محترمہ بیگم نصرت بھٹو صاحبہ! آپکو ہم سے بچھڑے پندرہ برس بیت گئے، مگر تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو دنیا سے رخصت ہونے کے باوجود اپنے عہد، اپنی جدوجہد اور اپنی قربانیوں کے ذریعے زندہ رہتی ہیں۔ وقت ان کے جسمانی وجود کو ہم سے جدا کر دیتا ہے، لیکن ان کی یادیں آنے والی نسلوں کیلئے سوال بھی چھوڑتی ہیں اور سبق بھی۔آج دل چاہا کہ آپ سے ایک خط کے ذریعے مخاطب ہوں۔ یہ خط محض ایک سیاسی شخصیت کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی کوشش نہیں، بلکہ ایک ایسی عورت کی زندگی کو سمجھنے کی خواہش ہے جس نے اقتدار کی رونقیں بھی دیکھیں، آمریت کی سختیاں بھی برداشت کیں، جمہوریت کی بحالی کیلئے جدوجہد بھی کی اور ذاتی زندگی میں ایسے دکھ سہے جن کا تصور بھی دل کو بوجھل کر دی ایک پردیسی جو پاکستان کی پہچان بن گئی۔محترمہ نصرت بھٹو صاحبہ! آپ ایران کے شہر اصفہان میں پیدا ہوئیں۔ پھر زندگی آپ کو پاکستان لے آئی، جہاں 1951 میں آپ ذوالفقار علی بھٹو کی شریکِ حیات بنیں۔ یہ رشتہ وقت کیساتھ ایک سیاسی خاندان، ایک قومی تاریخ اور پاکستان کی جمہوری جدوجہد کے اہم باب سے جڑ گیا۔آپ کا تعلق کسی دوسرے ملک سے تھا، لیکن آپ نے اپنی زندگی پاکستان میں گزاری اور اسی سرزمین کے سیاسی، سماجی اور قومی حالات کا حصہ بنیں۔ آپکی زندگی یہ احساس دلاتی ہے کہ وطن سے وابستگی صرف جائے پیدائش کا نام نہیں؛ یہ اس سرزمین کے دکھ سکھ میں شریک ہونے، اس کے لوگوں سے تعلق جوڑنے اور مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے رہنے کا نام بھی ہے۔ایک خاتون جو کبھی ایک گھرانے کی شریکِ حیات کی حیثیت سے پہچانی جاتی تھی، وقت کے ساتھ ایک ایسے سیاسی عہد کی علامت بن گئی جس میں ذاتی زندگی اور قومی سیاست ایک دوسرے سے جدا نہ رہ سکے خاتونِ اول سے سیاسی جدوجہد تک جب آپ پاکستان کی خاتونِ اول بنیں تو آپ کی شخصیت، شائستگی اور طرزِ زندگی کا تذکرہ ہوتا تھا۔ لیکن تاریخ میں آپ کی اصل پہچان محض ایک باوقار خاتونِ اول ہونا نہیں، بلکہ وہ کردار ہے جو آپ نے اقتدار کے خاتمے اور سیاسی بحران کے بعد ادا کیا۔5 جولائی 1977 کو جنرل ضیا الحق کی فوجی حکومت کے قیام نے پاکستان کی سیاست کا رخ بدل دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی معزولی اور بعد ازاں مقدمے نے ملک کو ایک ایسے دور میں داخل کر دیا جس میں سیاسی اختلاف، جمہوری آزادیوں اور بنیادی حقوق کے سوالات شدت اختیار کر گئے۔یہ وہ مرحلہ تھا جب آپکی زندگی بھی یکسر بدل گئی۔ اقتدار کے ایوانوں سے نکل کر آپکو عدالتوں، قید و بند، سیاسی دباؤ اور اپنے خاندان کی بے یقینی کا سامنا کرنا پڑا۔ شوہر کی قید اور ان سے ملاقاتوں کی اذیت کسی بھی شریکِ حیات کیلئے ایک کڑا امتحان ہوتی ہے۔ اس دکھ کی پوری شدت وہی محسوس کر سکتا ہے جو اس کیفیت سے گزرتا ہے۔4 اپریل 1979 کو ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دیے جانے کے بعد آپ کی زندگی کا ایک بڑا باب ختم ہوا، لیکن سیاسی جدوجہد کا ایک نیا باب شروع ہو گیا۔آپ نے ذاتی صدمے کو سیاسی استقامت میں بدلنے کی کوشش کی اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کیساتھ جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کیا۔ یہ سفر آسان نہیں تھا، لیکن آپ نے مشکلات کے باوجود اپنی سیاسی وابستگی اور مزاحمت کا راستہ ترک نہیں کیا لاٹھی کے مقابل ایک عزم آپ کی زندگی کی نمایاں یادوں میں لاہور کے قذافی اسٹیڈیم کے قریب پیش آنے والا وہ واقعہ بھی شامل ہے جب جمہوریت کیلئے احتجاج کے دوران آپکو پولیس تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ آپکے زخمی ہونے اور سر سے خون بہنے کے واقعات نے اس دور کی سیاسی سختیوں کو نمایاں کیا۔اس واقعے کی اہمیت محض ایک تصویر یا جسمانی زخم میں نہیں، بلکہ اس عزم میں ہے جو مشکل حالات میں بھی آپ کی جدوجہد کیساتھ وابستہ رہا۔ ایک عورت کا جمہوری حقوق کیلئے میدان میں کھڑا ہونا اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ قیادت کا تعلق صرف عہدے اور اختیار سے نہیں، بلکہ حوصلے، استقامت اور مقصد سے بھی ہوتا ہے۔بعد کے برسوں میں قید، نظر بندی، بیماری اور علاج کیلئے بیرونِ ملک قیام آپکی زندگی کے مشکل مراحل کا حصہ بنے۔ ان حالات نے آپکی صحت اور نجی زندگی کو متاثر کیا، مگر پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جمہوری جدوجہد کے حوالے سے آپ کا نام نمایاں رہا ایک ماں کا دکھ، جو لفظوں میں نہیں سماتا۔بیگم صاحبہ! اب وہ مرحلہ آتا ہے جہاں الفاظ بھی ساتھ چھوڑنے لگتے ہیں۔ ایک ماں کیلئے کوئی اعزاز، کوئی منصب اور کوئی سیاسی کامیابی اولاد کے بچھڑنے کا دکھ ختم نہیں کر سکتی۔ شاہنواز بھٹو کی وفات اور بعد ازاں مرتضی بھٹو کے قتل نے آپ کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ یہ ایسے صدمے تھے جن کی شدت کو کسی سیاسی تجزیے یا چند جملوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔1996 کے بعد آپ بتدریج عوامی سیاسی سرگرمیوں سے دور ہوتی چلی گئیں ۔ آپکی یہ خاموشی اپنے اندر ایک طویل داستان سموئے ہوئے تھی؛ ایک ایسی داستان جس میں سیاسی جدوجہد، خاندانی دکھ اور زندگی کی تلخ حقیقتیں ایک ساتھ موجود تھیں۔آپکے خاندان کے اندر اختلافات بھی وقتا فوقتا موضوعِ بحث بنتے رہے، لیکن ان معاملات پر قیاس آرائی کے بجائے اس انسانی پہلو کو سمجھنا زیادہ ضروری ہے کہ اختلافات اپنی جگہ، ماں اور اولاد کا رشتہ اپنی جگہ۔ ایک ماں کے دل میں خوشی، فخر، اختلاف اور غم کی کیفیات بیک وقت موجود ہو سکتی ہیں، مگر اولاد کی جدائی کا درد اپنی نوعیت میں منفرد ہوتا ہے یادداشت کی دھند اور زندگی کی آخری منزل زندگی کے آخری برسوں میں آپ الزائمر کے مرض میں مبتلا ہوئیں،جس نے آپکی یاد داشت کو متاثر کیا۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جو انسان کی یادوں، پہچان اور روزمرہ زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ ایک ایسی شخصیت جسکی زندگی قومی تاریخ کے کئی اہم واقعات سے جڑی رہی، اس کیلئے یادداشت کا کمزور ہونا یقینا ایک مشکل مرحلہ رہا ہوگا۔23 اکتوبر 2011 کو دبئی میں آپکا انتقال ہوا۔ آپ 82 برس کی تھیں۔ پاکستان میں آپکے انتقال پر ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا اور آپ کو گڑھی خدا بخش میں سپردِ خاک کیا گیا، جہاں بھٹو خاندان کی قبریں پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ایک اہم باب کی یاد دلاتی ہیں۔آپکی وفات کے ساتھ ایک ایسی زندگی کا اختتام ہوا جس میں اقتدار، مزاحمت، قربانی، خاندانی المیے اور سیاسی جدوجہد کے کئی رنگ یکجا تھے ہم آپ کی زندگی سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟بیگم صاحبہ،سیاست میں اختلاف فطری ہے۔ آپکے سیاسی کردار، فیصلوں اور طرزِ قیادت پر بھی بحث ہوتی رہی ہے اور آئندہ بھی ہوتی رہے گی۔ جمہوری معاشروں میں شخصیات کا جائزہ تنقید اور تحسین دونوں زاویوں سے لیا جاتا ہے۔ تاہم آپ کی زندگی کے چند پہلو ایسے ہیں جن سے سبق حاصل کیا جا سکتا ہے۔آپ نے دکھایا کہ حوصلہ ہمیشہ منصب کا محتاج نہیں ہوتا۔ آپکی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ عورتیں بھی نامساعد حالات میں قیادت کا کردار ادا کر سکتی ہیں۔ آپکی جدوجہد یہ پیغام بھی دیتی ہے کہ مشکل وقت میں اپنے موقف پر قائم رہنا آسان نہیں ہوتا اور اس کی قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے ۔ آج کی نوجوان نسل شاید آپکے عہد کی سیاسی پابندیوں، آمریت کے ماحول اور ذاتی آزمائشوں کی پوری شدت کا اندازہ نہ کر سکے، لیکن تاریخ کا مطالعہ اسے یہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ جمہوریت، سیاسی آزادی اور شہری حقوق محض نعروں سے حاصل نہیں ہوتے؛ ان کیلئے مسلسل جدوجہد، سیاسی شعور اور اداروں کی مضبوطی ضروری ہے۔آپکی زندگی کا ایک اہم سبق یہ بھی ہے کہ سیاسی اختلاف کے باوجود انسانی وقار، برداشت اور مکالمے کی اہمیت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ تاریخ کو سمجھنے کا مقصد صرف ماضی کے کرداروں کی تعریف یا مذمت کرنا نہیں، بلکہ ان تجربات سے بہتر مستقبل کیلئے رہنمائی حاصل کرنا بھی ہے آخری سطریں،بیگم صاحبہ! آج جب آپکی پندرہویں برسی پر آپ کو یاد کیا جا رہا ہے تو یہ صرف ایک سیاسی رہنما کی شریکِ حیات کو یاد کرنے کا موقع نہیں، بلکہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ایک ایسے کردار پر غور کرنے کا دن بھی ہے جس نے اپنی زندگی میں کئی کڑے امتحانات کا سامنا کیا۔گڑھی خدا بخش کی مٹی میں آپکی آخری آرام گاہ موجود ہے، لیکن آپ کی زندگی سے وابستہ سوالات، یادیں اور تاریخی واقعات آج بھی ہماری اجتماعی یادداشت کا حصہ ہیں۔ کوئی آپ کو جمہوری جدوجہد کی علامت کے طور پر یاد کرتا ہے، کوئی ایک مضبوط عورت کے طور پر اور کوئی ایک ایسی ماں کے طور پر جس نے زندگی میں ناقابلِ بیان صدمے برداشت کیے۔آج اس خط کے اختتام پر میرے پاس الفاظ سے زیادہ ایک دعا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے، آپ کے درجات بلند کرے اور آپ کے اہلخانہ سمیت تمام سوگواروں کو صبر عطا فرمائے۔ اللہ ہمیں بھی حق، انصاف، جمہوریت اور انسانی وقار کیلئے ثابت قدم رہنے کا حوصلہ دے۔محترمہ بیگم نصرت بھٹو صاحبہ! وقت گزر جاتا ہے، نسلیں بدل جاتی ہیں اور تاریخ کے کئی صفحات پر گرد جم جاتی ہے، مگر کچھ زندگیاں اپنے عہد سے آگے بڑھ کر آنے والے زمانوں کیلئے سوال اور سبق چھوڑ جاتی ہیں۔ آپ کی زندگی بھی انہی داستانوں میں سے ایک ہے۔





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں