تحریک انصاف کی قیادت اپنے دور اقتدار میں بھی سیاسی مفاہمت سے گریزاں رہی اور حکومت سے محروم ہونے کے بعد بھی وہ موجودہ حکمراں جماعتوں کیساتھ کسی بھی سطح پر بات چیت کیلئے تیار نہیں حالانکہ ملکی سلامتی معیشت کی بحالی اور سیکورٹی ایسا معاملہ ہے جسے سیاست سے بالاتر ہوکر دیکھنے کی ضرورت ہے اگر یہ معاملہ بھی سیاسی اختلافات کی نذر ہوتا رہے تو اس کا نتیجہ سیکورٹی خدشات میں اضافے کی صورت میں برآمد ہوتا ہے اور اس وقت ہمیں اسی صورت حال کا سامنا ہے تحریک انصاف کی قیادت اپنے حلقہ اثر اور مقبولیت کو مسلسل قومی گلدستے کی رنگا رنگی کو پارہ پارہ کرنے ملک وقوم کی ترقی وحدت اور یکجہتی کو نقصان پہنچانے کے لئے استعمال کر رہی ہے وہ یہ سمجھنے سے مسلسل گریزاں ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ ہو یا معیشت کو سہارا دینا’ قومی اتفاق رائے اور اتفاق واتحاد سے ہی معاملات کو بہتر سمت میں گامزن کیا جاسکتا ہے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان طویل مدت بعد انتہائی حساس ماحول میں شروع ہونے والا مذاکراتی عمل سیاسی اعتماد اور استحکام قائم کرنے کا ایک اہم موقع تھا حکومت اور اپوزیشن میں نتیجہ خیز بات چیت اور تنازعات کے حل کی صورت سیاسی قیادت پر عوامی اعتماد میں اضافے کا سبب بنتی اور ملک سے بے یقینی کی فضا ختم ہو تی مگر بد قسمتی ایسا ممکن نہیں ہو سکا حکومت اور اس کے اتحادیوں کی کوشش تھی کہ صوبائی حکومت کو ساتھ لے کر دہشت گردی کے خلاف کارروائی کی جائے مذاکراتی عمل کی بنیاد بھی یہی تھی کہ وفاق اور صوبہ مل کر دہشت گردی کے خلاف سرگرم ہوں اور صوبے کو امن دیا جائے لیکن خیبر پختونخواہ حکومت کی جانب سے عدم تعاون اور اپوزیشن کمیٹی کی بے اختیاری کے باعث مذاکرات ناکامی سے دو چار ہو گئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس مذاکراتی عمل کے انجام کی جو کہانی بیان کی وہ تشویش ناک ہے اور بار الزام خیبر پختونخواہ حکومت پر آتا ہے صوبائی حکومت مذاکراتی عمل میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے انسداد دہشت گردی اقدامات میں عدم تعاون اور صوبے کے جنوبی اضلاع سے لانگ مارچ پر بضد رہی وزیر اعلی خیبر پختونخو صوبے میں امن و امان یقینی بنانے کے بجائے اپنے سیاسی قائد کے سامنے سرخرو ہونے کے ایجنڈے کو ترجیح دی یہی نکتہ ڈیڈلاک کی بنیاد بنا لیکن کیا اب صورتحال اسی; طرح چلتی رہے گی، بظاہر ایسا نہیں حکومت اور فورسز کو ریاستی مفادات دیکھنے اور دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کیلئے اقدامات کرنا ہیں اگر صوبائی حکومت ساتھ نہیں دیتی تو کیا وفاق اور ریاست ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہیں گے؟ ایسا ممکن نظر نہیں آ رہا خیبر پختونخوا کے حالات سنگین ہیں اور صوبہ دہشت گردی اور بدامنی کی لپیٹ میں ہے جبکہ صوبائی حکومت اپنے سیاسی ایجنڈے پر گامزن نظر آتی ہے تحریک انصاف کی قیادت اگر یہ سمجھتی ہے کہ وہ حکومت اور ریاستی اداروں کو بلیک میل کرکے اپنے مقاصد حاصل کرلے گی تو یہ اس کی خوش فہمی ہے پی ٹی آئی جان بوجھ کر قوم میں ہیچان’ ملک میں انتشار’ افراتفری ‘انارکی کی صورت حال پیدا کرکے کسی اور کے مقاصد کوpa پورا کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے پی ٹی آئی خود اپنے عمل کے ذریعے تواتر کے ساتھ جب یہ ثابت کر رہی ہے پاکستان کی وحدت’ سالمیت’ بقا اور استحکام اس کا اصل نشانہ ہے تو کیا ریاست اس کی متحمل ہوسکتی ہے تو اس کا جواب نفی میں ہے تحریک انصاف کے جذبانی فیصلوں سے نہ صرف ریاست اور عوام بلکہ خود پارٹی کی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچ سکتا ہے سیاسی مقبولیت کے زعم میں مبتلا بانی پی ٹی آئی و دیگر رہنما تواتر کے ساتھ ایسے غلط فیصلے کرتے چلے جا رہے ہیں جو کسی بھی وقت انہیں تاریخ کا حصہ بنا سکتے ہیں کہتے ہیں جب آپ دوسروں کے گھر میں لگنے والی آگ کا مذاق اڑائو گے تو وہی آگ جب آپ کے گھر پہنچے گی تو پھر اس پر آنسو نہیں بہائے جاتے آج یہی تحریک انصاف کے ساتھ ہورہا ہے انہوں نے جو کچھ بو یا وہی کاٹ رہے ہیں تحریک انصاف کی قیادت اس بات کا ادراک کرے کہ موجودہ صورت حال میں ان کا لانگ مارچ کا اقدام درست فیصلہ نہیں یہ بالکل توقع سے باہر اور پارٹی پر خوش کش حملے کے مترادف ہے پی ٹی آئی قیادت اس بات کو ہر گز نظر انداز نہ کرے کہ ان کا یہ احتجاج اور لانگ مارچ خواہ اس کی نوعیت کچھ بھی ہو اس کی تپش ان کے نادان ساتھیوں کو کافی عرصے تک محسوس ہوتی رہے گی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے مذاکراتی عمل میں پیدا ہونے والے ڈیڈلاک اور اس حوالے سے وزیر اعلی پختونخوا کے کردار بارے انکشاف کے بعد بظاہر حکومت دہشت گردی کے سدباب کیلئے ممکنہ اقدامات، خصوصا آئینی آپشنز کی جانب بڑھتی نظر آ رہی ہے حکومت اور فورسز میں خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں دہشت گردی کے سدباب کیلئے موثر اقدامات بروئے کار لانے کے لئے مکمل یکسوئی اور سنجیدگی پائی جاتی ہے کیونکہ یہ محض سیاست کا نہیں ریاست کا ہے سیاست بہت ہو چکی اب ان خطرات کا حل سوچنا ہوگا جو چاروں جانب پھیلے ہوئے ہیں اور ملکی معیشت اور سماج کو تیزی کے ساتھ گھائل کرتے چلے جارہے ہیں ۔ اسلام آباد کے حوالے سے بھی حکومت کی پالیسی واضح ہے کہ لانگ مارچ کو دارالحکومت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی وزیر داخلہ محسن نقوی کا دورہ پشاور اور گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات بھی اسی تناظر میں دیکھی جا رہی ہے جمہوریت حوصلہ برداشت اور عوام کی رائے عامہ کے احترام کا نام ہے اب بھی وقت ہے تحریک انصاف کی قیادت عدم برداشت اور میں نہ مانوں کے روئیے کو ترک’سیاست اور انتشار میں فرق کو ملحوظ خاطر رکھے سیاسی طور پر آگے بڑھنے کا یہی بہترین آپشن ہے۔





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں