکتی ہیں۔2024 میں لاہور ہائی کورٹ کی نامزدگیاں دسمبر 2024 میں لاہور ہائی کورٹ میں ججوں کی 25 خالی نشستوں کیلئے 44 نام زیرِ غور آئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ان میں سابق ججوں کے چھ بیٹے بھی شامل تھے۔جسٹس منیب اختر کے سسر جج تھے والی فہرست میں شامل کرنا درست نہیں۔ ان کے سسرخالد انور معروف قانون دان اور سابق وفاقی وزیر قانون رہے ہیں، جج نہیں۔ اس لیے یہ مثال قانونی خاندان کی تو ہے، مگر جج سسر اور جج داماد کی نہیں۔کسی جج کے بارے میں کوئی منفی نتیجہ اخذ کرنا مقصود نہیں یے۔ اس کا مقصد صرف پاکستان کی عدالتی تاریخ کو دستاویزی شکل دینا ہے کہ پاکستان میں عدالتی خاندانوں کی موجودگی ایک تاریخی حقیقت ہے۔ کہیں باپ کے بعد بیٹا جج بنا، کہیں سسر اور داماد دونوں اعلیٰ عدالتوں تک پہنچے اور کہیں ایک ہی خاندان کے مختلف افراد قانون کے شعبے میں نمایاں ہوئے۔ مگر انصاف کی اصل طاقت خاندانی نام میں نہیں، آزادانہ فیصلے، قانون کی حکمرانی، آئین کی پاسداری اور عوام کے اعتماد میں ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *