بین الاقوامی مالیاتی فنڈکا پروگرام پوری حکومت کا ایک مشترکہ پروگرام ہے جس میں وفاقی اور صوبائی اداروں کے ساتھ ساتھ پلاننگ کمیشن/وزارتِ منصوبہ بندی بھی شامل ہوتی ہے۔اس بات کا اعادہ ایک ایسے پریس ریلیز میں کیا گیا جو وزیرِ منصوبہ بندی،ترقی و خصوصی اقدامات،احسن اقبال کے اس بیان کے ایک دن بعد جاری ہوا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے وزیرِ اعظم کو خط لکھ کر آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے دوران اپنی شرکت کی درخواست کی ہے کیونکہ”معیشت پر وسیع تر بات چیت، بشمول معاشی نمو،افراطِ زر،غربت اور دیگر امور،ہماری وزارت کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔”اپنے سہ ماہی پروگرام کے جائزوں کے دوران،فنڈ معمول کے مطابق تکنیکی اور پالیسی سطح پر بات چیت کرتا ہے۔جہاں تکنیکی بات چیت میں تمام شعبے،صوبے اور وزارتیں شامل ہوتی ہیں،وہیں پالیسی سطح کی بات چیت میں صرف ان افراد کے نمائندے شامل ہوتے ہیں جو’لیٹر آف انٹینٹ’ پر دستخط کرنے والے دو عہدیداروں وزیرِ خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی انتظامی نگرانی میں کام کرتے ہیں۔نہ تو پریس ریلیز اور نہ ہی احسن اقبال کا بیان اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ آیا پالیسی سطح کے مذاکرات میں وزارتِ منصوبہ بندی کی نمائندگی ہوتی ہے یا نہیں؛یہ وہ مرحلہ ہے جہاں تکنیکی سطح کی بات چیت کے دوران زیرِ بحث آنے والی مدتِ معینہ کی شرائط اور ساختی اصلاحات کی باضابطہ منظوری ان دو عہدیداروں کی جانب سے دی جاتی ہے۔اگر احسن اقبال کا اشارہ پالیسی سطح کے مذاکرات میں نمائندگی کے فقدان کی جانب تھا،تو ان کا خط وزارتِ خزانہ کی جانب سے بجٹ سے قبل پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے اخراجات پر عائد کردہ حدود سے بڑھتی ہوئی مایوسی کی عکاسی کر سکتا ہے۔یہ خط وزارتِ منصوبہ بندی کی جانب سے منظوری اور سال کے دوران وزارتِ خزانہ کی طرف سے اصل مختص کردہ رقم یا ادائیگیوں کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو بھی نمایاں کرتا ہے یہ وہ اعداد و شمار ہیں جو وزارتِ منصوبہ بندی کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیے جاتے ہیں اور ماہانہ بنیادوں پر اپ ڈیٹ ہوتے ہیں۔جب بھی بجٹ خسارہ تشویش کا باعث بنتا ہے،ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔دوسرے لفظوں میں،وزارتِ منصوبہ بندی کے پاس وزارتِ خزانہ کی جانب سے مخصوص ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کی فراہمی میں کمی کو چیلنج کرنے کا اختیار نہیں ہے — ایسی کمی جس کے معاشی ترقی اور روزگار پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔انصاف کی بات تو یہ ہے کہ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے بارہا کہا ہے کہ معاشی استحکام کے حصول کے بعد اب حکومت کی توجہ معاشی ترقی پر مرکوز ہے۔موجودہ سال کے بجٹ میں آئی ایم ایف کی عائد کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے صنعت دوست پالیسیوں بالخصوص برآمدات پر مبنی شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔تاہم،تمام مدات میں جاری اخراجات میں اضافہ ہوا ہے،چاہے وہ خریداری ہو، تنخواہیں ہوں یا پنشن–یہ وہ اخراجات ہیں جنہیں منجمد رکھا جانا چاہیے تھا تاکہ آئی ایم ایف کے ساتھ بہتر پوزیشن حاصل کی جا سکے اور زیادہ جامع معاشی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ٹیکس کے اقدامات،خاص طور پر نفاذ سے متعلق اقدامات،اب تک صرف تین اشیا پر سیلز ٹیکس کی وصولی تک محدود رہے ہیں؛جن میں نمایاں طور پر چینی، سیمنٹ اور اب کھاد شامل ہیں۔یہ ایسا ٹیکس ہے جس کا بوجھ امیروں کی نسبت غریبوں پر زیادہ پڑتا ہے۔اس طرح کی پالیسیوں نے غربت کی انتہائی تشویشناک سطح میں اضافہ کیا ہے۔اس کی وجہ انتہائی سخت مالیاتی اور زری پالیسیوںکو اپنانا،نیز ایسے انتظامی اقدامات ہیں جو یوٹیلیٹی ٹیرف بڑھاتے ہیں اور ادائیگیوں کے توازن کو بہتر بنانے کیلئے درآمدات کو محدود کرتے ہیں۔اب تک،آئی ایم ایف کی توجہ تقریبا مکمل طور پر ان پالیسیوں کے کمزور طبقے پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنے پر مرکوز رہی ہے جس کیلئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے بجٹ مختص کرنے میں اضافہ کیا گیا ہے اور مستحقین کی بڑھتی ہوئی تعداد کیلئے سہ ماہی نقد ادائیگیوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔تشویشناک بات یہ ہے کہ بی آئی ایس پی کیلئے مختص کل رقم،کل جاری اخراجات کے 4 سے 5 فیصد سے زیادہ نہیں ہے،اور نقد ادائیگیوں سے چھ افراد پر مشتمل خاندان کیلئے تین ماہ کے عرصے میں بمشکل دو ہفتوں کا راشن ہی خریدا جا سکتا ہے۔پاکستان 2019 سے آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت ہے۔یکے بعد دیگرے آنیوالی چار انتظامیہ کے زیرِ قیادت وزارتِ خزانہ کی توجہ بنیادی طور پر’فنڈ’کی پالیسیوں کو خاموشی سے قبول کرنے پر مرکوز رہی ہے؛اطلاعات کے مطابق،فنڈ کے عملے کے ساتھ کوئی بھی ایسی داخلی یا روایتی طریقوں سے ہٹ کر تیار کردہ پالیسی نہ تو شیئر کی گئی اور نہ ہی اس پر کوئی بحث کی گئی۔امید کی جانی چاہیے کہ وزارتِ منصوبہ بندی کو فنڈ کے ساتھ اپنی مہارت شیئر کرنے اور اس کے عملے کو زیادہ مرحلہ وار اور عوام دوست نقطہ نظر اپنانے پر قائل کرنے کا موقع دیا جائے گا،خاص طور پر وزارت کے تین بیان کردہ مقاصد کے پیشِ نظر:(i)قومی ترقیاتی منصوبہ بندی کی قیادت کرنا:ایسے منصوبہ بندی کے طریقوں کو وضع اور نافذ کرنا جو معاشی و سماجی ترقی کے پروگراموں کی رہنمائی کریں، قومی مسابقتی صلاحیت کو مضبوط بنائیں اور معیشت کے لیے واضح سمت متعین کریں؛(ii) موثر شراکت داریاں قائم کرنا:کوششوں کو ہم آہنگ کرنے،مشترکہ مقاصد کے حصول اور ادارہ جاتی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے سرکاری اداروں،نجی شعبے اور ترقیاتی عمل میں شامل فریقین کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانااور(iii)عوامی اداروں کو مضبوط بنانا:سرکاری اداروں کی منصوبہ بندی اور نفاذ کی صلاحیت کو بڑھانا تاکہ وہ ٹھوس حکمت عملی تشکیل دے سکیں، پروگراموں کا انتظام سنبھال سکیں اور ترقیاتی ترجیحات کو مثر طریقے سے عملی جامہ پہنا سکیں۔ہم حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ وزارتِ منصوبہ بندی کی ٹھوس اور تحقیق پر مبنی سفارشات کو نظر انداز کرنے کے بجائے وہاں موجود مہارت سے فائدہ اٹھائے۔
سفارتی بیان بازی
مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع کے حوالے سے اقوام متحدہ کے سربراہ کی تنبیہ جس سے نسلی صفائی کا خدشہ پیدا ہوتا ہے اس بات کا اہم اعتراف ہے کہ موجودہ صورتحال ناقابلِ برداشت ہے۔فلسطینیوں کی منظم بے دخلی کو اجاگر کرتے ہوئے،اقوام متحدہ یہ تسلیم کر رہا ہے کہ علاقے پر یہ قبضہ محض ایک سیاسی تنازع نہیںبلکہ وجود کو مٹانے کی دانستہ مہم ہے ۔محض زبانی جمع خرچ صیہونی ریاست کو نہیں روک رہا؛دنیا کو اس کی نسل کشی کی نیت کو روکنے کیلئے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔یہ تنبیہ بین الاقوامی مذمت اور عملی نفاذ کے درمیان موجود خلیج کی عکاسی کرتی ہے۔دہائیوں سے عالمی برادری تشویش کا اظہار کرتی رہی ہے جبکہ زمینی حقائق قابض قوت کے حق میں تبدیل ہوتے رہے۔جب بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بستیوں کو پھیلایا جاتا ہے تو اس سے صیہونی ریاست کو یہ پیغام ملتا ہے کہ اس کے اقدامات کے کوئی حقیقی نتائج برآمد نہیں ہوں گے یہ منظم بے حسی اقوام متحدہ کے کردار کو بین الاقوامی قانون کے محافظ سے بدل کر محض المیے کا تماشا دیکھنے والے یا اسے ریکارڈ کرنیوالے ادارے تک محدود کر دیتی ہے ۔ توسیع روکنے کیلئے جارح کے نیک ارادوں پر انحصار کرنا ایک بے سود حکمت عملی ہے کیونکہ زمین اور کنٹرول کی ہوس ہمیشہ مذاکرات کے ذریعے امن کی خواہش پر غالب رہتی ہے۔ایسی حکمت عملی جو حقوق کے نفاذ کے بجائے تنازع سے بچنے کو ترجیح دیتی ہے۔عالمی طاقتوں کو اب بستیوں کی تعمیر روکنے کیلئے ٹھوس پابندیاں اور لازمی کوٹے نافذ کرنے ہونگے۔سفارتی حمایت کو زمین پر قبضے کے فوری خاتمے سے مشروط کرنا ہی رویے میں تبدیلی لانے کا واحد طریقہ ہے ۔ علامتی تنبیہات سے نکل کر سخت احتساب کے نظام کی طرف بڑھنا ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے مغربی کنارے میں فلسطینی موجودگی کے مکمل خاتمے کو روکا جا سکتا ہے۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں