
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ملک میں معاشی بحران ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ لاہور میں جماعت اسلامی پنجاب کی آل پارٹیز کانفرنس سے حافظ نعیم الرحمان اور پی پی کے حسن مرتضی نے
اس وقت پاکستان معاشی بحران کا شکار ہے اور یہ معاشی بحران سیاسی عدم استحکام کا شاخسانہ ہے ۔ ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبا جا رہا ہے ۔ چند خاندان اور افراد کی دولت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے
وزیراعظم پاکستان ملک کومعاشی بحران سے نکالنے کے لئے سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ جلد ازجلد معاشی بحران ختم ہو اورملک اپنے قدموں پرکھڑا ہوسکے۔اس مقصد کے لئے ملک کے اندرموجودمعدنیات کونکالنے اورانہیں عالمی مارکیٹ
مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ میری جماعت کی پہلی ترجیح معاشی بحران حل کرنا ہے پی ٹی آئی دور میں معیشت کو تباہ وبرباد کردیا گیا ، اللہ نے موقع دیا تو ترقی کا
یہ بات تو طے شدہ ہے کہ جس ملک میں سیاسی عدم استحکام ہو وہاں پر کاروبار اورسرمایہ کاری کے حالات سست ہوجاتے ہیں کیونکہ سرمایہ کار پُرسکون رہ کراپنے سرمایہ کاتحفظ اور بہتر منافع کاخواہشمندہواکرتاہے ۔بدقسمتی سے پاکستان میں
سعودی عرب پاکستان کاعظیم دوست ،برادرہمسایہ ملک ہے جس نے ہرآڑے وقت میں پاکستان کی دل کھول کرمددکی اور پاکستان کو اپنے جسم کاایک حصہ تصور کیا۔ پاکستان میں ہر آنیوالی قدرتی ناگہانی آفات کے موقع پر سعودی عرب نے
ملک میں بدترین معاشی اور سیاسی بحران کے دوران ڈالر کی اونچی اڑان. امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بدترین تنزلی کا تسلسل دوبارہ شروع ہو گیا۔گزشتہ ہفتے کے دوران روپے کی قدر بالترتیب 71 پیسے اور 42 پیسے
ملک اس وقت اپنی تاریخ کے دور کے سب سے مشکل ترین معاشی بحران سے گزررہاہے مگر سیاستدانوں کے مابین میوزیکل چیئرگیم جاری ہے ۔ان سیاستدانوں کو ملکی سالمیت اورملکی معیشت کی کوئی پرواہ نہیں بلکہ یہ ہرقیمت پر اقتدار