بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 17.1°C
Monday, 19 October 2026 | پاکستان: 9 جمادی الاول 1448

برداشت غصے کے چند لمحے، رشتوں کی پوری زندگی

Monday, 19 October, 2026

انسان کی زندگی میں غم، غصہ، خوشی اورپریشانی جیسے جذبات فطری ہیں۔ کوئی انسان ان جذبات سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہو سکتا، لیکن اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنے جذبات کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دے۔ آج ہمارے معاشرے میں غصہ، بے چینی، فرسٹریشن اور عدم برداشت بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے، جسکے اثرات ہماری ذاتی زندگی، گھروں اور معاشرے تک پہنچ رہے ہیں۔ ہم سب کبھی نہ کبھی غصے کا شکار ہوتے ہیں۔ کبھی گھر کی کوئی معمولی بات، کبھی کام کا دبائو، کبھی ٹریفک، کسی کا سخت لہجہ یا کسی کی معمولی غلطی ہمیں غصے میں مبتال کر دیتی ہے۔ مسئلہ غصہ آنا نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ غصے کے وقت ہم اپنے الفاظ، لہجے اور رویے پر قابو نہیں رکھ پاتے۔ یہی چند لمحوں کی بے احتیاطی بعضاوقات برسوں کے خوبصورت رشتوں کو نقصان پہنچا دیتی ہے۔ ایک سخت جملہ، ایک تلخ لہجہ یا غصے میں اٹھایا گیا ایک قدم انسان سے اس کے بہت پیارے اور قریبی رشتے دور کر سکتا ہے۔ بعد میں احساس ہوتا ہے کہ جسبات پر اتنا غصہ آیا تھا، وہ شاید اتنی بڑی تھی ہی نہیں، لیکن بعضالفاظ واپس نہیں لیے جا سکتے۔ میرے نزدیک اس مسئلے سے بچنے کا سب سے بہترین راستہ قرآن و سنت کی رہنمائی ہے۔ اللہ :تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے”اور وہ لوگ جو غصہ پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں، اور اللہ نیکی کرنے والوں سے “محبت کرتا ہے۔ غور کیجیے، اللہ تعالیٰ غصہ ضبط کرنے اور دوسروں کو معاف کرنیوالوں کیلئے فرماتا ہے کہ اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ انسان کیلئے اس سے بڑی کامیابی اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ اللہ کی محبت کا مستحق بن جائے؟ اسی لیے ہمیں قرآن و سنت کی تعلیمات کو صرف پڑھنے تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ انہیں اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے ہمیں ہر وقت باوضو رہنا چاہیے صبح و شام کے اذکار، اللہ کا ذکر، دعا اور اپنے اعمال کا محاسبہ انسان کو اپنے جذبات پر قابو پانے میں مدد دیتے ہیں۔ ذکر صرف زبان تک محدود نہ ہو بلکہ اس کا اثر ہمارے دل، گفتگو اور معامالت میں بھی نظر آنا چاہیے۔ آج ہمارے معاشرے میں عدم برداشت کے بڑھنے میں ہمارے اردگرد کے ماحول کا بھی اہم کردار ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا نے ہماری زندگی کو بہت متاثر کیا ہے۔ اختالِف رائے جو ایک فطری معاشرتی عمل ہے، بعض اوقات غصے، نفرت اور ذاتی حملوں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ہم دوسرے کی بات سننے اور رِدعمل دینا شروع کر دیتے سمجھنے کے بجائے فور ہیں۔ غم، غصہ اور عدم برداشت فرد سے معاشرے تک پھیلتے ہیں، اور جب انہیں قابو نہ کیا جائے تو یہی جذبات انتقام کو جنم دیتے ہیں۔ آج ہمارا معاشرہ اور ہماری سیاسی زندگی بھی اس کشمکش کے اثرات سے دوچار ہے۔ غصے اور انتقام میں کیے گئے فیصلے اکثر نقصان دیتے ہیں، فائدہ نہیں۔ ہمیں انتقام کے بجائے برداشت، مکالمے اور درگزر کو اپنانا ہوگا ۔ ہمیں اپنے غصے سے اوپر اٹھ کر اپنے ملک، اپنے معاشرے، اپنے پیاروں اور آنیوالی نسلوں کے بارے میں سوچنا ہوگا۔کیونکہ پاکستان کی بہتری اسی میں ہے کہ ہم ایک دوسرے کو شکست دینے کے بجائے اپنے ملک کو کامیاب بنانے کی کوشش کریں۔ اگر ہم اپنے اردگرد نظر ڈالیں تو محسوس ہوتا ہے کہ لوگ معمولی معمولی باتوں پر بھی غصے اور فرسٹریشن کا شکار ہیں۔ سڑکوں پر جلد بازی، بازاروں میں تلخی اور معمولی معامالت پر بحث و تکرار کا نقصان ہمیں دشمنیوں پھر تھانہ کچہری تک لے جاتا ہے جسمیں زندگیاں گزر جاتی ہیں پھر جمع پونجی لگا بیٹھتے ہیں اور یہ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہیں ہمیں اپنے آپ سے ایک سوال کرنا چاہیے: کیا ہر بات کا جواب دینا ضروری ہے؟ نہیں۔ یقین برداشت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی عزِت نفس ختم کر دے یا ہر غلط بات کو درست تسلیم کر لے۔ برداشت کا اصل مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے رِدعمل پر قابو رکھے۔ ہر اختالف کو لڑائی بنانا ضروری نہیں، ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں اور ہر غصے کا اظہار کرنا بھی ضروری نہیں۔ کبھی چند لمحوں کی خاموشی ایک بڑے نقصان سے بچا لیتی ہے۔ کبھی ایک معافی برسوں پرانے رشتے کو “اگر بچا لیتی ہے۔ اور کبھی صرف اتنا سوچ لینا کہ میں یہ بات ابھی غصے میں کہہ دوں گا تو کیا کل مجھے اس پر افسوس نہیں ہوگا؟” انسان کو بہت سی غلطیوں سے محفوظ کر سکتا ہے۔ ہمیں اپنے آپ کو اور دوسروں کو مضبوط بنانے کیلئے محفل کے آداب کا بھی خاص خیال رکھنا ہوگا۔ اپنے الفاظ کے استعمال پر غور کرنا ہوگا۔ کوئی بات اپنی زبان پر النے سے پہلے ایک لمحے کیلئے یہ سوچ لینا چاہیے کہ کہیں ہمارے الفاظ سے کسی کا دل تو نہیں دکھے گا؟ کہیں ہم کسی کی حق تلفی تو نہیں کر رہے؟ کہیں ہماری گفتگو کسی کے لیے تکلیف یا شرمندگی کا باعث تو نہیں بن رہی؟ ہماری زبان ہمارے کردار کا آئینہ ہے۔ ایک اچھا لفظ کسی کے دل کو سکون دے سکتا ہے اور ایک غلط لفظ کسی کے دل میں ایسی چبھن پیدا کر سکتا ہے جو مدتوں باقی رہتی ہے۔ اگر ہم اپنی گفتگو، اپنے رویے اور اپنے معامالت میں ان چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھنا شروع کر دیں تو غصے اور عدم برداشت جیسے مسائل پر قابو پانے کی طرف ایک مضبوط قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ تبدیلی صرف دوسروں سے توقع کرنے سے نہیں آئے گی۔ جب تک ہم خود کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے، معاشرہ تبدیل نہیں ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم معاشرے سے الگ نہیں، ہم خود معاشرے کا حصہ ہیں۔ ایک انسان کی اصالح بظاہر ایک چھوٹی تبدیلی محسوس ہوتی ہے، لیکن یہی ایک انسان اپنے گھر، بچوں، دوستوں اور اردگرد کے لوگوں پر اثر ڈالتا ہے۔ پھر ایک انسان کی تبدیلی دوسرے انسان کی تبدیلی کا سبب بنتی ہے اور یوں ایک فرد کی اصلاح پورے معاشرے میں تبدیلی کی بنیاد بن سکتی ہے۔ ہمیں اس تبدیلی کا آغاز اپنے گھر سے کرنا ہوگا ۔ اپنے اور بچوں کے سامنے ذکر اللہ حفاظت کی دعائیں پڑھنی ہیں پھر ہمارا رویہ، والدین کے ساتھ ہمارا لہجہ، شریِک حیات کے ساتھ ہمارا برتا اور معاشرے میں دوسروں کے ساتھ ہمارا معاملہ اس سے ہمیں برداشت کرنے میں مدد ملے گی ہم سب کو یہ ماننا ہوگا کہ عدم برداشت کا مسئلہ صرف دوسروں میں نہیں، کہیں نہ کہیں ہم سب کے اندر بھی موجود ہے۔اس لیے دوسروں کو بدلنے سے پہلے ہمیں اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اپنے غصے کو پہچانیں، اپنے الفاظ کو روکیں، چند لمحے خاموش رہیں، اللہ کو یاد کریں اور سوچیں کہ ہماری ایک لمحے کی بے احتیاطی کہیں کسی قیمتی رشتے کو ہم سے ہمیشہ کے لیے دور تو نہیں کر دے گی۔کسی کے دل میں ہم انتقام کو نہیں پیدا کر رہے زندگی بہت مختصر ہے۔ اسے غصے، نفرت اور تلخی کی نذر کرنے کے بجائے تحمل، محبت، معافی اور ذکِرہی کے ساتھ گزارنا ہی اصل کامیابی ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *