بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 17.1°C
Monday, 19 October 2026 | پاکستان: 9 جمادی الاول 1448

بھارت کی اپنے اتحادیوں کے ساتھ دغابازی

Monday, 19 October, 2026

بین الاقوامی تعلقات اور عالمی سیاست میں بھارت کی خارجہ پالیسی کو طویل عرصے سے “تذویراتی خودمختاری”کے نام پر موقع پرستی اور اتحادیوں کے ساتھ وفاداریاں بدلنے کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں اور مبصرین کے مطابق، بھارت نے تاریخی اور موجودہ شراکت داروں کے ساتھ بحرانی صورتحال میں اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دی، جسے کئی ممالک “دغا بازی” یا ناقابلِ اعتماد رویے سے تعبیر کرتے ہیں۔ بھارت کے اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات میں اتار چڑھاؤ اور مبینہ یوٹرنز کے چند اہم پہلو یہ ہیں کہ روس نے سرد جنگ اور 1971 کی جنگ سمیت ہر مشکل وقت میں بھارت کا ساتھ دیا۔ تاہم، حالیہ برسوں میں بھارت نے دفاعی سودوں کیلئے روس کو بائی پاس کر کے امریکہ اور فرانس جیسے مغربی ممالک کا رخ کیا۔ جوائنٹ ففتھ جنریشن فائٹر ایئرکرافٹ جیسے مشترکہ منصوبوں کی منسوخی کو روس کے تئیں سرد مہری دیکھا گیا۔ یوکرین جنگ کے دوران ایک طرف بھارت نے مغرب کی خوشنودی کیلئے دفاعی میدان میں روس سے دوری اختیار کی، تو دوسری طرف سستا روسی تیل خرید کر اپنے معاشی مفادات کو ترجیح دی، جس پر امریکی بلاک نے بھی ناراضگی کا اظہار کیا۔ ایران اور بھارت کے درمیان صدیوں پرانے ثقافتی اور معاشی تعلقات رہے ہیں۔ بھارت نے ایران کے چابہار پورٹ منصوبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا معاہدہ کیا تھا۔ لیکن جیسے ہی امریکہ نے ایران پر پابندیاں سخت کیں، بھارت نے ایران سے تیل کی درآمدات کو صفر کر دیا اور چابہار منصوبے پر کام سست کر دیا، جسے ایرانی حلقوں میں ایک بڑی سفارتی دغا بازی سمجھا گیا۔ نیپال تاریخی طور پر بھارت کا سب سے قریبی اور معتمد پڑوسی رہا ہے۔ لیکن 2015 میں نیپال کے نئے آئین پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے بھارت نے نیپال کی غیر اعلانیہ معاشی ناکہ بندی کی، جس سے وہاں ادویات اور پٹرول کا شدید بحران پیدا ہوا۔ اس اقدام نے نیپالی عوام اور حکومت کو چین کی طرف جھکنے پر مجبور کر دیا۔ امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی بھارت کو “کواڈ” اتحاد کے ذریعے چین کیخلاف ایک مضبوط مہرے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ تاہم مغربی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت اہم عالمی فیصلوں پر امریکہ کا ساتھ دینے کے بجائے ہمیشہ اپنی الگ راہ نکالتا ہے۔ روس میں ہونے والی زاپاد فوجی مشقوں میں بھارت کی شرکت پر پولینڈ سمیت کئی نیٹو اتحادیوں نے کڑی تنقید کی ہے۔ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک (جیسے مالدیپ، بنگلہ دیش اور سری لنکا) میں بھی وقت فوقتاً بھارت کی مداخلت پسندانہ پالیسیوں اور اپنے مفادات کے لیے وعدوں سے مکر جانے کے رویے کے خلاف سخت ردعمل دیکھنے کو ملا ہے، جس کی تازہ ترین مثال مالدیپ اور بنگلہ دیش میں چلنے والی ‘انڈیا آؤٹ’ مہمات ہیں۔بین الاقوامی میڈیا اور تھنک ٹینکس کے مطابق، بھارت کی خارجہ پالیسی کسی نظریاتی وابستگی یا مستقل دوستی کے بجائے خالصتاً وقتی فائدے پر مبنی ہے، جو اسے عالمی سطح پر ایک غیر مستحکم اور ناقابلِ اعتماد شراکت دار بناتی ہے۔ لیکن اب بھارت کی خارجہ پالیسی کروٹ بدلتی نظر آرہی ہے ۔ امریکہ مسلسل یوکرین جنگ کے بہانے روس پر اقتصادی پابندیاں عائد کررہاہے۔ بلاشبہ دنیا میں 195 سے زائد ممالک ہیں اور ہر ملک کے پاس بے شمار ایٹمی قوتیں اور لاتعداد ہتھیار سے لیس فوجی ہوتے ہیں جو کہ دشمن سے مقابلہ آرائی کے وقت ان کے تحفظ و بقا کے ضامن ہوتے ہیں ، اس کے علاوہ چند ممالک آپس میں دوستی اور معاہدہ کر لیتے ہیں جو میدان جنگ میں ایک دوسرے کی پشت پناہی کرکے دشمن کے مضبوط سے مضبوط قلعے کو بھی زمین بوس کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ، یہ اتحاد کبھی دو مختلف براعظموں کے دو مختلف ملکوں میں ہوتا ہے تو کبھی پاس پڑوس کے ممالک میں، اور بلاشبہ پڑوسی ممالک کا اتحاد مختلف براعظموں کے اتحاد پر فوقیت رکھتا ہے ، کیونکہ اعلان جنگ کے بعد اگر آپ کو اپنے اتحادی ملک سے مدد طلب کرنا ہے اور آپ کا اتحادی ملک دوسرے براعظم پر واقع ہے تو یقیناً اسے آپ تک پہنچنے میں ، آپ تک اپنی مسلح افواج کو بھیجنے میں، ہتھیار سپلائی کرنے میں بہت زیادہ وقت درکار ہوگا بمقابل پڑوسی ملک کے،اس ضمن میں اگر ہم ملک ہندوستان کی بات کریں تو جغرافیائی زاویہ نظر سے اس ملک کے اردگرد پانچ ممالک آتے ہیں، جس میں چین، نیپال اور بھوٹان شمال کی جانب، بنگلہ دیش مشرق اور پاکستان مغرب کی سمت واقع ہے اور رہا جنوب کا علاقہ تو اس طرف عرب مہاساگر اور چند گھاٹیاں ہیں ۔ ان پڑوسی ممالک سے اگر ہم بھارت کے اتحاد کی بات کریں تو مغرب کی جانب وقوع پذیر ملک پاکستان سے بھارت کا تعلق کیسا ہے یہ تو کسی پر بھی مخفی نہیں ، واضح رہے کہ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد ہی سے ان دونوں ملکوں میں سرحدوں پر خوں ریزی، قتل و غارت گری اور جنگ وجدال کے ہزاروں واقعات بلا شبہہ باہم عدم اتفاقی اور دشمنی کی مبینہ دلیل ہیں اور سوئ اتفاق کہ ان دونوں ملکوں میں باہم اتفاق و اتحاد کا تصور لا یعنی ہے ۔ چین جوکہ بھارت کا ایک پڑوسی ملک ہے ، 1962ء میں اس ملک سے کچھ واقعات کی بنا پر جنگ کی صورت پیدا ہو گئی تھی اور افسوس کہ اس جنگ میں وطن عزیز ہندوستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، پھر کئی دہائیوں تک دونوں پڑوسی ملکوں میں باہم گرما گرمی چلی لیکن جب راجیو گاندھی اقتدار کے منصب پر فائز ہوئے تو آپ نے چین کا دورہ کیا اور اس دورے نے دونوں ملکوں کے باہمی ربط و ضبط کو از سر نو بحال کر دیا اور اب تک دونوں ملکوں کا یہ تعلق اسی طریقے سے چل رہا تھا، لیکن حالیہ دنوں میں اس اتحاد کو جانے کس کی نظر لگ گئی، اچانک یہ دونوں ملک جو کچھ وقت پہلے تک اتحاد کی مثال ہوا کرتے تھے، آج ایک دوسرے کے خون کے پیاسے نظر آ رہے ہیں۔ چینی فوجی گلوان گھاٹی نامی جگہ پر بھارتی سرحد میں گھس آئے، ادھر سے انھیں روکنے کی پوری کوشش کی گئی جس کے نتیجے میں اب تک کئی جھڑپیں ہو چکی ہیں اور صد افسوس کہ اس مد بھیڑ میں بھارت کے بیس سے زائد جوان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ایک شہری ہونے کے ناطے ہر ہندوستانی آپ سے سوال کررہا ہے کہ 14 فروری 2019ء کو پلوامہ حملہ کے نتیجے میں آپ نے پاکستان پر سرجیکل اسٹرائیک کا اعلان کیا جبکہ اس معاملے میں پاکستان ملوث ہے یا نہیں، یقینی نہیں تھا تو آج آپ چین اور نیپال پر سرجیکل اسٹرائیک کا اعلان کیوں نہیں کرتے؟

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *