بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 20.2°C
Wednesday, 07 October 2026 | پاکستان: 26 ر بیع الثانی 1448

پنجاب کے بلدیاتی انتخابات

Wednesday, 7 October, 2026

اس مادی اور مصروف دور میں بھی راقم کے گائوں چٹی شیخاں سیالکوٹ میں ہر شام دوست احباب خالد حسین قریشی ایڈووکیٹ جو سابقہ صدر بار سیالکوٹ اور ہماری یونین کونسل کور پور کے ناظم بھی رہے ہیں کے ڈیرہ پر روزانہ کی بنیاد پر مل بیٹھتے ہیں ۔سال ہا سال سے ہماری یہی روٹین ہے ۔وہ مہمان نواز بھی ہیں اور تواضع میں بھی کبھی بخل سے کام نہیں لیا ۔ہمیشہ محبت شامل حال رکھی ۔حالیہ بلدیاتی الیکشن میں چونکہ خالد حسین قریشی صاحب خود بلدیاتی امیدوار نہیں ہیں ،انہوں نے اپنی اور اپنے گروپ کی طرف سے تصور ناز بٹ صاحب کو بلدیاتی امیدوار نامزد کیا ہے ۔انہی دنوں سیاسی گفتگو کے دوران بلدیاتی الیکشن کے بارے میں گپ شپ ہو رہی تھی ۔اکثر شرکائے محفل کا خیال تھا کہ بلدیاتی الیکشن کا انعقاد شاید ممکن نہ ہو سکے ۔راقم کے استسفسار پر کہ آپ حضرات کی الیکشن کے انعقاد سے مایوسی کی وجہ کیا ہے تو جواب یہی تھا کہ وطن عزیز کی سابقہ تاریخ اس حقیقت پر شاہد ہے کہ وطن عزیز میں حتمی یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اکثر مہنگائی ،لوڈ شیڈنگ اور بے روزگاری ختم کرنے کے نا تمام انتخابی وعدوں کی طرح بلدیاتی انتخابات کو بھی قصہ پارینہ بناکر فراموش کیا جاتا رہا ۔صوبائی حکومتیں بیلٹ پیپروں کی پرنٹنگ ،نئی حلقہ بندیوں اور امن و امان کی مخدوش صورتحال کے بہانے بنا کر انتخابات کو ٹالنے میں کامیاب ہوتی رہیں ۔جب بھی انتخابات کا وقت قریب آتا ،کوئی نہ کوئی قانونی یا انتظامی رخنہ ڈال کر معاملے کو مزید چند سالوں کیلئے موخر کر دیا جاتا ۔شرکائے مجلس کے بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کی بابت خیالات باوزن تھے اور ان کو جھٹلایا بھی نہیں جا سکتا ۔معزز قارئین پچھلے دنوں ہمارے وزیر داخلہ نے کہا کہ ہمارا سسٹم colapse ہو چکا ہے بدیں سبب ملک کے کونے کونے سے نئے نظام کے خدو خال کے حوالے سے آوازیں اٹھنے لگیں ان میں ایک ضروری عنوان بلدیاتی نظام کا بھی تھا ۔ایک دہائی سے زیادہ عرصے پر محیط بہانوں ،تاخیر ،انکار اور طریقہ کار سے متعلق ہیر پھیر کے بعد ایسا لگنے لگا کہ پنجاب میں بلآخر بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہونے والا ہے ۔پنجاب میں بلدیاتی ایکٹ 2025ء کو نافذ کر دیا گیا ہے ۔اس ایکٹ کے تحت بلدیاتی انتخابات دسمبر میں ہونے کا عندیہ دیا گیا ہے ۔الیکشن کمیشن نے پنجاب کیلئے بلدیاتی انتخابات کا ڈرافٹ شیڈول چیف سیکرٹری پنجاب کو ارسال کر دیا ہے اور مجوزہ ڈرافٹ شیڈول کے مطابق پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 14دسمبر کو ہوں گے ،تا حال یہ فیصلہ نہیں ہو سکا کہ بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوں گے یا غیر جماعتی بنیادوں پر ۔وزیر داخلہ محسن نقوی کے نظام colapseکرنے کے بیان کے بعد ملک بھر میں نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے بحث عروج پر رہی ۔ماہرین ملک میں گورننس کو یقینی بنانے ،خصوصاً مقامی سطح پر عوامی مسائل کے حل اور انصاف کی فراہمی کیلئے نئے صوبوں کو ناگزیر قرار دیتے نظر آئے ۔بڑی سیاسی جماعتوں نے تحفظ کے باوجود براہ راست اس کی مخالفت نہیں کی ۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر سیاسی جماعتوں نے ذمہ دارانہ کردار ادا کرتے ہوئے اختیارات و وسائل کو وفاق سے صوبوں اور پھر مقامی حکومتوں تک منتقل کیا ہوتا تو شاید نئے صوبوں کی تحریک زور نہ پکڑتی ۔ماہرین متفق ہیں کہ منظم ،فعال اور مستحکم بلدیاتی سسٹم ملک کی بہت بڑی ضرورت ہے جس سے سیاسی قوتوں اور صوبائی حکومتوں نے ہمیشہ انحراف کیا ۔ملک بھر میں عمومی رائے ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے منشور میں بلدیاتی سسٹم مضبوط بنانے ،انتخابات کرانے اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کے دعوے تو کرتی ہیں لیکن اقتدار میں آنے کے بعد سیاسی مفادات کو حکومتوں ،وسائل اور اختیارات سے جوڑ لیتی ہیں ۔آج اسی بنیاد پر ملک بھر میں صوبوں کی بات ہو رہی ہے ۔عمومی رائے ہے کہ پنجاب حکومت کی بلدیاتی انتخابات میں اچانک دلچسپی کی ایک بڑی وجہ نئے صوبوں کی تشکیل کا معاملہ بھی ہے اور سیاسی جماعتیں بلدیاتی انتخابات کو بنیاد بنا کر نئے صوبوں کی تحریک سے جان چھڑانا چاہتی ہیں ۔معزز قارئین قیام پاکستان سے 2026ء تک بلدیاتی نظام کی جمہوریت کے عملداروں سے آنکھ مچولی کی بھی عجب داستان ہے ۔جنرل ایوب خان سے جنرل پرویز مشرف کے بلدیاتی نظام کی مثالیں دی جاتی ہیں جبکہ جمہوریت کا راگ الاپنے والوں کی بلدیاتی نظام سے فرار کی کہانیاں زبان زد عام ہیں ۔بلدیاتی نظام میں اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے پڑتے ہیں مگر ہمارے حکمران سیاسی ،غیر سیاسی اور بیورو کریٹس ہمیشہ سے ارتکاز اختیارات کے شوقین رہے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے ملک میں نرسری تیار نہ ہو سکی ۔وہی چند سیاسی خاندان ،سیاسی پارٹیاں بدل بدل کر اقتدار کے مزے لوٹتے رہے اور وہ ملک کی معیشت ،سیاست ،معاشرت اور آئین و اقتدار کے ساتھ کھیلتے رہے ۔پنجاب میں آخری مرتبہ باقاعدہ بلدیاتی انخابات 2015ء میں منعقد ہوئے اور اس کے بعد سے صوبے کے بلدیاتی ادارے یا تو تحلیل رہے یا پھر افسر شاہی پر چھوڑ دئیے گئے ۔اس گیارہ سالہ دور انیے میں ہر نئی حکومت نے پرانے بلدیاتی قوانین کو مسترد کر کے اپنی مرضی کا ایک نیا قانون متعارف کرا کے یہ بات ثابت کر دی کہ ترجیح عوام کو با اختیار بنانا نہیں بلکہ سیاسی گرفت مضبوط رکھنا تھا ۔گزشتہ ایک دہائی کے دوران مقامی نمائندوں کی عدم موجودگی میں بلدیاتی اداروں کی باگ ڈور ایدمنسٹریٹرز یعنی بیوروکریسی کے ہاتھ میں تھما دی گئی ۔ترقیاتی فنڈز ایم این ایز ،ایم پی ایز اور سینیٹرز کو دئیے جا رہے ہیں جبکہ ان کا کام صرف اور صرف قانون سازی ہے ۔یہ ایک سیاسی رشوت ہے جس سے کمیشن مافیا ہی مضبوط ہو رہا ہے ۔مسلم لیگ ن کے دور حکومت کا پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ء آیا تو تحریک انصاف نے گورنمنٹ میں آتے ہے اسے تبدیل کر کے 2019ء اور پھر2021ء اور2022ء کو قوانین کی شکل دی ۔ہر نئی حکومت نے پچھلی حکومت کے بنائے ہوئے لوکل گورنمنٹ سٹرکچر کو لپیٹ کر نیا عذر تراشا ۔جب بھی انتخابات کا وقت قریب آتا کوئی نہ کوئی قانونی یا انتظامی رخنہ ڈال کر معاملے کو مزید چند سالوں کیلئے ملتوی کر دیا جاتا حالانکہ آئین پاکستان کا آرٹیکل A-140واضع طور پر ہر صوبے کو با اختیار مقامی حکومتیں قائم کرنے کا پابند بناتا ہے ۔بھارت میں اسمبلیوں کے انتخابات کے ساتھ بلدیاتی انتخابات کو بھی آئینی تحفظ حاصل ہے اور وہاں تسلسل کے ساتھ بلدیاتی انتخابات ہوتے ہیں ۔مقامی حکومت تو دنیا کے کسی بھی جمہوری نظام میں حکومت کا بنیادی یونٹ تصور کی جاتی ہے اور یہ نظام پوری مہذب دنیا ،ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں کسی نہ کسی شکل میں قائم ہے اور چل رہا ہے ۔مقامی اور علاقائی سطح پر عوام کی فوری ضروریات کی تکمیل اور مسائل و مشکلات کے حل میں اس نظام کا کردار کلیدی نوعیت کا حامل ہے ۔مہذب دنیا اپنے بلدیاتی اداروں پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے ۔تاریخ شاہد ہے کہ تمام ترقی یافتہ ممالک کے معروف لیڈروں نے اپنی سیاست کا آغاز بلدیاتی اداروں سے کیا اور پھر اعلیٰ سطحی انتخابات جیت کر کامیاب حکمران اور لیڈر ثابت ہوئے ۔پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کیلئے مقررہ تاریخ تو بتا دی گئی ہے ۔اب دیکھنا یہ ہو گا کہ پنجاب حکومت مجوزہ شیڈول کے تحت بلدیاتی انتخابات یقینی بنا پاتی ہے یا نہیں ۔عوام کو ان انتخابات کا شدت سے انتظار تھا ۔اس حوالے سے حلقہ بندی بھی ہو چکی ہے اور بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے پورے صوبے میں گہما گہمی اور سیاسی جوڑ توڑ شروع ہو چکا ہے ۔مقابلے کیلئے بلدیاتی امیدوار بھی سوشل میڈیا پر تسلسل کے ساتھ سامنے آ رہے ہے ۔بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے تاریخ تو مقرر کر دی گئی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ آیا یہ منتخب کردہ نمائندے با اختیار بھی ہوں گے ؟ کیونکہ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ اختیار کہیں اور ہی ہوتا ہے اور منتخب نمائندے صرف بے بسی کی تصویر بنا کر جمہوریت کے عجائب گھر میں سجا دئیے جاتے ہیں ۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *