7 ارب ڈالر کی’ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی’کے چوتھے جائزے اور 1.4 ارب ڈالر کی ‘ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی’کے تیسرے جائزے پر سٹاف کی سطح کا معاہدہ طے پا گیا اور دو ہفتوں پر محیط مشن کے اختتام پر 7 اکتوبر کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی ویب سائٹ پر جاری کر دیا گیا۔افراطِ زر کے علاوہ فراہم کردہ اعداد و شمار کا تعلق 30 جون کو ختم ہونیوالے گزشتہ مالی سال سے تھا۔پریس ریلیز میں نشاندہی کی گئی کہ “مالی سال 26 کی پہلی تین سہ ماہیوں میں حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو 4 فیصد تک پہنچ گئی؛اگرچہ توانائی کی بلند قیمتوں اور رسد میں خلل نے اس رفتار کو کسی حد تک کمزور کیاتاہم مالی سال 26 میں نمو کا تخمینہ 3.6 فیصد لگایا گیا ہے۔مئی میں عروج پر پہنچنے کے بعد،’ہیڈ لائن’افراطِ زرستمبر میں کم ہو کر تقریبا 10.3 فیصد پر آ گئی،جبکہ بنیادی افراطِ زرقابو میں رہی۔مضبوط ترسیلاتِ زر کی بدولت مالی سال 26 میں کرنٹ اکانٹ بڑی حد تک متوازن رہا اور ستمبر کے اختتام تک مجموعی ذخائر بڑھ کر تقریبا 21.5 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئے۔اس حوالے سے دو نکات انتہائی اہم ہیں۔اول یہ کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق،مئی کے بعد سے ہیڈ لائن افراطِ زر میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔مزید برآں،خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے 44.7 فیصد پاکستانی ستمبر میں سال بہ سال بنیادوں پر 10.3 فیصد افراطِ زر کی شرح کو’معتدل’ قرار دینے کے مقف کی حمایت شاید ہی کریں؛حالانکہ یہ شرح اگست کے 11.1 فیصد کے مقابلے میں 0.8 فیصد کم ہے۔بنیادی افراطِ زریعنی خوراک اور توانائی کے علاوہ اشیا کی قیمتوں میں اضافہ،جو غریب اور کمزور طبقے پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوتا ہے مئی کے 9 فیصد سے کم ہو کر ستمبر میں 8.6 فیصد پر آ گئی۔اور دوم، یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ شرحِ نمو میں اضافہ بلاشبہ فنڈ کے ساتھ طے پانیوالی ‘سکیڑنے والی’ مالیاتی اور بجٹی پالیسیوں کا نتیجہ نہیں تھابلکہ اس کی وجہ کھپت کی بلند سطح خاص طور پر خوراک اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور گزشتہ برسوں میں جی ڈی پی کی نمو کی کم بنیاد تھی۔اس سب کے باوجودمشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ترسیلاتِ زر میں غیر متوقع اضافہ دیکھنے میں آیا؛اطلاعات کے مطابق اس کی وجہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی کارکنوں کا وطن واپس نہ لوٹنے کا فیصلہ تھا،جبکہ دیگر قومیتوں کے لوگوں نے واپسی کو ترجیح دی۔اسی دوران کرنٹ اکائونٹ مجموعی طور پر متوازن رہا، تاہم خدشات موجود ہیں کہ خام مال اور نیم تیار شدہ مصنوعات کی درآمدات میں اضافے کے باعث بوم اینڈ بسٹ کے چکر کے دوبارہ شروع ہونے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔اگرچہ پاکستان کے مجموعی غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 21 ارب ڈالر کی تاریخی بلندی پر ہیں،لیکن مشرقِ وسطی کے تنازعے کے باعث پیٹرولیم مصنوعات،کھاد اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں یہ ذخائر تقریبا 3.2 ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں جبکہ کثیر الجہتی مالیاتی اداروں کی جانب سے کم از کم تین ماہ کے ذخائر کو لازمی قرار دیا جاتا ہے۔آئی ایم ایف نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ملکی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور بین الاقوامی مارکیٹ تک دوبارہ رسائی پالیسی کے حوالے سے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔اس دعوے کی تائید گزشتہ ماہ لندن اسٹاک ایکسچینج میں 3 ارب ڈالر مالیت کے یورو بانڈز کے دو مراحل میں اجرا سے ہوتی ہے۔یہ شرحیں کثیرجہتی اور دو طرفہ ذرائع سے دستیاب شرحوں کے مقابلے میں کم از کم دوگنا ہیں۔اگرچہ’ساورن اسپریڈ’اس اضافی منافع کی عکاسی کرتا ہے جس کا مطالبہ سرمایہ کار بانڈ رکھنے کے عوض کرتے ہیں اور مغربی ممالک میں قرض لینے کی لاگت بڑھ رہی ہے،جہاں امریکہ میں پانچ سالہ بانڈ پر شرح 5.02 فیصد ہیاس کے باوجود یہ اجرا ایک کامیابی ہے۔ یہ بات خاص طور پر اس لیے اہم ہے کیونکہ 2023 میں نگران وزیرِ خزانہ نے فنڈز کے اس ذریعے کو حاصل کرنے کیلئے بہت مہنگا قرار دیا تھاحالانکہ انہوں نے اس وقت پیش کیے جانے والے اصل منافع کا ذکر نہیں کیا تھا۔آخر میںآئی ایم ایف کی پریس ریلیز میں ایک گراف بھی شامل تھاجسے فریزر انسٹی ٹیوٹ، ورلڈ بینک، ورلڈ وائیڈ گورننس انڈیکیٹرز، اکنامک فریڈم آف دی ورلڈ، بوڈینا و دیگر، اور عملے کے تخمینوں کی بنیاد پر تیار کیا گیا تھااور اس کا عنوان تھا:”گورننس، کاروباری ضوابط اور بیرونی شعبے کے ساختی اشاریے ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کے پاس ابھرتی ہوئی منڈیوں اور ترقی پذیر معیشتوں کے مقابلے میں وسیع امکان موجود ہے ۔ مذاکرات کی تفصیلات طے پانیوالے امور،اور وقت کی قید کے ساتھ مشروط ساختی اہداف اس وقت دستیاب ہوں گے جب تفصیلی رپورٹ ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دی جائے گی؛ایسا عام طور پر مشن کے اختتام کے کم از کم ایک ماہ بعد ہوتا ہے ۔ تاہم گزشتہ جائزے کے برعکس اس مشن کے اختتامی مرحلے پراسٹاف لیول ایگریمنٹ کا طے پانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہفنڈنے نہ صرف بیرونی عوامل جیسے کہ مشرقِ وسطی کے تنازع کے معیشت پر منفی اثرات کو پیشِ نظر رکھا،بلکہ یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حکام ممکنہ حد تک اس کی ہدایات پر حرف بہ حرف اور روح کے مطابق عمل پیرا ہیں۔
خلیج ممالک کے ساتھ تعلقات کا موقع
خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات غیر معمولی رفتار سے بڑھ رہے ہیں،بڑے سیاسی اور فوجی اتحاد سے لیکر چھوٹے دوطرفہ معاہدوں تک جو گہرے اقتصادی تعاون کا وعدہ کرتے ہیں۔پاکستان جی سی سی آزاد تجارتی معاہدے کو تیز کرنے کیلئے بحرین کا عزم اس تیزی سے نتیجہ خیز سفارتی مصروفیات میں ایک اور خوش آئند پیشرفت ہے۔پاکستان نے خلیج میں کافی ترقی کی ہے۔اہمیت کو بڑھاوا نہیں دیا جا سکتا۔اگرچہ باہمی دفاعی معاہدہ ایک سٹریٹجک پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے،جی سی سی کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ پاکستان کے معاشی مستقبل کیلئے یکساں طور پر نتیجہ خیز ثابت ہو سکتا ہے۔پاکستان کو اپنی کتابوں میں توازن پیدا کرنے اور بیرونی فنانسنگ پر انحصار کم کرنے کیلئے نئی برآمدی منزلوں کی اشد ضرورت ہے۔یورپی اور امریکی منڈیوں میں تیزی سے غیر یقینی صورتحال کے ساتھ، خلیج ہمارا قریب ترین،قابل رسائی اور تجارتی لحاظ سے قابل عمل متبادل پیش کرتا ہے۔جغرافیائی قربت،قائم کاروباری تعلقات،کافی حد تک پاکستانی تارکین وطن اور دیرینہ خیر سگالی ایسے فوائد فراہم کرتے ہیں جن سے کچھ دوسری مارکیٹیں مل سکتی ہیں ۔ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، زراعت، ٹیکنالوجی اور مزدوروں کی نقل و حرکت پر محیط بحرین کے مباحثے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ سیاسی خیر سگالی کس طرح عملی اقتصادی موقع بن سکتی ہے۔دو طرفہ تجارت کی مجوزہ توسیع $1 بلین تک حوصلہ افزا ہے،لیکن اس سے بڑا انعام وسیع جی سی سی مارکیٹ تک رسائی باقی ہے۔پاکستان کی قیادت فعال سفارتکاری پر عمل پیرا ہونے اور اس بات کو تسلیم کرنے پر ستائش کی مستحق ہے کہ اقتصادی سلامتی کو فوجی اور سیاسی شراکت داری کے ساتھ ہونا چاہیے۔تاہم،صرف معاہدے خوشحالی نہیں دے سکتے برآمد کنندگان کو مسابقتی مصنوعات تیار کرنی چاہئیں،کاروباری اداروں کو مواقع کی نشاندہی کرنی چاہیے،اور حکومت کو بیوروکریٹک اور ساختی رکاوٹوں کو دور کرنا چاہیے جنہوں نے تجارت کو تاریخی طور پر روکا ہے۔رفتار کو ضائع نہیں کرنا چاہئے۔حکومتی وزارتوں سے لیکر چیمبرز آف کامرس اور انفرادی برآمد کنندگان تک ہر ادارے کو اب سفارتی پیشرفت کو پائیدار اقتصادی ترقی میں تبدیل کرنے کیلئے کام کرنا چاہیے پاکستان نے خلیج میں اہم دروازے کھول دیے ہیں۔اب اسے تجارتی عزائم اور ادارہ جاتی اہلیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ وہ ان سے گزر سکیں۔
ماسکو میں اختلافِ رائے
حال ہی میں منعقدہ’ماسکو فارمیٹ’اجلاس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ طالبان کے زیرِانتظام افغانستان سے جنم لینے والی دہشتگردی سے نمٹنے کے طریقہ کار پر علاقائی ممالک کے درمیان اتفاقِ رائے کا فقدان ہے۔اس اجلاس میں پاکستان سمیت افغانستان کے تقریبا تمام پڑوسی ممالک نے شرکت کی۔تاہم کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا کیونکہ افغانستان کیلئے روسی ایلچی کے الفاظ میں،”ہمارے افغان اور پاکستانی ساتھیوں کے درمیان ہم آہنگی نہیں ہوسکی ” ۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں