
پاکستان کا آئین فراہم کرتا ہے کہ مفت تعلیم پاکستان کے بچوں کا بنیادی حق ہے۔ تاہم ضیا کے دور میں تعلیم کو غیر ملکی کرنے کی پالیسی کے بعد سب سے زیادہ نظر انداز کیا جانے والا موضوع تعلیم
جب ہم تعلیم کی بات کرتے ہیں تو اس میں بنیادی، ثانوی، اعلیٰ ثانوی اور اعلیٰ تعلیم شامل ہے۔پاکستانی نظام تعلیم چار مختلف تعلیمی اداروں پر مشتمل ہے۔ سرکاری اور نیم سرکاری اسکول، نجی اسکول اور مدارس ۔ چاروں مختلف
اسلام فطری مذہب ہے اورپاکستان اسلام کے نام پر معرض وجودمیں آیا۔اسلام کامیابی و کامرانی کا راستہ ہے لیکن وطن عزیز پاکستان میں اسلامی نظام نافذ نہیں کیا گیا ۔ اسلام نے تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے ۔
اگر ہم دنیا میں ترقی یافتہ اقوام کی کامیابی کا راز دیکھیں تو وہ دو عنا صر کی وجہ سے ہے ۔ ایک تعلیم اور دوسری لیڈر شپ یعنی قیادت ۔اگر ہم موجودہ دور میں جاپان، کو ریا ، امریکہ
تعلیم ،صحت اور روزگار کے لحاظ سے پاکستان179ممالک میں 150وےں نمبر پر ہے ےعنی پاکستان ہیومن ڈوےلپمنٹ کے حوالے سے نچلی سطح پر ہے۔ڈاکٹر محبوب الحق نے1988ءمیںاقوام متحدہ کو اےک تجوےز پیش کی کہ دنےا کے ممالک کی ترقی کا
میں خوش قسمت ہوں جسے اس دور میں بھی بابا کرمو جیسی شخصیت میسر ہے۔ بابا جی کی خوبصورتی یہ ہے کہ جس چیز کو وہ اپنے لئے پسند نہیں کرتے وہ یہ دوسروں کےلئے بھی پسند نہیں کرتے ۔