بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 15.1°C
Wednesday, 28 October 2026 | پاکستان: 18 جمادی الاول 1448

وارث شاہ عادتاں ایویں جاندیاں نیں

Wednesday, 28 October, 2026

قوموں کی زندگی میں کچھ واقعات محض تاریخ کا حصہ نہیں بنتے بلکہ ان کے اجتماعی شعور، مزاج اور طرزِ فکر میں ہمیشہ کے لیے رچ بس جاتے ہیں۔ وقت گزر جاتا ہے، نسلیں بدل جاتی ہیں، حکومتیں آتی اور جاتی رہتی ہیں، مگر بعض تاریخی تجربات قوموں کی نفسیات پر ایسے نقوش چھوڑ جاتے ہیں جنہیں مٹانا آسان نہیں ہوتا۔ فرانس بھی ایسی ہی قوم ہے جس کے مزاج میں انقلاب کی یاد آج تک زندہ ہے۔ دو صدیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود فرانسیسی عوام جب کسی حکومتی فیصلے کو اپنے معاشی مفادات یا بنیادی حقوق کے منافی سمجھتے ہیں تو سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ ان کے نزدیک احتجاج محض ناراضی کا اظہار نہیں بلکہ حکمرانوں کو یہ یاد دلانے کا ایک ذریعہ بھی ہے کہ اقتدار کی حدود ہوتی ہیں اور عوامی اعتماد کے بغیر اس کی بنیادیں کمزور پڑنے لگتی ہیں۔1789 کا انقلابِ فرانس اسی حقیقت کی ایک تاریخی مثال تھا۔ اس وقت فرانس کی بادشاہت مالی بحران سے دوچار تھی، مراعات یافتہ طبقے اصلاحات کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے اور عام آدمی ٹیکسوں، مہنگائی اور خوراک کی قلت کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا۔ ایک طرف شاہی دربار کی شان و شوکت تھی، دوسری طرف عوام کی محرومیاں۔ جب معاشی مشکلات کے ساتھ سیاسی بے اختیاری بھی جمع ہو جائے تو بے چینی رفتہ رفتہ بغاوت کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ باستیل کے قلعے پر دھاوا اسی عوامی اضطراب کی علامت بن گیا۔ آزادی، مساوات اور اخوت کے نعرے فرانس کی سرحدوں سے نکل کر دنیا بھر میں سیاسی تبدیلی کی علامت بن گئے۔تاہم تاریخ کو محض رومانوی انداز میں دیکھنا بھی درست نہیں۔ انقلابِ فرانس اپنے ساتھ تشدد، انتشار اور سیاسی انتہا پسندی بھی لایا۔ جمہوریت کی امیدوں کے درمیان آمرانہ اقتدار اور سلطنتی عزائم نے بھی جنم لیا۔ اس کے باوجود اس انقلاب نے موروثی مراعات اور مطلق العنان حکمرانی کے تصور کو شدید چیلنج کیا اور جدید سیاسی فکر پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ اس کا بنیادی سبق آج بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ حکومت کا جواز صرف قوت، قانون یا اختیار سے پیدا نہیں ہوتا؛ اسے عوام کی ضروریات، توقعات اور رضامندی سے بھی تقویت ملتی ہے۔فرانس میں آج بھی ہڑتالیں، احتجاج اور عوامی مظاہرے سیاسی زندگی کا نمایاں حصہ ہیں۔ پنشن اصلاحات ہوں، محنت کشوں کے حقوق کا معاملہ ہو یا عوامی خدمات میں تبدیلیاں، حکومت کو اکثر شدید عوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض حلقے اس طرزِ عمل کو معاشی ترقی اور جدیدیت کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک مسلسل احتجاج حکومت کی فیصلہ سازی کو کمزور اور اصلاحات کے عمل کو سست کر دیتا ہے۔ لیکن سوال یہ بھی ہے کہ اگر کسی اصلاح کا بیشتر بوجھ عام شہریوں پر پڑے، اگر بڑھتے ہوئے اخراجات سے متوسط اور کم آمدنی والے گھرانوں کی زندگی دشوار ہو جائے اور مراعات یافتہ طبقہ نسبتا محفوظ رہے، تو عوام خاموش کیوں رہیں؟یہاں احتجاج کی اصل معنویت سامنے آتی ہے۔ ہر احتجاج انقلاب نہیں ہوتا اور ہر اختلاف ریاست سے دشمنی کے مترادف نہیں۔ جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے ایک فطری عمل ہے، بلکہ بعض اوقات یہی اختلاف حکومت کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے اور عوامی مشکلات کا ادراک کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ موجودہ فرانس اور 1789 کے فرانس میں واضح فرق ہے۔ آج وہاں آئینی ادارے، انتخابات اور جمہوری طریق کار موجود ہیں، جن کے ذریعے شہری اپنی شکایات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ اس لیے پنشن یا ٹیکسوں پر ہونے والے احتجاج کو مطلق العنان بادشاہت کے خلاف بغاوت کے برابر قرار دینا تاریخ کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنا دینے کے مترادف ہوگا۔ اصل مماثلت اس سیاسی روایت میں ہے جس میں عوام اپنے حقوق اور معاشی انصاف کے معاملے پر آواز اٹھانے کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔معاشی اعداد و شمار بھی ہمیشہ عوامی زندگی کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتے۔ کسی ملک کی معیشت کے مستحکم ہونے کا اعلان کیا جا سکتا ہے، مگر اس استحکام کا حقیقی امتحان اس وقت ہوتا ہے جب عام شہری بازار سے ضروری اشیا خریدنے، گھر کا کرایہ ادا کرنے اور روزمرہ اخراجات پورے کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر قومی معیشت کے اشاریے بہتر ہوں لیکن شہری کی قوتِ خرید مسلسل دبا کا شکار رہے تو اعداد و شمار اور عوامی احساسات کے درمیان خلیج پیدا ہو جاتی ہے۔ یہی خلیج رفتہ رفتہ حکومت پر اعتماد کو کمزور کرتی ہے۔ جب عوام کو یہ محسوس ہونے لگے کہ قربانی کا مطالبہ صرف ان سے کیا جا رہا ہے، تو مسئلہ محض مہنگائی یا ٹیکس کا نہیں رہتا بلکہ انصاف اور مساوات کا سوال بن جاتا ہے۔
(……جاری ہے)

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *