
بھارت کی 14 فیصد سے زائد آبادی پر مشتمل مسلمانوں کی بی جے پی کے دور حکومت میں نمائندگی پانچ فیصد سے بھی کم ہو گئی ہے ۔ مسلمان خواندگی، آمدنی اور تعلیم تک رسائی میں ہندوو ¿ں، عیسائیوں اور
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے بھارت میں مذہبی آزادی کے مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں مسلم اور مسیحی برادری کے ساتھ ناروا سلوک کیا جارہا ہے۔ بھارت میں مسیحی اور
عالمی ذرائع ابلاغ نے بھارت میں حالیہ پارلیمانی انتخابات کے نتائج کو نریندر مودی کے ہندوتوا ایجنڈے کیلئے ایک بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔ مودی کی پارٹی نے اپنی اکثریت کھو دی اور ووٹرز نے ان کے ہندو قوم پرست
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد اپنے عہدے سے استعفی دے دیا جب کہ وہ 8 جون کو ملک کے نئے وزیراعظم کا حلف اٹھائیں گے۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کا انتخابی اتحاد
سوموارکے روز بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بہار کے تین اضلاع میںکئی انتخابی ریلیوں سے خطاب کے سلسلے میں مظفرپور میں کیے گئے اپنے خطاب کے دوران پاکستان کا خصوصی طور پر ذکر کیا اور طنز کیا کہ وہ
امریکا میں بھارت کی ناکام قاتلانہ سازش کا شکار سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف عالمی عدالت میں جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عالمی عدالت میں مودی کے خلاف مقدمات قائم
مودی سرکار نے ایک بار پھر کشمیریوں کو عید الفطر کی نماز سری نگر کی عیدگاہ میں ادا کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔اس حوالے سے بی جے پی رہنما اور مقبوضہ علاقے کے وقف بورڈ کی
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی انتخابات میں کشمیریوں کے ووٹ حاصل کرنے اور مقبوضہ وادی میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کےلئے وادی کا دورہ کر رہے ہیں۔ جبکہ کل جماعتی حریت کانفرنس نے نریندر مودی کے مقبوضہ جموں کشمیر کے
مودی حکومت خطے کے ممالک کی سلامتی اور امن کےلئے مسلسل خطرہ بنتی جا رہی ہے ۔ مودی خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کی بجائے ہندو توا ازم کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔مودی کی ان پالیسیوں کی وجہ