ایک جانب پاکستان بھر میں نئے صوبوں کی با ت ہورہی ہے تو دوسری طرف مبصرین کے مطابق یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ بھارت میں تقریباً 2.64 لاکھ پنچایتوں کا قیام مقامی جمہوریت کے حجم کو ظاہر کرتا ہے، لیکن اداروں کی کثرت عوامی خودمختاری اور انصاف کی ضمانت نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان پنچایتوں کو کتنے حقیقی اختیارات حاصل ہیں اور ترقیاتی فنڈز کس حد تک شفاف انداز میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کیونکہ ذات پات کی تفریق، سماجی امتیاز اور مقامی بااثر طبقات کی اجارہ داری جہاں عوامی نمائندگی کو محدود کرے، وہاں جمہوری دعوے اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔ جمہوریت کا اصل امتحان پنچایتوں کی تعداد نہیں، بلکہ عام شہری کے حقوق، اختیار اور انصاف کا تحفظ ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ تو کرتا ہے، لیکن جمہوریت کا اصل معیار انتخابات کی تعداد، آئینی دفعات یا سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ عام شہری کو حاصل حقوق، مساوی مواقع اور حقیقی اختیارات سے طے ہوتا ہے ۔اس ضمن میں بھارتی پنچایتی نظام اسی دعوے کا ایک اہم امتحان ہے۔ بظاہر یہ نظام دیہی آبادی کو حکمرانی میں شریک کرنے، خواتین کو سیاسی نمائندگی دینے اور محروم طبقات کو بااختیار بنانے کیلئے قائم کیا گیا، لیکن اس کی عملی کارکردگی کے بارے میں کئی بنیادی سوالات موجود ہیں۔ جب مقامی ادارے مالی وسائل کیلئے ریاستی حکومتوں کے محتاج ہوں، ذات پات کی تفریق سیاسی شرکت کو متاثر کرے اور بااثر افراد فیصلہ سازی پر حاوی ہوں تو محض انتخابی عمل کو عوامی خودمختاری کی مکمل کامیابی قرار نہیں دیا جا سکتا۔یاد رہے کہ بھارت میں 73ویں آئینی ترمیم 24 اپریل 1993 کو نافذ ہوئی، جس کے ذریعے پنچایتوں کو آئینی حیثیت دی گئی۔بھارتی آئین کے گیارہویں شیڈول میں دیہی ترقی سے متعلق 29 موضوعات شامل کیے گئے جن میں زراعت، آبپاشی، دیہی سڑکیں، پینے کا پانی، صحت، تعلیم اور غربت کا خاتمہ شامل ہیں۔ اس اقدام کا مقصد اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا اوربھارتی عوام کو اپنے مقامی مسائل کے حل میں شریک کرنا تھا ۔ لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا پنچایتوں کو ان ذمہ داریوں کے مطابق حقیقی اختیارات اور وسائل بھی حاصل ہیں؟بھارتی آئین کا آرٹیکل 243G ریاستی قانون ساز اداروں کو پنچایتوں کے اختیارات اور ذمہ داریاں متعین کرنے کی گنجائش دیتا ہے۔ نتیجتاً، ان اداروں کی عملی خودمختاری ریاستی قوانین، انتظامی فیصلوں اور مالی وسائل پر منحصر رہتی ہے۔ جہاں فنڈز، عملہ اور انتظامی اختیار محدود ہوں، وہاں منتخب نمائندے عوام کے سامنے جواب دہ تو ہوتے ہیں، مگر ان کے پاس مسائل حل کرنے کے خاطر خواہ وسائل ناکافی ہو سکتے ہیں۔یہی بھارتی پنچایتی نظام کا بنیادی تضاد ہے: عوام کو نمائندے منتخب کرنے کا حق دینا ایک بات ہے جبکہ ان نمائندوں کو عوامی مسائل حل کرنے کیلئے بااختیار بنانا دوسری۔ اگر فیصلہ سازی کے اہم اختیارات ریاستی حکومتوں کے پاس رہیں تو مقامی جمہوریت کا دعویٰ اپنی عملی افادیت کھونے لگتا ہے۔بھارتی معاشرے میں ذات پات کی تاریخی تقسیم مقامی سیاست کیلئے ایک سنگین چیلنج رہی ہے۔ مخصوص نشستوں کے ذریعے دلتوں اور درج فہرست قبائل کو نمائندگی فراہم کرنا ایک اہم آئینی اقدام ہے، لیکن نشستوں کی تقسیم بذاتِ خود سماجی امتیاز کا خاتمہ نہیں کرتی۔ بعض علاقوں میں بااثر گروہوں کی اجارہ داری، سماجی دباؤ اور امتیازی رویے محروم طبقات کے نمائندوں کی آزادانہ کارکردگی کو متاثر کر تے ہیں۔یہ صورتِ حال اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ اگر کسی شہری کو آئینی طور پر نمائندگی تو حاصل ہو، لیکن اسے اپنی برادری کے حقوق کیلئے آزادانہ آواز اٹھانے میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے تو اس نمائندگی کی عملی قدر کیا رہ جاتی ہے؟ بھارتی جمہوریت کیلئے محض آئینی تحفظات گنوانا کافی نہیں؛ اسے یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ محروم طبقات اپنے حقوق بلاخوف استعمال کر سکتے ہیں اور مقامی سطح پر امتیازی سلوک کیخلاف مؤثر کارروائی ہوتی ہے ۔ بھارتی پنچایتی نظام میں خواتین کیلئے کم از کم ایک تہائی نشستوں کا آئینی تحفظ موجود ہے، جبکہ متعدد ریاستوں نے یہ شرح بڑھا کر 50 فیصد کر دی ہے ۔ اس سے خواتین کی سیاسی شرکت کے مواقع میں اضافہ ہوا، لیکن منتخب عہدہ حاصل کرنا اور حقیقی اختیار استعمال کرنا دو الگ معاملات ہیں۔اس حوالے سے بعض بھارتی علاقوں میں منتخب خواتین کے بجائے ان کے مرد رشتہ داروں کی جانب سے فیصلوں پر اثرانداز ہونے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ اس رجحان کو ”سرپنچ پتی” کہا جاتا ہے۔ اگرچہ اسے پورے بھارت یا تمام خواتین نمائندوں پر لاگو نہیں کیا جا سکتا، تاہم جہاں یہ مسئلہ موجود ہے وہاں خواتین کی آئینی نمائندگی کی حقیقی معنویت متاثر ہوتی ہے ۔سوال یہ ہے کہ خواتین کو مخصوص نشستیں دینے کے بعد ان کے اختیارات کے تحفظ، انتظامی تربیت اور آزادانہ فیصلہ سازی کیلئے کیا موثر اقدامات کیے گئے؟ اگر ایک منتخب خاتون کو اپنے منصب کے اختیارات استعمال کرنے میں رکاوٹوں کا سامنا ہو تو صرف نمائندگی کے اعدادوشمار پیش کرنا بااختیار بنانے کی کامیابی ثابت نہیں کرتا۔ خواتین کو سیاسی ڈھانچے میں جگہ دینا پہلا قدم ہے؛ انہیں آزادانہ فیصلے کرنے کا اختیار دینا اصل امتحان ہے۔مقامی جمہوریت کی کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ ترقیاتی وسائل کی تقسیم شفاف ہو اور فیصلے ذاتی مفادات یا سیاسی وفاداری کے بجائے عوامی ضرورت کی بنیاد پر کئے جائیں۔ لیکن جہاں بااثر خاندانوں کا دباؤ، سیاسی رقابتیں اور اقربا پروری فیصلہ سازی کو متاثر کریں، وہاں عام شہری کے مفادات پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔گرام سبھا کے اجلاس، عوامی نگرانی، سماجی آڈٹ اور مالی ریکارڈ تک رسائی اس صورتِ حال کو بہتر بنانے کے اہم ذرائع ہیں ۔ اگر یہ اقدامات موثر نہ ہوں تو عوامی شرکت رسمی کارروائی تک محدود ہو سکتی ہے۔حکومتوں اور منتخب نمائندوں کو یہ ثابت کرنا چاہیے کہ عوامی وسائل شفاف انداز میں استعمال ہو رہے ہیں اور شکایات پر بلاامتیاز کارروائی کی جاتی ہے ۔ مبصرین کے مطابق بھارت کا پنچایتی نظام آئینی اعتبار سے مقامی حکمرانی کا ایک اہم ڈھانچہ ہے، لیکن اس کی موجودگی بذاتِ خود جمہوری کامیابی کا سرٹیفکیٹ نہیں کیوں کہ ذات پات پر مبنی امتیاز، خواتین کے اختیارات میں مداخلت، مالی انحصار اور مقامی طاقتور طبقات کا اثرورسوخ جہاں بھی موجود ہو، وہاں جمہوری اداروں کی کارکردگی پر سنجیدہ سوال اٹھتے ہیں۔بھارت اگر اپنے پنچایتی نظام کو جمہوریت کی کامیاب مثال قرار دینا چاہتا ہے تو اسے نعروں اور آئینی دفعات سے آگے بڑھ کر قابلِ تصدیق نتائج پیش کرنا ہوں گے۔ عام شہری کو بنیادی سہولتیں، محروم طبقات کو مساوی حقوق، خواتین کو حقیقی اختیار اور منتخب نمائندوں کو مالی و انتظامی خودمختاری فراہم کیے بغیر مقامی جمہوریت کا مقصد مکمل نہیں ہو سکتا۔





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں