بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 15.6°C
Saturday, 24 October 2026 | پاکستان: 14 جمادی الاول 1448

بھارت، اسرائیل، افغانستان کا پاکستان کیخلاف گٹھ جوڑ

Saturday, 24 October, 2026

پاکستان کے حکومتی عہدیداروں اور سکیورٹی اداروں کا مؤقف ہے کہ بھارت، افغانستان اور کچھ بیرونی عناصر پاکستان میں ہونیوالی دہشت گردی اور پراکسی وار میں ملوث ہیں۔ بھارت افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں عدم استحکام اور پراکسی وار کو ہوا دے رہا ہے، جہاں دہشت گردوں کو مالی معاونت اور جدید ہتھیار فراہم کیے جا رہے ہیں۔ پاکستانی حکام بارہا یہ الزام عائد کرتے آئے ہیں کہ افغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہو رہی ہے۔ ستمبر 2026ء میں پاکستان نے افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فضائی کارروائیاں بھی کی تھیں جن میں کئی شدت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئیں ۔ پاکستانی سیاسی و عسکری حلقوں اور میڈیا میں اکثر یہ بحث کی جاتی ہے کہ خطے میں پاکستان مخالف عناصر بالخصوص بھارت، افغان رجیم اور بعض دیگر بیرونی طاقتوں یا خفیہ نیٹ ورکس کے مابین گٹھ جوڑ موجود ہے جو ملکی امن کو سبوتاژکرنے کی کوشش کرتے ہیں۔پاکستان مخالف افغانستان، بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ بے نقاب، سابق بھارتی فوجی افسر کے ہوشربا انکشافات کی وجہ سے انتہا پسند مودی کی پاکستان مخالف سرپرستی اور مذموم سازشوں کا پردہ چاک ہو گیا۔سابق بھارتی فوجی نے بھارت کا پاکستان کے خلاف افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی پشت پناہی کا اعتراف کر لیا کہ فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج پاکستان میں دہشتگرد حملوں کیلئے افغانستان کی زمین استعمال کر رہے ہیں ۔ پاکستان کیخلاف دونوں دہشتگرد تنظیموں کو مالی امداد بھارت جبکہ ہتھیار اور انٹیلی جنس اسرائیل فراہم کر رہا ہے ۔ ان تینوں ممالک کے مفادات مشترکہ اور اہم ہدف پاکستان ہے۔اسرائیل کو پاکستان سے یہ مسئلہ ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے اور اسرائیل کو تاحال تسلیم نہ کرنے والا واحد یہ اسلامی ملک ہے۔اسرائیل پاکستان کے اسرائیل مخالف موقف سے آگاہ ہے اور وقت آنے پر پاکستان اسے بھاری نقصان پہنچا سکتا ہے۔بھارتی افسر کا اعتراف پاکستان کے مؤقف کی واضح توثیق ہے کہ بھارت طویل عرصے سے پراکسیز کے ذریعے پاکستان میں دہشتگردی کی سرپرستی کر رہا ہے ۔ افغانستان کی دہشتگرد تنظیموں کی بھارتی اور اسرائیلی معاونت سے سرگرمیاں پورے خطہ کیلئے سنگین چیلنج بن چکی ہیں۔یہود و ہنود گٹھ جوڑ پاکستان جیسی ایٹمی قوت کے خلاف ناپاک سازشوں سے خطہ میں عدم توازن اور مسلسل انتشار کو ہوا دے رہا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹوں کے مطابق، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسی کالعدم تنظیموں کو افغان سر زمین پر پناہ اور بھارتی مالی معاونت حاصل ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ بھارت دہشت گرد گروہوں کو مالی اور تکنیکی مدد فراہم کر رہا ہے جبکہ مبینہ طور پر اسرائیل سے خفیہ معلومات اور عسکری تعاون کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ رپورٹس میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ افغانستان میں بھارت کی جانب سے مبینہ طور پر ڈرون پرزے اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے کی کوشش کی گئی، جسے پاکستانی فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنایا۔ پاکستانی قیادت نے اس گٹھ جوڑ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی کے خلاف ہونے والی ہر سازش کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔شکست خوردہ بھارت کی افغان طالبان رجیم کی سرپرستی اور پاکستان میں ڈرونز حملوں کے عزائم خاک میں مل گئے ۔ ایک تحقیقاتی رپورٹ نے بھارت کے پاکستان کیخلاف استعمال کیلئے طالبان رجیم کو دئیے گئے ناقص ڈرونز کی قلعی کھول دی ۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق افغانستان افغان طالبان رجیم کی سرپرستی میں دہشت گردوں کا گڑھ بن چکا ہے جہاں 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں۔ دہشت گردوں کیلئے محفوظ ماحول بھارتی ریاستی دہشت گردی کے مذموم ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ دہشت گرد تنظیم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو بھی افغان طالبان کی مکمل حمایت اور بھارت کی مالی معاونت حاصل ہے۔ افغان طالبان رجیم نے جون 2026 میں پاکستان میں ڈرون حملے کا دعویٰ کیا جسے پاک فضائیہ کے دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ افغان طالبان کی جانب سے حملے میں استعمال یہ یو اے ایس ڈرونز افغانستان میں تیاہ شدہ نہیں بلکہ بھارت کے فراہم کردہ ہیں۔ افغانستان نے جون سے جولائی 2026 کے دوران خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں 9 ڈرونز حملے کیے۔ افغان طالبان رجیم کے برآمد شدہ ان ڈرونز کی رینج 50سے270 کلومیٹر تک ہے جو5کلو گرام تک کا وزن اٹھا سکتے ہیں۔ بھارت کی جانب سے دیئے گئے یہ ڈرونز تکنیکی نوعیت کے لحاظ سے کم درجے کے ہیں جن کی صلاحیت بہت محدود ہے۔ پاکستان کے پاس ان ڈرونز سے نمٹنے کیلئے مضبوط دفاعی نظام اور سافٹ کل اور ہارڈ کلِ کی صلاحیت موجود ہے جس سے فضا میں ناکارہ بنایا جا سکتا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق بھارت کی طالبان رجیم کو دی گئی ٹیکنالوجی اور ڈرونز ناقص اور محدود صلاحیت کے ہیں جو پاکستان کے مربوط دفاعی نظام کے سامنے ناکارہ ہو چکے ہیں۔ پاکستانی ٹیکنالوجی اور بہترین حکمت عملی کے باعث افغان طالبان اور بھارت کی مشترکہ سازشیں بھی ناکام ہو چکی ہیں۔ بھارت کی ٹیکنالوجی پہلے بھی معرکہ حق میں فرسودہ ثابت ہو چکی ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *