ڈی جی آئی ایس پی آر کا منصب افواجِ پاکستان کی ترجمانی کا منصب ہے۔ تاہم اب کی بار تو ڈی جی آئی ایس پی آر نے پوری قوم کے دلی جذبات کی ترجمانی کی ہے۔ میں ایک پاکستانی کے طور پر ڈی جی آئی ایس پی آر جناب احمد شریف کا شکر گزار ہوں، جس قطعیت اور جس وضاحت کے ساتھ انہوں نے سعودی عرب کے معاملے میں پاکستان کی پالیسی کو بیان کیا ہے، یہ قابلِ تعریف ہے۔
کوئی ابہام باقی نہیں رہنے دیا، کوئی الجھن باقی نہیں رہنے دی، کوئی سوال باقی نہیں رہنے دیا۔ مختصر، نپے تلے، متوازن لہجے میں انہوں نے پاکستان کے موقف کی ترجمانی کی، اور سچ تو یہ ہے کہ پوری قوم کے جذبات کی ترجمانی کی۔
سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی نوعیت کچھ اور ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ سعودی عرب کی سالمیت پر کوئی آنچ آئے تو پاکستان اس سے لاتعلق رہے۔ وہی اقبال والی بات کہ خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی۔
سعودی عرب سے ہمارے تعلقات کسی ایک معاہدے کے مرہونِ منت بھی نہیں ہیں۔ کوئی شک نہیں کہ حالیہ معاہدہ غیر معمولی معاہدہ ہے، یہ سہہ ملکی معاہدہ امت کی نشاةثانیہ کا نقش اول ہے لیکن ہمارے تعلقات اس سے بھی پرانے ہیں۔
سعودی عرب سے ہمارا عقیدت کا تعلق ہے، سعودی عرب سے ہمارا محبت کا تعلق ہے، سعودی عرب سے ہمارا احترام کا تعلق ہے۔ سعودی عرب اور پاکستان کے بارے میں اگر کوئی کہے کہ یک جان دو قالب والا معاملہ ہے تو یہ بالکل درست ہوگا۔
اور اب تو پاکستان سعودی عرب کے ساتھ ایک دفاعی معاہدے میں بھی منسلک ہو چکا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بہت وضاحت کے ساتھ اس کی ضروری جزئیات بیان کر دی ہیں۔ اس کے بعد اب نہ کسی حاشیے کی ضرورت ہے نہ کسی شرح کی ضرورت ہے۔
پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا تھا، کھڑا ہے اور کھڑا ہوگا۔ سعودی عرب کی سلامتی اور سالمیت کو خطرہ پاکستان کی سلامتی اور سالمیت کو خطرہ تصور کیا جائے گا۔
دو باتیں البتہ بہت واضح ہیں۔ ایک یہ کہ پاکستان کسی جارحانہ مقصد کو لے کر نہیں چل رہا، پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے البتہ کمٹڈ ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان اتحادِ امت کا بھی قائل ہے اور اس نازک ڈوری کو بھی تھام کر کھڑا ہے۔ پاکستان سراپا خیرخواہ ہے، مسلم امہ کے لیے پاکستان کے پاس خیرخواہی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ البتہ سعودی عرب کا معاملہ بالکل دوسرا ہے اور اگر سعودی عرب کی سالمیت پر کوئی خطرہ آیا، کوئی آنچ آئی، تو پاکستان کی بہادر افواج سینہ تان کر اور خم ٹھونک کر میدان میں ہوں گی اور پوری قوم ان کی پشت پر ہوگی۔
بھارتی اخبارات اس حوالے سے کچھ شرپسندی کا مظاہرہ کر رہے تھے، کچھ دھول اڑائی جا رہی تھی، کچھ غیر ضروری باتیں کی جا رہی تھیں، لیکن ڈی جی آئی ایس پی آر جناب احمد شریف نے اپنے انٹرویو میں جس قطعیت کے ساتھ، جس وضاحت کے ساتھ، جس صراحت کے ساتھ پاکستان کی پوزیشن بیان کر دی ہے، اس کے بعد اب کوئی ابہام باقی نہیں رہا کہ پاکستان اور سعودی عرب یک جان دو قالب ہیں۔
میں ایک بار پھر ڈی جی آئی ایس پی آر جناب جنرل احمد شریف کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں،انہوں نے قوم کے دلوں کی ترجمانی کی ہے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں