

جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد(مرحوم) کی اپیل پر ١٩٩٠ سے ہر سال حکومت پاکستان 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر مناتی چلی آ رہی ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان ٥ فروری کو پورے پاکستان اور دنیا میں کشمیر
آج بھی کشمیر ظلم کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ لاکھوں جانیں اس جدوجہد میں قربان ہو چکی ہیں۔ بطور مسلمان اور انسان، ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم کشمیری عوام کی آواز بنیں، ان کے حقوق کی حمایت کریں
قارئین کرام!یوں توگزشتہ سات دہائیوں سے پاکستان کاازلی دُشمن اورخطہ میں دہشتگردوں کاسہولت کار بھارت مقبوضہ جموں کشمیرپرظلم وجبرکے پہاڑتوڑرہاہے اور پاکستان کی مسئلہ کشمیر اورمظلوم کشمیریوں کیلئے بھارت سے جنگیں بھی ہوچکی ہیںلیکن 5 اگست 2019 ء کوبھارتی فاشسٹ
ہٹلر صفت اور دہشت گرد تنظیم راشرٹیہ سویم سیوک سنگھ کا بنیادی ممبر، وزیر اعظم بھارت نریندر مودی نے ٥اگست ٢٠١٩ء کو غیر قانونی، غیر آئینی،غیر اخلاقی طور پر بھارتی آئین میں درج دفعہ ٣٧٠ کو بغیر کشمیرکی پارلیمنٹ کے
کشمیر۔خطہ جنت نظیر۔کیلئے یوں تو عظیم شہداء کا لہو گواہ ہے لیکن 13جولائی 1931کادِن کشمیریوں کی تاریخ کا ایک ایسا خون آشام دِن ہے جب سری نگرمیں 22بے گناہ مسلمانوں نے ”اللہ اکبر”کی صدابلند کرتے ہوئے اوراذان دیتے ہوئے شہیدہوکرتحریک
13 جولائی کا دن کشمیر کی تاریخ میں ایک ایسا موڑ ہے جو ظلم کے اندھیروں میں روشنی کی کرن بن کر ابھرا۔ ہر سال پاکستان اور دنیا بھر کے کشمیری اس دن کو یومِ شہدا کشمیر کے طور پر
مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے ریاستی دہشت گردی کرتے ہوئے 5 نوجوانوں کو شہید کر ڈالا۔ گھر گھر تلاشی کے دوران متعدد نوجوانوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔ بھارتی فوج نے بارہ مولا اور نواحی علاقوں کا محاصرہ کرکے موبائل
استحصال کالفظ وسیع مفہوم کیساتھ ظلم وزیادتی اور کسی کی حق تلفی کر کے خود کو فائدہ دینا کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے استحصال نسلی۔ لسانی،گروہی طبقاتی شکل میں بھی ہوتا ہے مگر سب میں ایک چیز مشترک ہوتی
کشمیر جنت نظیر کی مٹی کی خاصیت ہے کہ یہاں کے خون میں شہادت اور آزادی کا ایسا جذبہ ہے جو کبھی ٹھنڈا نہیں ہوا اور آج دہائیوں کے ظلم و ستم کے باوجود کشمیری نوجوان اپنے حق خودارادیت کیلئے
بھارت میں عام انتخابات کے چوتھے مرحلے میں ووٹنگ کا عمل مکمل ہوگیا۔جس میں 9 ریاستوں اور مقبوضہ کشمیر سمیت 96 نشستوں پر ووٹ ڈالے گئے جہاں مجموعی ٹرن آو ¿ٹ 62.9 فیصد رہا۔2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے