تاریخ کے صفحات پر بادشاہوں، شہنشاہوں، صدور اور وزرائے اعظم کے نام سنہری حروف میں لکھے گئے ہیں۔ کسی نے وسیع سلطنتیں قائم کیں، کسی نے جنگیں جیتیں، کسی نے بلند و بالا محلات تعمیر کیے اور کسی نے اپنی طاقت کے سامنے دنیا کو جھکانے کی کوشش کی۔ لیکن تاریخ کا ایک سوال آج بھی زندہ ہے کہ ان حکمرانوں میں سب سے خوبصورت اقتدار کس حکمران کا تھا ؟ کیا وہ اقتدار خوبصورت تھا جس میں حکمران کی شان و شوکت بے مثال تھی یا وہ جس میں عام آدمی کی زندگی آسان، محفوظ اور باعزت تھی؟میرے نزدیک اقتدار کی خوبصورتی کا پیمانہ حکمران کا لباس، اس کا محل، اس کے پروٹوکول، اس کی دولت نہیں، بلکہ اس ملک کے عام شہری کی زندگی ہے۔ اگر ایک غریب باپ اپنے بچے کا علاج نہ کرا سکے، ایک طالب علم غربت کے باعث تعلیم سے محروم ہو جائے ایک نوجوان روزگار کی تلاش میں دربدر پھرے اور ایک عام شہری انصاف کے لیے برسوں عدالتوں کے چکر لگاتا رہے تو ایسے اقتدار کی چمک دمک بے معنی ہے۔ دنیا میں ڈنمارک، سویڈن، ناروے اور فن لینڈ ممالک ایسے ہیں جن کے حکمرانوں نے عوامی فلاح کے حوالے سے نمایاں مقام حاصل کیا۔ انہوں نے اس تصور کو مضبوط کیا کہ ریاست صرف ٹیکس وصول کرنے، سرحدوں کی حفاظت کرنے اور قانون نافذ کرنے کا نام نہیں، بلکہ شہریوں کی تعلیم، صحت، سماجی تحفظ اور بنیادی ضروریات پوری کرنے کی ذمہ دار بھی ہے۔ان ممالک میں عوامی خدمات سماجی تحفظ اورمعیاری تعلیم و صحت کے نظام نے عام شہری کو یہ احساس دیا ہے کہ ریاست مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑے گی۔ یقینا وہاں بھی مسائل موجود ہیں، لیکن ان معاشروں سے دنیا یہ سبق ضرور سیکھ سکتی ہے کہ عوام پر خرچ کرنا ریاست پر بوجھ نہیں، بلکہ ایک مضبوط اور پرامن معاشرے میں سرمایہ کاری ہے۔سنگا پور مجھے ذاتی طور پر دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ بتایا گیا کہ اس ملک کی لی کوان یو نے 1959 سے 1990 تک سنگاپور کی قیادت کی۔ ان کے دور میں یہ چھوٹا سا ملک معاشی ترقی، بہتر انتظامی نظام، تعلیم، رہائش اور بنیادی سہولتوں کے حوالے سے دنیا کی نمایاں مثالوں میں شامل ہوا۔سنگاپور کی کامیابی کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ حکومتی پالیسیوں میں منصوبہ بندی، انتظامی صلاحیت اور قومی ترقی کو مرکزی حیثیت دی گئی۔ سرکاری رہائشی منصوبوں نے لاکھوں شہریوں کے لیے گھر کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا۔اسی طرح نیلسن منڈیلا کے اقتدار کو بھی مثالی کہا جاتا ہیان کے اقتدار میں انتقام نہیں، انسانیت نظر آتی ہے۔ برسوں قید میں رہنے کے بعد جب انہیں ملک کی قیادت کا موقع ملا تو ان کے سامنے انتقام لینے کے بہت سے اسباب موجود تھے۔ لیکن انہوں نے مفاہمت، نسلی مساوات اور ایک مشترکہ قوم کی تعمیر کو ترجیح دی۔منڈیلا کا اصل پیغام یہ تھا کہ اقتدار کا مقصد مخالف کو کچلنا نہیں، بلکہ ایسے معاشرے کی تشکیل ہے جہاں انسان کی عزت اس کی نسل، رنگ یا سماجی حیثیت کی محتاج نہ ہو۔ امریکہ کے صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ نے عظیم کساد بازاری کے دور میں نیو ڈیل کے نام سے متعدد پروگرام شروع کیے تھے۔ ان اقدامات کا مقصد معاشی بحران سے متاثرہ عوام کو سہارا دینا، روز گار کے مواقع پیدا کرنا اور سماجی تحفظ کو بہتر بنانا تھا۔ان کی پالیسیوں نے یہ تصور مضبوط کیا کہ جب معیشت بحران کا شکار ہو اور عوام بے روزگاری و غربت سے دوچار ہوں تو حکومت خاموش تماشائی نہیں رہ سکتی۔ ریاست کو ایسے اقدامات کرنے چاہییں جن سے شہریوں کو دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کا موقع ملے۔ اسی طرح تاریخ میں قدیم ہندو ستان کے شہنشاہ اشوک کی زندگی بھی ایک قابلِ غور مثال ہے۔ جنگِ کلنگا کی تباہی کے بعد ان کی حکمرانی میں رحم اخلاقی ذمہ داری اور عوامی فلاح پر زیادہ زور دیا گیا۔ ان کیتاریخی کتبوں میں سڑکوں کنوں مسافروں کی سہولتوں اور انسانوں و جانوروں کے علاج سے متعلق اقدامات کا ذکر ملتا ہے۔ہندوستان کے شہنشاہ اشوک کی زندگی بھی ایک قابل غور مثال ہے۔ ان کی مثال یہ بتاتی ہے کہ حکمران کی عظمت صرف فتوحات میں نہیں، بلکہ اس تبدیلی میں بھی ہے جو اسے انسانی زندگی کی قدر کرنا سکھاتی ہے۔ یہ مثالیں پاکستان کے حکمرانوں کے لیے ہیں کہ وہ ان سے ہی سیکھ لیں۔چند حکمرانوں نے اس ملک کو ایٹمی طاقت سے نوازا جس کی وجہ سے ملک کے دفاع کا نظام اب مثالی ہے۔کیا ہمارے ہاں حکمران کی کامیابی کا معیار عوامی خوش حالی ہے یا سیاسی اقتدار کا تسلسل ہے؟ پاکستان میں تعلیم، صحت، روزگار، مہنگائی، انصاف اور سماجی تحفظ ایسے شعبے ہیں جن میں مسلسل اور سنجیدہ توجہ کی بہت ضرورت ہے۔ سیاسی حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، لیکن عوام کے بنیادی مسائل اکثر ان کے ساتھ ہی سفر کرتے رہتے ہیں۔ہمیں ایسا نظام درکار ہے جس میں حکومت کی تبدیلی سے عام شہری کی بنیادی سہولتیں متاثر نہ ہوں اس وقت کے حکمران عوام کی بہتری کے لیے بے بس دکھائی دیتے ہیں جیسے اب پٹرول کی قیمتوں کے اضافہ سے مہنگائی کا طوفان ہے۔ حکومت اسلام آباد میں غیر ضروری ناکے اور گیڈ لگا کر عوام کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ جب کہ نہ کوئی جلوس ہے اور نہ کوئی احتجاج ہو رہا ہے۔ پٹرول پمپ والوں کے اکثر پیمانے خراب ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ادوایات کی قیمتیں ڈبل ہو چکی ہیں۔ جب کہ ضرورت اس کی ہے کہ مہنگائی کو روکا جائے، عوام کیلیے سہولیات فراہم کی جائیں۔ تعلیم اور علاج صرف صاحبِ ثروت لوگوں کی دسترس میں ہے۔ایسا نظام بنائیں جہاں ہر کسی کو سرکاری ملازمت میرٹ پر ملے، پولیس شہریوں کو تحفظ دے۔جہاں عدالت میں مقدمے کا فیصلہ غیر ضروری تاخیر کے بغیر ہو اور جہاں قانون کی گرفت امیر اور غریب دونوں کے لیے یکساں ہو۔شخصیات آتی جاتی رہتی ہیں مگر اچھے ادارے قوموں کیمستقبل کو محفوظ بناتے ہیں۔ عوام دیکھتے ہیں کیا ملک کا حکمران سادہ زندگی گزارتا ہے، اس کیسرکاری ہسپتال میں غریب اور امیر کو یکساں علاج ملتا ہے، اس کے سرکاری اسکول میں غریب کا بچہ بھی معیاری تعلیم حاصل کرتا ہے، پولیس کسی طاقتور کے دبا میں آ کر کمزور پر ظلم نہیں کرتی اور عدالت کسی عہدے یا دولت سے مرعوب نہیں ہوتی۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ سلطنتیں ختم ہو جاتی ہیں، محلات ویران ہو جاتے ہیں اور تخت و تاج عجائب گھروں کی زینت بن جاتے ہیں۔ لیکن جو حکمران عوام کی زندگی بہتر بناتے ہیں، ان کی خدمات نسلوں تک یاد رکھی جاتی ہیں۔سمجھا جائے کہ اقتدار ایک امانت ہے، کسی کی ذاتی ملکیت نہیں۔ عوام حکمرانوں کے لیے نہیں حکمران عوام کی خدمت کے لیے ہوتے ہیں۔ کسی بھی ریاست کی اصل کامیابی اس وقت سامنے آتی ہے جب شہری کو اپنے حقوق کے لیے طاقتور کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔دنیا کا خوبصورت ترین اقتدار وہ نہیں جس میں حکمران سب سے زیادہ طاقتور ہو، بلکہ وہ ہے جس میں عام شہری سب سے بااختیار محفوظ اور مطمئن ہو۔حکمران کی عظمت اس بات میں نہیں کہ کتنے لوگ اس کے سامنے سر جھکاتے ہیں، بلکہ اس میں ہے کہ کتنے لوگوں کی زندگی اس کے دور میں بہتری آئی ہے ۔کیونکہ اقتدار کی اصل خوبصورتی حکمران کے چہروں پر نہیں، عوام کی مسکراہٹ پر نظر آتی ہے۔





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں