بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 31.9°C
Monday, 15 June 2026 | پاکستان: 30 ذوالحجۃ 1447

مجھ پر کتنا ہی دبا ڈالا جائے معاشی ترقی کو تیز نہیں کرونگا، وزیر خزانہ

Tuesday, 7 January, 2025

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے معاشی نمو کے تیز ہونے کے امکان کو مسترد کر دیا اور قرضوں کے ذریعے ترقی کے ماڈل پر استحکام کو ترجیح دی ہے جبکہ گورنر ااسٹیٹ بینک جمیل احمد نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اہم ڈھانچہ جاتی اصلاحات کو تیز کرے تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر پر کسی دبا سے بچا جا سکے اور معیاری صحت اور تعلیم پر زیادہ خرچ کیا جا سکے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کے دوران وزیر خزانہ نے شرح سے قطع نظر ٹھوس اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے اپنے وعدوں پر زور دیا اور کہا کہ یہ سب پر واضح ہو جائے کہ مجھ پر کتنا ہی دبا ڈالا جائے، میں معاشی ترقی کو تیز نہیں کروں گا۔ محمد اورنگزیب کا یہ بیان کراچی اور لاہور میں تاجر برادری کے ساتھ ملاقاتوں اور اڑان پاکستان کے عنوان سے پانچ سالہ اقتصادی منصوبے کے آغاز کے چند دن بعد آیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کاروباری برادری نے ملک کے اہم فیصلہ سازوں پر دباو ڈالا کہ وہ معیشت کو آگے بڑھنے دیں۔ وزیر خزانہ کا کہناتھا کہ ہم ایسا کچھ نہیں کریں گے جس سے ادائیگیوں کے توازن میں مسئلہ پیدا ہو اور حکومت آئی ایم ایف پروگرام کے لیے پرعزم ہے۔ محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ پائیدار ترقی صرف برآمدات کو بڑھا کر حاصل کی جا سکتی ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال میں معاشی نمو 2.5 فیصد سے 3.5 فیصد کی حد میں رہے گی جو کہ سرکاری ہدف سے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلی سہ ماہی میں معاشی سرگرمیاں سست رہیں لیکن حال ہی میں اس میں تیزی آئی۔ مرکزی بینک کے گورنر نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ اصلاحات کو تیز کرنے کے لیے اقدامات کرے۔ صحت اور تعلیم پر بھی کم ترین سطح پر ہے، گورنر نے کہا کہ ساختی اصلاحات کی رفتار کو تیز کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر زرمبادلہ کے ذخائر پر دباو پڑے گا جو 2.2 ماہ کے مساوی امپورٹ کور کی نچلی ترین سطح میں سے ایک پر رہیں گے۔ گورنر نے یہ بھی کہا کہ مرکزی بینک نے بھی درمیانی مدت کے افراط زر کا ہدف 5 فیصد سے 7 فیصد تک حاصل کر لیا ہے لیکن اس میں خطرات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سال اپریل سے ستمبر تک مہنگائی دوبارہ بڑھنے کی توقع ہے۔ گیس کی قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے قیمتوں میں کچھ اتار چڑھاو بھی آئے گا جبکہ رواں مالی سال کے دوران اوسط مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں رہے گی اور آئندہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے بعد مہنگائی کی شرح دوبارہ مستحکم ہو جائے گی۔وزیر خزانہ نے چکن کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پرائس مانیٹرنگ کمیٹیاں اس کا نوٹس کریں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ سنگل ہندسوں کی شرح سود گھر اور کاروں کی خریداری کے لیے قرض لینا زیادہ قابل عمل بناتی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ شرح سود میں کمی سے کمپنیوں کی قرض لینے کی لاگت آدھی ہو گئی ہے لیکن صنعت اب بھی مشکل صورتحال سے گزر رہی ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک کا کہناتھا کہ رواں مالی سال میں شرح سود میں زبردست کٹوتیوں سے حکومت کو 1.5 ٹریلین روپے کے قرض کی بچت ہو گی۔جمیل احمد نے کہا کہ کرنٹ اکاونٹ کے دوبارہ دسمبر میں سرپلس رہنے کی توقع ہے ، ترسیلات زر اور زیادہ برآمدات کی وجہ سے رواں مالی سال کے دوران کرنٹ اکاونٹ سرپلس میں رہا۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *