بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 30.3°C
Monday, 15 June 2026 | پاکستان: 30 ذوالحجۃ 1447

امریکہ، بھارت تعلقات!

Saturday, 13 December, 2025

امریکہ اور بھارت کے درمیان دس سالہ دفاعی فریم ورک معاہدے پر دستخط جنوبی ایشیا کی سیاست اور سلامتی پر گہرے اثرات ڈالنے والا واقعہ ہے۔ اکتیس اکتوبر دو ہزار پچیس کو طے پانے والا یہ معاہدہ بظاہر دفاعی تعاون کا اعلان ہے، مگر دراصل ایک نئی صف بندی کی شروعات ہے جو آنے والے برسوں میں خطے کے طاقت کے توازن کو بدل سکتی ہے۔ معاہدے کے تحت دونوں ممالک عسکری ٹیکنالوجی کے تبادلے، مشترکہ مشقوں، خفیہ معلومات کے اشتراک اور دفاعی صنعت میں سرمایہ کاری پر متفق ہوئے ہیں۔ واشنگٹن اور نئی دہلی کے وزرائے دفاع نے اسے امن و استحکام کے لیے اہم قرار دیا ہے، مگر عالمی مبصرین کے نزدیک اس کا اصل مقصد چین کے بڑھتے ہوئے اثر کو محدود کرنا ہے جو کسی بھی صورت خطے کے مفاد میں نہیں۔امریکہ ایشیائی خطے میں اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے بھارت کو ایک مرکزی اتحادی کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ دوسری جانب بھارت کے لیے یہ معاہدہ جدید امریکی ٹیکنالوجی، ہتھیاروں اور دفاعی سہولتوں تک رسائی کا ذریعہ بنے گا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اس تعاون سے بھارت کو مصنوعی ذہانت، ڈرون، سائبر دفاع اور میزائل نظام میں نمایاں برتری حاصل ہو سکتی ہے۔یہ صورت حال جنوبی ایشیا کے توازن کے لیے چیلنج بن چکی ہے۔ پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی ہمیشہ طاقت کے توازن کے اصول پر مبنی رہی ہے، مگر امریکہ اور بھارت کا بڑھتا ہوا اشتراک اس توازن کو بگاڑ سکتا ہے۔ اسلام آباد کے لیے یہ محض ایک علاقائی پیش رفت نہیں بلکہ ایک نئی سفارتی آزمائش بھی ہے۔ پاکستان کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم وزارتِ خارجہ کے قریبی ذرائع کے مطابق اسلام آباد اس پیشرفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ایک غیر رسمی بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اسلحے کی دوڑ یا بلاک بندی کی سیاست کا حصہ نہیں بننا چاہتا، لیکن ایسی سرگرمیوں سے علاقائی استحکام متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے۔چین نے بھی اس معاہدے پر محتاط ردِعمل دیا ہے۔ بیجنگ کے مطابق واشنگٹن کا یہ قدم خطے میں تعاون کے بجائے تصادم کی فضا پیدا کرے گا۔ چین کا یہ موقف ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان جاری کشیدگی اب دفاعی اتحادوں کے ذریعے ایک نئی شکل اختیار کر رہی ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *