

تل ابیب :حزب اللہ کے ساتھ نئی جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے لبنان پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جس سے امریکا-ایران معاہدے کے ٹوٹنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل اور حزب اللہ نے اس

تہران :ایرانی مسلح افواج کے مرکزی کمانڈ خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنی عسکری کارروائیاں جاری رکھیں تو اسے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ایرانی فوجی ترجمان کی
دوحہ:قطر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کا پہلا دور بے نتیجہ ختم ہوگیا۔فلسطینی حکام نے مقف اختیار کیا کہ مذاکرات کیلئے آئے اسرائیلی وفد کے پاس حتمی معاہدے تک پہنچنے کیلئے اختیارات نہیں تھے۔ اسرائیلی وزیراعظم
مقبوضہ بیت المقدس: غزہ میں اسرائیلی بمباری سے حماس کے بانی رہنما محمد عیسی العیسی شہید ہوگئے، حزب کمانڈر بھی شہید کرنے کا دعوی کیا گیا، اسرائیل کی کئی مقامات پر بمباری سے 72 نہتے فلسطینی بھی جاں بحق ہوئے۔اسرائیلی
مقبوضہ بیت المقدس :اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے مسافر یطا میں 13 فلسطینی بستیوں میں تمام عمارتیں مسمار کرنے کا اعلان کر دیا۔اقوام متحدہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اگر یہ منصوبہ عملی طور
خان یونس:اسرائیل کی ایران سے جنگ بند ہونے کے بعد غزہ میں دہشت گردی میں اضافہ ہو گیا، امداد کے منتظر 80 سے زیادہ فلسطینی شہید کر دیے۔قطری نشریاتی ادارے کے مطابق اسرائیل کی جانب سے غزہ میں بمباری اور
ایران کے اسرائیل پر تابڑتوڑ میزائل حملوں نے دنیا کو حیران پریشان کرکے رکھ دیاہے تل ابیب اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں جگہ جگہ آگ لگی ہوئی ہے عمارتیں کھنڈر بن گئی ہیں شاید یہ ابھی شروعات
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ اسرائیل ایران جنگ میں عالمی برادری نے مداخلت نہ کی تودنیاوی امن خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ پنجاب کے ضلع شیخوپورہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا تنویر حسین کا
ایران کے مغربی اور شمال مغربی علاقوں میں اسرائیلی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے تبریز، لرستان، ہمدان اور کرمانشاہ کے کچھ علاقوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ایران کے شمال مغربی شہروں میں اہم دفاعی
تہران، یروشلم (مانیٹرنگ ڈیسک)اسرائیل نے ایران پر فضائی حملہ کرتے ہوئے جوہری اور فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا ہے، ان حملوں میں مسلح افواج کے سربراہ جنرل محمد باقری، پاسداران انقلاب کے سربراہ جنرل حسین سلامی سمیت